🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: مَوْلَى لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَوَاللَّهِ! لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ! لَوْلَا أَنْ أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا
سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ خلیفۂ رسول سیدنا عمر ؓ نے اس کو عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کرتے ہوئے دیکھا، پس وہ اس کی طرف گئے اور اس کو نماز کی حالت میں دُرّہ لگا دیا، لیکن جب سیدنا زید ؓفارغ ہوئے تو انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! چونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے بعد تو میں یہ عمل ترک نہیں کروں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ؓان کے پاس بیٹھے اور کہا: اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ اس نماز کو رات تک نماز پڑھتے رہنے کا ذریعہ بنا لیں گے تو میں ان کی وجہ سے نہ مارتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي سعيد الاعمي، ولجھالة السائب مولي الفارسيين۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 5167، وعبد الرزاق: 3972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17162»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي سعيد الاعمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے آلِ زبیر کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کی تھیں، پس آل زبیر کے لوگ یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، لیکن سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، ان دو رکعتوں کی وجہ یہ تھی کہ کچھ بدّو لوگ دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور سوال کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے جوابات دینے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر ادا کی اور پھر بعد والی دو سنتیں ادا کیے بغیر ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے سوالات کے جوابات دینے لگ گئے، یہاں تک کہ نماز عصر ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لے گئے تو آپ کو یاد آیا کہ ظہر کے بعد والی نماز نہیں پڑھی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ دو رکعتیں عصر کے بعد ادا کیں، اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہؓ کو معاف کرے، ہم سیدہ کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 4900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21948»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 4900
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ فَدَخَلَ شَابَّانِ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتُمَاهَا وَقَدْ كَانَ أَبُوكُمَا يَنْهَى عَنْهَا، قَالَا: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا عِنْدَهَا، فَسَكَتَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمَا شَيْئًا
عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓکی اولاد میں سے دونوجوان داخل ہوئے اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیں، انھوں نے اُن کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلا کر کہا: یہ کون سی نماز ہے، جو تم نے پڑھی ہے، تمہارا باپ تو اس سے منع کرتا تھا؟ انھوں نے کہا: سیدہ عائشہ ؓ نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس دو رکعتیں ادا کی تھیں، یہ سن کر سیدنا ابن مغفل ؓخاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22693»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: وَهَمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عمر ؓ کو غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت اہتمام کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25444»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 833
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ مَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَقَالَ: يَا يَسَارُ! كَمْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَٰذِهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ: ( (أَلَا لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ) )
مولائے عبد اللہ بن عمر یسار کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ؓ نے مجھے طلوع فجر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور کہا: یسار! کتنی نماز پڑھ چکے ہو؟ میں نے کہا: جی یہ تو میں نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تو نہ جاننے پائے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم یہی نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! موجود لوگ غائب لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ طلوع فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، ما سوائے دو رکعتوں کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 235، والترمذي: 419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5811»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 235
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُيَيِّ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَوْ قِيلَ لَهُ: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ؟ قَالَ يَعْلَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ) ) قَالَ لَهُ يَعْلَى: فَأَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ
حُیَی بن یعلی بن امیہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا یعلی ؓ کو طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ایک آدمی نے ان سے کہا: تم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو اور طلوع آفتاب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہو؟ سیدنا یعلیؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر سیدنا یعلی ؓ نے کہا: اب اگر طلوع آفتاب کے وقت تم اللہ کے حکم میں لگے ہوئے ہو تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ سورج طلوع ہو رہا ہو اور تم غافل ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن حيي وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18123»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا وَعِنْدَ الِاسْتِوَاءِ
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا نِصْفَ النَّهَارِ فَإِنَّهُ عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ) )
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت اس کو کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، اور نہ غروب ِ آفتاب کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کافر لوگ اس وقت اس کو سجدہ کرتے ہیں اور نہ نصف النہار یعنی زوال کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22600»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 832
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَتَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ، فَإِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلَا تُصَلُّوا حَتَّى تَغِيبَ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کے طلوع اور غروب ہوتے وقت نماز کا قصد نہ کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب سورج کا کنارہ طلوع ہو جائے تو اس کے بلند ہو جانے تک نماز نہ پڑھو، اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونے لگے تو اس کے غائب ہو جانے تک نماز نہ پڑھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 582، 583، ومسلم: 828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4612»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا حِينَ تَسْقُطُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ) )
سیدہ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 69973، والطيالسي: 896، وابن ابي شيبة: 2/ 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20431»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 69973
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1218
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى إِذَا طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ أَوْ غَابَ قَرْنُهَا، وَقَالَ: ( (إِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ أَوْ مِنْ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ) )
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، جب سورج کا کنارہ طلوع ہو رہا ہو یا اس کا کنارہ غروب ہو رہا ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22000»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں