الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَا جَاءَ فِي التَّغْلِيسِ بِهَا وَالْإِسْفَارِ
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ( (أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ (أَوْ قَالَ: هَٰذَيْنِ) وَقْتٌ) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12143»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 271
حدیث نمبر: 1181
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ) )
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجر کو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 424، وابن ماجه: 672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17389»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابوداود: 424
حدیث نمبر: 1182
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411
حدیث نمبر: 1183
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِهَا) )
سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411
حدیث نمبر: 1184
عَنْ أَبِي زِيَادٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَفْضَحَهُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: ( (إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ( (لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا) )
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نہ نکلے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات الا انه منقطع بين عبيد الله بن زيادة وبلال بن رباح۔ أخرجه ابوداود: 1257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24407»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات الا انه منقطع بين عبيد الله بن زيادة وبلال بن رباح۔ أخرجه ابوداود: 1257
27. بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ ذِمَّتَهُ، فَإِنَّهُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يُكِبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کی ضمانت کو نہ توڑنا اور جس نے اس کی ضمانت کو توڑ دیا تو وہ اس کو طلب کرے گا اوراس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 3342، وأخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 13210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5898»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 3342
حدیث نمبر: 1186
عَنْ جُنْدُبِ (بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ) )
سیدنا جندب بن سفیان بَجَلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں آ جاتا ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ نہ دینا اور ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19010»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 657
حدیث نمبر: 1187
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ذِمَّتِهِ) )
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں آ جاتا ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو توڑ نہ دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3946، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20374»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3946
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ) ) يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا
ابو عمیر بن انس اپنے چچوں، جو کہ صحابہ تھے، سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق ان دو نمازوں میں حاضرنہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد فجر اور عشا کی نمازیں تھیں، ابو بشر راوی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ منافق اِن دو نمازوں کی ادائیگی پر دوام اختیار نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1188]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20856»
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
حدیث نمبر: 1189
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ لَأَتَوْهَا أَجْمَعُونَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ آتِيَ أَقْوَامًا يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا أَوْ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے لیے موٹی تازی بکری کے دو کھر یا کوئی ہڈی بنائی جائے تو یہ سارے لوگ اس کے لیے آ جائیں گے، اگر ان کو پتہ چل جائے کہ عشا اور فجر میں کتنا ثواب ہے تو یہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ ان کو گھسٹ کر آنا پڑے، اور تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہوں اور ان کو جلا دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 657، ومسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10221»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 657