🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا وَعِنْدَ الِاسْتِوَاءِ
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
عَنْ بِلَالٍ (بْنِ رِبَاحٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي الشَّيْطَانِ
سیدنا بلال بن رباح ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی وقت نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا جاتا تھا، ماسوائے طلوع آفتاب کے وقت کے، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطيالسي: 1117، وابن ابي شيبة: 2/ 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24384»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطيالسي: 1117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1220
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ وَمِنْ حِينَ تَصَوَّبُ حَتَّى تَغِيبَ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور اسی طرح (اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا) جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه بنحوه مسلم: 833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24964»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه بنحوه مسلم: 833
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. فَصْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ بِمَكَّةَ
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1221
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخَذَ بِحَلْقَةِ بَابِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ) )
سیدنا ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کے کڑے کو پکڑا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، مگر مکہ میں، مگر مکہ میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: الا بمكة، الا بمكة وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل، وبينه وبين قيس فيه حميد مولي عفراء، وھو ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 851، والبيھقي: 2/ 461، وابن خزيمة: 2748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21794»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا جبیر بن مطعم ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَابَنِیْ عَبْدِ مُنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ اَوْ صَلّٰی اَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ اَوْ نَھَارٍ۔)) … اے بنو عبد ِ مناف! تم نے کسی کو نہیں روکنا، جو کوئی دن اور رات کی گھڑی میں جب چاہے، اس گھر کا طواف کرے یا اس میں نماز پڑھے۔ (ابوداود: ۱۸۹۴، ابن ماجہ: ۱۲۵۴، ترمذی: ۸۶۸، نسائی: ۱/ ۲۸۴)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: الا بمكة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب
۔۔۔
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: Q1222]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا عِنْدَ ذِكْرِهَا
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1222
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَإِنَّمَا كَفَّارَتُهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَكَفَّارَتُهَا) أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز کو بھول گیا یا اس سے سو گیا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس کو یاد آئے وہ اس کو ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 597، ومسلم: 684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11995»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 597
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1223
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ غَفَلَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي}) )
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز سے سو جائے یا اس سے غافل ہو جائے تو جب اس کو یاد آئے، وہ اس کو ادا کرے، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ (سورۂ طٰہٰ:۱۴) [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12940»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12940
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا هَمَّامٌ أَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: أَحْسِبُهُ مَرْفُوعًا: ( (مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَذْكُرُهَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ) )
سیدنا سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو وہ اِس کو اُس وقت ادا کرے، جب اسے یاد آئے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 6978، والبزار: 397، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20521»
وضاحت: فوائد: … اِس حدیث کے آخری جملے کا راجح معنی یہ ہے: ایسے بندے کو چاہیے کہ ایسی نماز کو اگلے دن سے اس کے وقت پر ادا کرے اور نماز کو اس کے وقت کے بعد ادا کرنا، اس کو اپنی عادت نہ بنا لے، جیسا کہ صحیح مسلم کی سیدنا ابو قتادہ ؓکی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((… فَلْیُصَلِّھَا حِیْنَ یَنْتَبِہُ لَھٗا، فَاِذَا کَانَ الْغَدُ فَلْیُصَلِّھَا عِنْدَ وَقْتِھَا۔)) … پس جب وہ جاگے تو وہ نماز ادا کر لے، لیکن اگلے دن اس کو وقت پر ہی ادا کرے۔ اس جملے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ایسا آدمی ایسی نماز کو دوسرے دن وقت پر دوبارہ ادا کرے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 6978
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1225
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَقُومُ دَهْشًا إِلَى طَهُورِهِ، قَالَ: فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْكُنُوا، ثُمَّ ارْتَحَلْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّيْنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نُعِيدُهَا فِي وَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ: ( (أَيَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟) )
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: اينھاكم ربكم۔ وھذا اسناد منقطع، الحسن البصري لم يسمع من عمران۔ ھذا حديث طويل، وأخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 344،348، 3571، ومسلم: 682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20206»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: اينھاكم ربكم ۔ وھذا اسناد منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ أَدْرَكَهُمْ مِنَ التَّعْبِ مَا أَدْرَكَهُمْ مِنَ السَّيْرِ فِي اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ عَرَّسْنَا) ) فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ، فَقَالَ: ( (انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟) ) قُلْتُ: هَٰذَا رَاكِبٌ هَٰذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً، فَقَالَ: ( (احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا) ) فَنَمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَهَبْنَا، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: ( (أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِيَ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: ( (ائْتِ بِهَا) ) فَقَالَ: ( (مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا) ) فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ: ( (ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأُ) ) ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ) ) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ: ( (لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطَ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا) )
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، رات کو چلنے کی وجہ سے تھکاوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کی طرف مڑے اور وہاں اتر گئے اور فرمایا: دیکھو، کوئی نظر آ رہا ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو سوار ہیں، یہاں تک کہ یہ تعداد سات افراد تک پہنچ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پس ہم سو گئے اور ہمیں سورج کی گرمی نے جگایا اور ہم ڈر گئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ایک برتن ہے، اس میں کچھ پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤں۔ پھر فرمایا: اس سے چھوؤ، اس سے چھوؤ۔ لوگوں نے اس سے وضو کیا اور ایک گھونٹ باقی بچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! اس پانی کی حفاظت کرو، عنقریب اس کے لیے بڑی خبر ہو گی۔ پھر سیدنا بلال ؓ نے اذان، فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نمازِ فجر ادا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم نے نماز میں کمی کی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی معاملہ ہے تو خود کر لو اور اگر دین کا معاملہ ہے تو میری طرف لے آؤ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میں کمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیند کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کمی تو جاگنے کی صورت میں ہوتی ہے، پس اگر ایسے ہو جائے تو اِس نماز کو پڑھ لیا کرو اور اگلے دن وقت پر ادا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22913»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1227
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ لَيْلًا فَنَزَلْنَا دَهَاسًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: ( (مَنْ يُطِرُّنَا؟) ) فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، قَالَ: إِذًا تَنَامُ، قَالَ: لَا، فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفِيهِمْ عُمَرُ، فَقَالَ: اهْضِبُوا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (افْعَلُوا مَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ) ) فَلَمَّا فَعَلُوا قَالَ: ( (هَٰكَذَا فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو حدیبیہ سے واپس آرہے تھے، ہم نے نرم زمین پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہماری حفاظت کرے گا؟ سیدنا بلال ؓ نے کہا: جی میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے۔ لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، لیکن وہ سو گئے اور سیدنا عمر ؓسمیت فلاں فلاں آدمی پہلے بیدار ہوئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: باتیں کرو باتیں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو جائیں)۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا: اسی طرح کرو، جیسے تم کرتے ہو۔ پس انھوں نے اسی طرح کیا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح کیا کرو، یہ حکم اس کیلئے ہے جو تم میں سے نماز سے سو جائے یا بھول جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10549، والطيالسي: 377، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3657»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 10549
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں