🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1739
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا، فَرَآنِي أَبُو حَسَنِ الْمَازِنِيُّ فَقَالَ: تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ؟ وَاللَّهِ! لَأَحْلِقَنَّهَا فَحَلَقَهَا
عمر بن یحییٰ اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرے کندھوں تک لمبے بال تھے، اس لیے جب میں سجدہ کرتا تو انہیں اٹھا لیتا تھا، ابو حسن مازنی نے مجھے ایسے کرتا دیکھ کرکہا: تو ان کو اٹھا لیتا ہے تاکہ انہیں مٹی نہ لگے؟ اللہ کی قسم! میں انہیں ضرور مونڈ دوں گا پھر انہوں نے ان بالوں کو مونڈ دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: «ھذا الأثر ضعيف، للشك بين والد عمرو بن يحييٰ أو عمه، ولم يتبين لنا من ھو۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16833»
وضاحت: فوائد: … ابو حسن مازنی، عمرو بن یحییٰ کا دادا تھا، اس نے اپنے پوتے کو ایک سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اور اس کی تربیت کرنے کے لیے اس کا سر منڈوا دیا تھا، آج بھی بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
ھذا الأثر ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ سُجُودِ الْمُصَلِّي عَلَى ثَوْبِهِ لِحَاجَةٍ وَكَيْفَ يَسْجُدُ مَنْ زُوحِمَ
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے،¤نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1740
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفَضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑا لپیٹ کر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابو يعلي: 2446، والطبراني: 11520، وعبد الرزاق: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2320»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابو يعلي: 2446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَيَسْجُدُ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم گرمی کی شدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زمین پر رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 385، 1208، ومسلم: 620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11992»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا معنییہ ہوا کہ نمازی نے جو لباس پہنا ہوا ہو، اگر وہ دورانِ سجدہ پیشانی، ناک اور ہاتھوں کے سامنے حائل ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 385
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1742
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ
عبد اللہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد وھم فيه عبد العزيز بن محمد الدراوري، فرواه عن اسماعيل بن ابي حبيبة، عن عبد الله بن عبد الرحمن، قال: جاء نا النبي صلي الله عليه وآله وسلم۔ ولم يقل: عن ابيه، عن جده، والاولي بالصواب ما رواه ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة الاشھلي، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ثابت بن الصامت عن ابيه عن جده۔ ثم ان ابراهيم الاشھلي ضعيف، وعبد الله بن عبد الرحمن مجھول، وابوه عبد الرحمن لاتصح صحبته، وھو مجھول كذالك۔ ثم انه قد اختلف في اسناده، وانظر للتفصيل: 18953۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19161»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1743
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ عَلَيْهِ يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ میں نے بارش والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کیچڑ سے بچتے تھے اور وہ اس طرح کہ جب آپ سجدہ کرتے تو جو چادر پہنی ہوئی تھی اس کا بعض حصہ زمین پر ہاتھوں کے نیچے رکھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1743]
تخریج الحدیث: «حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف حسين بن عبد الله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2385»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1744
عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَٰذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ
سیار بن معرور کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر رضی اللہ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مسجد بنائی، جبکہ ہم مہاجر اور انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہجوم زیادہ ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرلے۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو راستہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر ان کو کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وقد توبع سيار بن معرور۔ أخرجه الطيالسي: 70،والبيھقي: 3/ 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 217»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1745
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا قَالَ: ( (اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ) ) قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا طَالَ السُّجُودُ وَأَعْيَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کہ اگر کشادگی اختیار کریں تو سجدے میں مشقت ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر گھٹنوں سے مدد حاصل کر لیا کرو۔ ابن عجلان کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ جب سجدہ لمبا ہو جائے اور بندہ تھک جائے تو اپنی کہنیاںگھٹنوں پر رکھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902، والترمذي: 286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8458»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ تو انتہائی واضح ہیں، اب تو اللہ تعالیٰ نے وسعت کر دی ہے اور ہر آدمی کے پاس اتنی سہولت موجود ہے کہ وہ نماز کے لیے علیحدہ کپڑا بچھا سکتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی سخت گرمی اور گرم زمین کے باوجود صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں طویل نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 902
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ وَمَا يُقَالُ فِيهِ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ مَا مُدَّ فِي الرُّكُوعِ
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1746
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَہُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے ہی سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا، جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی شکل بنائی اورخوبصورت شکل بنائی اور اس کے کان اور آنکھ کو کھولا، اللہ بہت با برکت ہے، جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 729»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 771
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1747
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التَّهَجُّدِ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ: ( (اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اجْعَلْ لِي نُورًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ تہجد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلے اور نماز پڑھی اور نماز میں یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْیَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا۔ شعبہ کہتے ہیں:یاآخری جملہ اس طرح ہے: اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا (اے اللہ! میرے دل میں نور کردے،میرے کان میں نور،میری نظر میں نور، میری دائیں طرف نور۔ میری بائیں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے اور مجھے نور ہی بنا دے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2567»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد مین یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس حدیث میں نور سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حقیقی نور ہی ہے، جو قیامت کے اندھیروں میں روشنی پیدا کرے گا اور (۲) اس سے مراد علم، ہدایت، حق کی وضاحت اور اس کی روشنی مراد ہے، تاکہ کہیں سے بھیضلالت نہ گھسنے پائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1748
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا فَقَدَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: ( (رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر سے گم پایا، اس لیے ہاتھ کے ساتھ آپ کو تلاش کیا، جب ان کا ہاتھ آپ کو لگا تو (ان کو پتا چلتا ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔ (اے میرے رب! میرے نفس کو اس کا تقوی دے دے، اسے پاک کردے تو سب سے بہتر ذات ہے، جو اسے پاک کرنے والی ہے، توہی اس کا ولی ہے اورمولی ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير صالح بن سعيد، فقد روي عنه نافع بن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان في الثقات۔ وانظر الشرح ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26276»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر پر گم پایا، (چونکہ اندھیرا تھا، اس لیے) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ سے تلاش کیا، جب میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کے تلووں پر پڑا تو میں نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں گڑھے ہوئے ہیں اور آپ اپنی مسجد میں ہیں اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (مسلم: ۴۸۶، مسند احمد: ۲۵۶۵۵) البتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں جس دعا رَبِّ اَعْطِنِیْ تَقْوَاھَا … کا ذکر ہے، یہ الفاظ زید بن ارقم کی حدیث سے ثابت ایک دعا میں موجود ہیں۔ (دیکھیں: مسلم: ۲۷۲۲، مسند احمد: ۱۹۳۰۸)

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير صالح بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں