الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ بُطْلَانِ صَلَاةِ مَنْ لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1689
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي أَبْوَابَ كِنْدَةَ فَجَعَلَ لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مُنْذُ كَمْ هَٰذِهِ صَلَاتُكَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَلَوْ مُتَّ وَهَٰذِهِ صَلَاتُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ يُعَلِّمُهُ، فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ فِي صَلَاتِهِ وَإِنَّهُ لَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
زید بن وہب کہتے ہیں: سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کندہ سے قریبی علاقے کا ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا،وہ رکوع پورا کر رہا تھا نہ سجدہ، جب وہ فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: کب سے تو اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ سیدناحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: (حقیقت یہ ہے کہ) تو نے چالیس سال سے نماز پڑھی ہی نہیں ہے اور اگر تو اس حالت میں فوت ہوجاتا کہ تیری نماز یہی ہوتی تو تو اس دین پر نہ مرتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا گیا۔ پھر وہ اس پر متوجہ ہوئے اور اسے نماز کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: آدمی رکوع و سجود پورا کرکے بھی نماز میں تخفیف کرلیتا ہے، (ضروری نہیں کہ جلدی ہی کی جائے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23647»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اطمینان کے بغیر نماز باطل ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو جلدی سے نماز ادا کرنا پڑ جائے تو وہ مختصر قیام کر لے اور رکوع و سجود میں نقص نہ آنے دے۔ کئی احادیث میں رکوع و سجود میں اطمینان اور اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے، پانچ چھ صفحات کے بعد اس عنوان رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان کا مطالعہ کریں، بطورِ مثال ایک حدیث کا ذکر یہاں بھی کر دیا جاتا ہے: حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلٰی صَلَاۃِ عَبْدٍ لَایُقِیْمُ فِیْھَا صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِھَا وَسُجُوْدِھَا۔)) … اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جس میں وہ رکوع و سجود کے دوران کمر سیدھی نہیں کرتا۔ (مسند أحمد: ۴/۲۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 791
29. بَابُ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
رکوع میں ذکر کا بیان
حدیث نمبر: 1690
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) )
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (اے اللہ! تیرے لئے ہی میں نے رکوع کیا،تجھ پر ہی میں ایمان لایا اور تیرے لئے ہی میں مطیع ہوا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈی، میرا پٹھا اور جس کے ساتھ میرا قدم ٹھہرا ہو اہے، سب اللہ رب العالمین کے لئے جھکے ہیں۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم مطولا: 771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729، 960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 960»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم مطولا: 771
حدیث نمبر: 1691
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ) ) فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} قَالَ: ( (اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ) )
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے رکوع میں اپنا لو۔ جب {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} نازل ہوئی تو فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے سجدے میں اپنا لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 869، وابن ماجه: 887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17549»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جو حکم دیا ہے، رکوع و سجود میں اس پر عمل کرو۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 869
حدیث نمبر: 1692
عَنْ حُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ) ) وَفِي سُجُودِهِ ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى) ) قَالَ: وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَلَا آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعَلٰی کہتے تھے، نیز جب آپ رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو ٹھہرتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت کے پاس سے گزرتے تواس سے پناہ مانگتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23629»
وضاحت: فوائد: … رحمت کا سوال کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے کے لیے عربی زبان میں کوئی جملہ کہا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 772
حدیث نمبر: 1693
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ( (سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں یہ دعا پڑھتے تھے: سُبُّوْحٌ قُدُّ وْسٌرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ (وہ پاک اور مقدس ذات، جو فرشتوں اور روح (یعنی جبریل) کا ربّ ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24564»
وضاحت: فوائد: … سُبُّوحٌ اور قُدُّوْسٌ کے معانی مُسَبَّح اور مُقَدَّس کے ہیں، اردو میں ان کے معانییہ بنتے ہیں: سُبُّوحٌ وہ ذات جو نقائص، شریک اور ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی الوہیت کے شایان شان نہیں ہوتی۔ قُدُّوْسٌ:وہ ذات جو ہر اس چیز سے طاہر ہو جو خالق کو زیب نہیں دیتی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 487
حدیث نمبر: 1694
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ( (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اغْفِرْ لِي) ) يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اِغْفِرْلِیْ (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ،تو مجھے بخش دے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4968، ومسلم: 784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24664»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید پر عمل کرنے کا کیا مفہوم ہے، اس کی وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4968
حدیث نمبر: 1695
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي) ) قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} قَالَ: ( (سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (اے ہمارے رب! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے)۔ پھر جب یہ سورت {إِذَاجَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو آپ یہ دعا کرتے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحَیْمُ۔ (اے ہمارے ربّ!تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود۔ أخرجه الطيالسي: 339، والحاكم: 2/ 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3719»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 1696
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ إِذَا قَرَأَهَا ثُمَّ رَكَعَ بِهَا أَنْ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) ) ثَلَاثًا
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاوت کرتے تو زیادہ تر اس کے بعد والے رکوع میں تین دفعہ یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد منقطع۔ أخرجه ابويعلي: 5230، والبزار 544 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3745»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 1697
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ قَالَ فِي رُكُوعِهِ ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ) ) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ ( (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى) ) ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: ( (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطبراني: 12679، وأخرجه ابوداود: 850، وابن ماجه: 898، والترمذي: 284 بذكر الدعاء بين السجدتين فقط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2895، 3514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3514»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه الطبراني: 12679
30. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1698
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرَأَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی رکوع یا سجدے میں تلاوت کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور۔ أخرجه البزار: 843۔ وأخرج مسلم بلفظ مطول منه: 2078 وفيه: نھاني رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم عن التختم بالذھب وعن القراء ة في الركوع و السجود۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 619، 924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 619»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره