الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي فَضْلِ طُولِ الْقِيَامِ وَكَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
قیام کی طوالت اور رکوع و سجود کی کثرت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1061
عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ الْأَزْدِيِّ أَوِ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَبَا فَاطِمَةَ! إِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِي فَأَكْثِرِ السُّجُودَ) )
سیدنا ابو فاطمہ ازدی یا اسدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابو فاطمہ! اگر تم مجھے ملنے کا ارادہ کرتے ہو تو کثرت سے سجدے کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/821، وأخرج بنحوه ابن ماجه: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15611»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو فاطمہ ؓنے کثرتِ سجود کی وجہ سے اپنی پیشانی اور گھٹنوں کو کالا کر دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/821
حدیث نمبر: 1062
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَا أَبَا فَاطِمَةَ! أَكْثِرْ مِنَ السُّجُودِ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ مُسْلِمٍ، بَدَلَ رَجُلٍ) يَسْجُدُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا دَرَجَةً
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو فاطمہ! کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلحاظ درجہ کے بلند کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15613»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15613
حدیث نمبر: 1063
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ: ( (أَلَكَ حَاجَةٌ؟) ) قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَاجَتِي، قَالَ: ( (وَمَا حَاجَتُكَ؟) ) قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: ( (وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَٰذَا؟) ) قَالَ: رَبِّي، قَالَ: ( (فَإِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ) )
مولائے بنو مخزوم زیادبن ابو زیاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم یا خادمہ سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خادم سے کہا کرتے تھے: کیا تیری کوئی ضرورت ہے؟ ایک دن اس خادم نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: میری ضرورت یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن میری سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور کس نے اس چیز پر تیری رہنمائی کی ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس ضرورت کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو کثرت ِ سجود کے ذریعے میری مدد کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: «انظر الحدث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16173»
الحكم على الحديث:
انظر الحدث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16173
حدیث نمبر: 1064
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِيَ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ أَوْ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً) ) قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: میں مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ کو ملا اور کہا: مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس کو ادا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے، یا کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کی خبر دیجئے، پس وہ خاموش رہے، (پھر میں نے ان سے سوال کیا، لیکن وہ خاموش رہے) پھر جب میں نے تیسری دفعہ سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کثرتِ سجود کا اہتمام کر، کیونکہ جب بھی تو سجدہ کرے گا، اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کر دے گا اور تیرا ایک گناہ مٹا دے گا۔ معدان کہتے ہیں: پھر میں سیدنا ابو درداءؓ کو ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا اور انھوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا، جو سیدنا ثوبانؓ نے دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22735»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 488
7. بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1065
عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
ابو بکر اپنے باپ (سیدنا ابو موسی اشعری)ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 574، ومسلم: 635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16850»
وضاحت: فوائد: … عام علماء ان دو نمازوں سے عصر اور فجر کی نمازیں مراد لیتے ہیں۔ برد کا معنی ٹھنڈا ہے۔ عصر کا وقت دن کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور فجر کا وقت رات کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ بھی کی جاتی ہے کہ برد کا معنی کنارہ ہے، دو کناروں کی نمازیں۔ نمازِ عصر دن کے کنارے اور نمازِ فجر رات کے کنارے میں پڑھی جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 574
حدیث نمبر: 1066
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَلِجُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَنْ يَلِجَ) النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ) ) قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ
اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے رویبہ سے سوال کرتے ہوئے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بات سنی، اس کی مجھے بھی خبر دیجئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ آدمی جہنم میں داخل نہیں ہو گا، (اور ایک روایت میں ہے ہر گز داخل نہ ہوگا) جو طلوع آفتاب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میرے کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور دل نے اس بات کو یاد کیا ہے۔ اس بندے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18486»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 634
حدیث نمبر: 1067
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً، يَتَعَاقَبُونَ مَلَائِكَةَ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةَ النَّهَارِ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ كَانُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ) )
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں، وہ یکے بعد دیگرے آتے ہیں، وہ رات کے اور دن کے فرشتے ہیں، جو فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اللہ کی طرف چڑھ جاتے ہیں، جو تمہارے اندر ہوتے ہیں اور اللہ ان سے سوال کرتا ہے، جبکہ وہ زیادہ جاننے والا ہے، پس پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے ان کو اس حالت میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 555، ومسلم: 632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7483»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 555
حدیث نمبر: 1068
عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَٰذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ، فَقَالَ لِي: ( (إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ) ) قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْغَدَاةِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ) )
سیدنا فضالہ لیثی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تعلیم دی اور اوقات سمیت پانچ نمازیں سکھائیں، لیکن میں نے کہا: یہ تو میری مصروفیت کی گھڑیاں ہیں، آپ مجھے اس سے مختصر حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو مصروف رہتا ہے تو تجھے دو عصروں سے مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا: دو عصریں کون سی ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ فجر اور نمازِ عصر۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف صحيحه ديكھيں۔ أخرجه ابوداود: 428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19233»
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف صحيحه ديكھيں۔ أخرجه ابوداود: 428
حدیث نمبر: 1069
عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: ( (إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ) ) ثُمَّ تَلَى هَٰذِهِ الْآيَةَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} قَالَ شُعْبَةُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : لَا أَدْرِي قَالَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَوْ لَمْ يَقُلْ
سیدنا جریر ؓ کہتے ہیں: ہم بدر والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم اپنے پروردگار کو ایسے ہی دیکھو گے، جیسا کہ چاند کو دیکھتے ہو، اور اس کی رؤیت میں تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی، پس اگر تمہیں طاقت ہو تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کے معاملے میں مغلوب نہ ہو جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: پس سورج کے طلوع ہونے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر۔ شعبہ کہتے ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 554، 4851، 7434، ومسلم: 633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19404»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 554
8. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَجَبْرِ الْفَرَائِضِ بِالنَّوَاقِلِ
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1070
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ) ) يَعْنِي الْقُرْآنَ
سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بندے کی کسی ایسی چیز کو کان لگا کر نہیں سنا، جو اس کی ادا کی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہو اور جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے، اس کے سر پر نیکی چھڑکی جاتی ہے اور لوگوں نے کسی ایسے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا، جو عمل اس چیز جیسا ہو، جو اللہ تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قرآن مجید تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 2911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22662»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 2911