الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا وَأَنَّهَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1052
عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا وَمَوَاقِيتِهَا وَعَلِمَ أَنَّهَا حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) أَوْ قَالَ: ( (وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ (وَفِي رِوَايَةٍ: يَرَاهَا حَقًّا لِلَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ) ) )
سیدنا حنظلہ کاتب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازوں کے رکوع، سجود اور اوقات کی اچھی طرح حفاظت کی اور یہ جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور ایک روایت میں ہے: وہ ان نمازوں کو اللہ تعالیٰ کا حق سمجھتا ہے، تو وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواهده۔ أخرجه الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18535»
الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده۔ أخرجه الطبراني
حدیث نمبر: 1053
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ) )
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کو وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور جہاد کرنا افضل اعمال ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مختصرا الدارقطني: 1/ 246، والحاكم: 1/ 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23508»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مختصرا الدارقطني: 1/ 246
حدیث نمبر: 1054
عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْعَمَلِ، فَقَالَ: ( (الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا) )
سیدہ ام فروہ ؓ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازکو اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27645»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 426
حدیث نمبر: 1055
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ
۔ (دوسری سندی) اسی طرح کی روایت بیان کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27644»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27644
حدیث نمبر: 1055M
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْأَعْمَالَ فَقَالَ: ( (إِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَعْجِيلُ الصَّلَاةِ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا) )
۔ (تیسری سند) سیدہ ام فروہؓ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ نماز کو اس کے پہلے وقت میں معجل کر کے ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1055M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27646»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27646
6. بَابٌ فِي فَضْلِ طُولِ الْقِيَامِ وَكَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1056
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (طُولُ الْقُنُوتِ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں لمبا قیام کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14282»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 756
حدیث نمبر: 1057
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْءٍ، قُلْنَا: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن خزيمة: 1154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4199»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن خزيمة: 1154
حدیث نمبر: 1058
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ قُلْتُ لِأَصْحَابِي: تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّلْتُ فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ) )
مخارق کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے نکلے، جب ربذہ مقام پر پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم آگے چلو، میں خود پیچھے رہ گیا، پس میں سیدنا ابو ذر ؓکیا پاس گیا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ لمبا قیام کرتے اور کثرت سے رکوع و سجود کرتے، جب میں نے ان سے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے عمل کو اچھا بنانے میں کوئی کمی نہیں کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رکوع کیا، یا سجدہ کیا، اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا اور ایک گناہ مٹا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 1461، والبزار: 3903، والبيھقي: 3/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21633»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 1461
حدیث نمبر: 1059
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لَا يَقْعُدُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ! مَا أَرَى هَٰذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولُ لَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا أُرَاكَ تَدْرِي تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ وَتْرٍ، قَالَ: وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً) ) فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ: جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ جُلَسَائِ شَرًّا، أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (دوسری سند) مطرف کہتے ہیں: میں کچھ قریشی افراد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، پس ایک آدمی آ کر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا، پھر نماز پڑھنے لگا اور رکوع و سجود کرنے لگا اور بیٹھانہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس بندے کو تو اتنا بھی پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے جفت رکعتیں پڑھیں یا طاق۔ لوگوں نے کہا: کیا تم اس کی طرف جا کر اس کو کہہ نہیں دیتے۔ پس میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا تو یہ خیال ہے کہ تجھے یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ تو نے جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق۔ اس نے کہا: لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ تعالیٰ کیلئے سجدہ کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کیلئے ایک نیکی لکھ دے گا، ایک برائی مٹا دے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ابو ذر ہوں، یہ سن کر میں اپنے دوستوں کی طرف واپس آ گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹھنے والوں کی طرف سے برا بدلہ دے، تم نے مجھے حکم دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک فرد کو تعلیم دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21643»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21643
حدیث نمبر: 1060
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَوَجَدْتُّ فِيهِ رَجُلًا يُكْثِرُ السُّجُودَ فَوَجَدْتُّ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: أَتَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَى وَتْرٍ؟ قَالَ: إِنْ أَكُ لَا أَدْرِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً) ) قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي
۔ (تیسری سند) احنف بن قیس کہتے ہیں: میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور ایک بندے کو بہت زیادہ سجدے کرتے ہوئے پایا، مجھے اس کے اس عمل کی وجہ سے کچھ محسوس ہونے لگا، پس جب وہ فارغ ہوا تو میں نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو جفت رکعتوں پر سلام پھیر رہا ہے یا طاق پر؟ اس نے کہا: اگر میں نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا، پھر وہ رونے لگ گئے، اس نے پھر کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبرد ی، پھر وہ رونے لگ گیا، پھر اس نے کہا: مجھے میرے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتلایا کہ نہیں ہے کوئی بندہ، جو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مگر اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کی ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔میں نے اس سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، مجھے یہ تو بتلاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں صحابی ٔ رسول ابو ذر ہوں، یہ سن کر میرا دل چھوٹا ہو گیا (یعنی مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21783»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21783