الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1719
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
۔ (دوسری سند) سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو بازو پہلو سے الگ کرتے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23313»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23313
حدیث نمبر: 1720
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ ( (اللَّهُ أَكْبَرُ) ) ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ
سیدنا ابو حمیدساعدی رضی اللہ عنہ رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز(کا طریقہ) بیان کرتے ہیں فرمایا:پھر آپ سجد ہ کرتے ہوئے نیچے جھکے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاپھر کشادگی ا ختیارکی اور اپنے بازو اپنے پیٹ سے کھول کر رکھے اور اپنے پاؤں کی انگلیاں موڑ کر (قبلے کی طرف) رکھیں، (پھر اٹھے اور)اپنا (بایاں) پاؤں موڑ کر رکھا اور اس پر بیٹھ گئے اور برا بر ہوگئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ آئی، …۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 828، وابوداود: 730، 963، وابن ماجه: 862، والترمذي: 304، والنسائي: 2/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23997»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 828
حدیث نمبر: 1721
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال اختیار کرو،کوئی آدمی اپنے بازو کتے کی طرح مت بچھائے، رکوع وسجود کو پورا کرو، اللہ کی قسم! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تومیں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 822، ومسلم: 493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12149، 12812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14018»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 822
حدیث نمبر: 1722
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اعتدال کرے اور کتے کی طرح اپنے بازو مت بچھائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 891، والترمذي: 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14437»
وضاحت: فوائد: … اس مقام پر اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو نہ زمین پر بچھائے اور نہ اپنے جسم کے ساتھ بند کر لے، بلکہ درمیان میں رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے اور کہنیوں کو زمین اور پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کیونکہ اس صورت میں زیادہ عاجزی ہے اور بندہ سستی سے دور رہتا ہے اور پیشانی اچھی طرح زمین پر ٹک جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 891
حدیث نمبر: 1723
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَحَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ، قَالَ: هَٰكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
شعبہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنی پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر لگا دیتا ہے۔ انھوں نے اس سے پوچھا: کون سی چیز تجھے اس طرح کرنے پر ابھارتی ہے؟ اس نے کہا: تواضع (کی خاطر ایسا کرتا ہوں)۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو کتے کی ہیئت ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والمرفوع منه صحيح لغيره، شعبة بن دينار مولي ابن عباس سيء الحفظ۔ أخرج المرفوع منه الطيالسي: 2727، والطبراني: 12219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2073، 2933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2933»
وضاحت: فوائد: … سجدہ کی حالت میں سینے کو زمین پر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس حدیث کے شروع والے حصے میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی پیشانی اور بازوؤں کو زمین پر رکھتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر پڑا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1724
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا،پس میں نے دیکھا کہ آپ زمین سے پیٹ کو اٹھا کر رکھتے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2781»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 899
حدیث نمبر: 1725
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوکھ کی سفیدی دیکھی، جب کہ آپ سجدہ کررہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11129»
وضاحت: فوائد: … یعنی بازوؤں کو پیٹ سے دور رکھنے کی وجہ سے کوکھ کی سفیدی نظر آنے لگی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1726
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12788»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1727
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أَقْرَمَ بِالْقَاعِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ) قَالَ: فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي أَبِي: أَيْ بُنَيَّ! كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَأُسَائِلَهُمْ، قَالَ: فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَيْ إِبْطَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا سَجَدَ
عبد اللہ بن اقرم کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا، ہمارے پاس سے ایک قافلہ گزرا، پھر انہوں نے راستہ کی ایک طرف اونٹ بٹھا دیئے، میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اپنے جانوروں میں ہی رہ، میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے سوال جواب کرتا ہوں، سو وہ چلے گئے اور میں بھی ان کے پیچھے نکل پڑا، وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیااور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی غیر خالص سفیدی کو دیکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 881، والترمذي: 274، والنسائي: 2/ 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16516»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 881
حدیث نمبر: 1728
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَصَفَ السُّجُودَ قَالَ: فَبَسَطَ كَفَّيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَخَوَّى وَقَالَ هَٰكَذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے (سجدہ کیا اور) اپنی ہتھیلیوں کو بچھایا، پچھلے حصے کو اٹھایا اور اپنے پیٹ کو بھی زمین سے بلند رکھا اور پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح سجدہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 896، والنسائي: 2/ 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18905»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح