🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابُ جَامِعِ أَوْقَاتِ النَّهْيِ
نہی کے اوقات کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1199
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعُ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو تین گھڑیوں میں نماز پڑھنے سے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کرتے تھے، جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے اور جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17512»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 831
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1200
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ: ( (وَمَا هُوَ؟) ) قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ) )
سیدنا صفوان بن معطل سلمی ؓ سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں، جس کو آپ جانتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیا دن اور رات میں ایسی گھڑیاں بھی ہیں، جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو نمازِ فجرپڑھ لے تو طلوع آفتاب تک مزید نماز پڑھنے سے رک جا، جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک وہ نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک سورج نیزے کی طرح تیرے سر کے برابر ہو جائے، پس جب وہ تیرے سر کے برابرہو جاتا یہ تو اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے، پس جب وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ تو نماز عصر ادا کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22038»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1252
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1201
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا، الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ) )
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازیں ہیں، ان کے بعد مزید نماز نہیں پڑھی جاتی، ایک نمازِ فجر ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور دوسری نمازِ عصر ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 773، وابن حبان: 1549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1469»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 773
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1202
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1197، 1864، 1995، و مسلم: 827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11901 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11923»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1203
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ أَوْ تَضْحَى) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور نمازِ فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے یا چاشت کا وقت ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 582، 583، ومسلم: 828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5010»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1204
عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدِّهِ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ الْقُرَشِيِّ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ بَعْدَ الْعَصْرِ أَوْ بَعْدَ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلِّ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ) )
نصر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دادے سیدنا معاذ بن عفراء قرشی ؓ کے ساتھ عصر یا فجر کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن انھوں نے طواف کی نماز ادا نہ کی، جب نصر نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، نمازِ فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے او رنمازِ عصر کے بعد یہاں تک سورج غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18090»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ (بْنُ الْخَطَّابِ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پسندیدہ لوگوں نے میرے پاس شہادت دی اور ان میں مجھے سب سے پسندیدہ سیدنا عمر بن خطاب ؓہیں، شہادت یہ دی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 581، ومسلم: 826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 110»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 581
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. فَصْلٌ فِيمَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ) )
سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصر کے بعد نماز نہ پڑھا کرو، ہاں جب تک سورج بلند ہو، اس وقت تک پڑھ سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1274، والنسائي: 1/ 280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1073»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1274
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
سیدنا معاویہ ؓ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: بیشک تم لوگ ایک نماز پڑھتے ہو، یقینا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کو پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس نماز سے منع بھی کیا تھا، ان کی مراد عصر کے بعد والی دو رکعتیں تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 587، 3766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17038»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 587
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ دَرَّاجٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبَّحَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَرَآهُ عُمَرُ فَتَغَاضَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا
ربیعہ بن درّاج کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابو طالب ؓ نے مکہ مکرمہ کے راستے میں عصر کی بعد دو رکعتیں ادا کیں، پس جب سیدنا عمر ؓ نے ان کو دیکھا تو ان کو غصے ہوئے اور کہا: خبردار! اللہ کی قسم! تحقیق تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز سے منع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح بن ابي الاخضر ضعيف، وربيعة بن دراج مختلف في سماع الزهري منه۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 101»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں