🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. بَابُ مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1228
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتَّى عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (فَأَنْتَ إِذًا) ) فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ وَجْهُ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكَ تَنَامُ) ) فَنِمْتُ فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَي الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونُوا لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَٰكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ) ) قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا فَجَاؤُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خُذْ هَٰهُنَا) ) فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوِيًا عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُورَةُ الْفَتْحِ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا}
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد ابن هارون سمع من المسعودي بعد الاختلاط۔ أخرجه الطيالسي: 377، والبيھقي: 2/ 218، وابويعلي: 5285، والنسائي في الكبري: 8854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3710»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1229
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ لَمْ يَسْتَيْقِظُوا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالرَّكْعَتَيْنِ فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے سو گئے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، جب جاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نمازِ فجر کھڑی کی اور اس کو ادا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22847»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 444
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1230
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّيْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ (الرَّاوِي) : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا يَعْنِي الرُّخْصَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو پڑاؤ ڈالا اور سو گئے اور سورج کی گرمی کے ساتھ ہی بیدار ہوئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذا ن دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: اس رخصت کے مقابلے میں مجھے دنیا وما فیہا بھی خوش نہیں کر سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 82، وابويعلي: 2375، والطبراني: 12225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2349»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 82
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1231
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَٰذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ) ) قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، پس جب جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے چل دے)، کیونکہ اس منزل میں ہمارے پاس شیطان حاضر ہوا ہے، پس ہم نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نماز کھڑی کر دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر پڑھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1231]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9530»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 680
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ لَهُ قَالَ: ( (مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟) ) قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَأَدَّوْهَا ثُمَّ تَوَضَّأُوا فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ
سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16867»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 298
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1233
عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَافَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: ( (هَلْ لَكُمْ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً؟) ) أَوْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ، فَنَزَلَ وَنَزَلُوا، فَقَالَ: ( (مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟) ) فَقُلْتُ: أَنَا جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ: ( (هَٰكَ لَا تَكُنَّ لُكَعَةَ) ) قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهَا يَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَاكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا حَتَّى أَخَذَنِي النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرُ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (يَا بِلَالُ! هَلْ لِي فِي الْمِيضَأَةِ؟) ) يَعْنِي الْإِدَاوَةَ، قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءً لَمْ يَلُتَّهُ التُّرَابُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفْرَطْنَا، قَالَ: ( (لَا، قَبَضَ اللَّهُ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا وَقَدْ صَلَّيْنَا) )
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک کہ سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکمل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میں پانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 445، 446 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16949»
وضاحت: فوائد: … چھوٹو نہ بن جانا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تو اس چھوٹے بچے کی طرح نہ ہو جانا، جس کو وقت کا علم نہیں ہوتا اور جس پر نیند غالب آ جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 445
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1234
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةُ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 2/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12216»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 2/ 17
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1235
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا پڑھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 179، والنسائي: 2/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3555»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 179
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1236
عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنَ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ( (هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟) ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ
سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، تفرد به ابن لھيعة، وھو سييء الحفظ، ورواه عن مجھولَين۔ أخرجه البيھقي: 2/ 220، والطبراني في الكبير: 3542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17100»

الحكم على الحديث:
حديث منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ قَضَاءِ مَا يَفُوتُ مِنَ الصَّلَاةِ النَّافِلَةِ وَالْأَوْرَادِ
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1237
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ إِثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنکھ لگ جانے یا کوئی تکلیف ہونے کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو بارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25284»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 746
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں