الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَجَبْرِ الْفَرَائِضِ بِالنَّوَاقِلِ
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1071
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ) )
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر میں بندے کا نماز پڑھنا نور ہے، پس جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منوّر کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه عاصم۔ أخرجه ابن ماجه: 1375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 86 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 86»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه عاصم۔ أخرجه ابن ماجه: 1375
حدیث نمبر: 1072
عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوِ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ فَقَالَ: يَا فَتَى أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ؟ قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ: ( (إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَأَتَّمَهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ) ) قَالَ يُونُسُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9490»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 864
حدیث نمبر: 1073
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَوَّلُ شَيْءٍ مِمَّا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَإِنْ أَتَّمَهَا) وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہؓ نے مجھے کہا: جب تو مصر والوں کے پاس جائے تو ان کو بتانا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے قیامت کے روز محاسبہ کیا جائے گا، وہ فرض نماز ہے، پس اگر وہ مکمل ہوئی تو ٹھیک، وگرنہ اس کی نفلی نماز سے اس کی کمی کو پورا کیا جائے گا، پھر باقی تمام فرض اعمال کے ساتھ یہی معاملہ اختیار کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1425، والنسائي: 1/ 233، والترمذي: 413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7889»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1425
حدیث نمبر: 1074
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَتَّمَهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَّمَهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكَمِّلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسْبِ ذَلِكَ) )
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے محاسبہ کیا جائے گا، وہ اس کی نماز ہے، پس اگر اس نے اس کو مکمل کیا ہو گا تو وہ پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں کمی کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو، کیا تم میرے بندے کی کوئی نفلی نماز پاتے ہو، پس اسی سے اس کی فرض نماز کو پورا کر دو، پھر زکاۃ کا بھی اسی طرح محاسبہ کیا جائے گا اور پھر دوسرے اعمال کا بھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16731»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
9. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَهَاوَنَ بِأَمْرِ الصَّلَاةِ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ! انْظُرِي هَلْ حَانَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد اللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت کہتے ہیں: ہم ظہر سے فارغ ہو کر خارجہ بن زید کے ساتھ سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: لڑکی! دیکھو، کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہم نے ان سے کہا: ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں، بہرحال انھوں نے عصر کی نماز پڑھی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13272»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1076
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْصَرَفْتُ مِنَ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ، قَالَ: فَمَا قَعَدْنَا، مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ! قَالَ: قُلْنَا: أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّكُمْ تَرَكْتُمُ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسِيتُمُوهَا، أَوْ قَالَ: نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ) ) وَمَدَّ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى
مولائے ابن عباس زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں اور عمر نمازِ ظہر سے فارغ ہوئے، مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل نے نماز پڑھائی تھی، پھر ہم عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کی طرف گئے، وہ بیمار تھے، پس ہم ان کے پاس بیٹھے نہیں، کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کر لیا اور پھر ہم وہاں سے پلٹ کر سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس ان کے گھر میں گئے، ان کا گھر ابو طلحہ کے گھر کے پہلو میں تھا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر کہا: ابو حمزہ! نماز پڑھو، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، کون سی نماز؟ انھوں نے کہا: نمازِ عصر، ہم نے کہا: ہم نے تو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھی ہے، انھوں نے کہا: تم نے نماز کو چھوڑ دیا ہے، یہاں تک کہ تم اس کو بھول گئے ہو، یا کہا: تم کونماز اس طرح بھلا دی گئی ہے کہ تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب کر کے) بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرج البخاري في التاريخ الكبير: 3/ 355 المرفوع منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13517»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرج البخاري في التاريخ الكبير : 3/ 355 المرفوع منه
حدیث نمبر: 1077
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرُهُنَّ، الصَّلَاةَ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَةَ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمَ إِذَا وَجَدْتَ كُفُوًا) )
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین چیزوں کو لیٹ نہیں کرنا، نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اوروہ عورت کہ جس کا خاوند نہ، جب تو اس کے لیے کوئی مناسب آدمی پا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني۔ أخرجه ابن ماجه: 1486، والترمذي: 171، 1075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 828»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني۔ أخرجه ابن ماجه: 1486
حدیث نمبر: 1078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ذَاكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنِهِ، أَوْ فِي أُذُنَيْهِ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1144، ومسلم: 774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3557»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1144
حدیث نمبر: 1079
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7528»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1080
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أَئِمَّةٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً) )
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اور ان کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو نفلی بنا لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 393، والطبراني في الكبير: 7155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17252»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 393