الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ وَمَا يُقَالُ فِيهِ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ مَا مُدَّ فِي الرُّكُوعِ
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
حدیث نمبر: 1749
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: افْتَقَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَطَلَبْتُهُ) ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: ( (سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) ) (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: ( (رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ) ) فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَأَنَا فِي شَأْنٍ آخَرَ)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25178، 25180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25693»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 485
حدیث نمبر: 1750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9442»
وضاحت: فوائد: … سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 482
37. بَابُ الْجَلْسَةِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَمَا يُقَالُ فِيهَا
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1751
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تودوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کر تے جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 498
حدیث نمبر: 1752
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بیان کرتے ہوئے نماز پڑھی تو سجدہ کیا (اور اتنی دیر ٹھہرے رہے کہ)ہر عضو اپنے مقام پر ٹھہر گیا، پھر اٹھے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی، پھر دوسرا سجدہ کیا حتی کہ ہر ہڈی نے اپنی جگہ کو پکڑلیا، پھر اٹھے اوردوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیاتھا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اس طرح کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 5/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15445»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 5/ 174
حدیث نمبر: 1753
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: ( (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 850، وابن ماجه: 898، والترمذي: 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2895»
وضاحت: فوائد: … اسی حدیث کے ایک طریق میں اس دعا میں وَاجْبُرْنِیْ کے الفاظ کا اضافہ بھی مروی ہے، دیکھیں حدیث نمبر: ۶۳۹، اس طرح پوری دعا اس طرح بنتی ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
فوائد: … جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی
یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔
فوائد: … جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی
یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 850
38. بَابُ جَلْسَةِ الِاسْتِرَاحَةِ
جلسہ استراحت کا بیان
حدیث نمبر: 1754
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: جَاءَ أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ: وَاللَّهِ! إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، قَالَ فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِيرَةِ ثُمَّ قَامَ
ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور نماز پڑھوں گا، حالانکہ میرا ارادہ نماز پڑھنے کا نہیں ہے، میں تو تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے (نماز پڑھی اور اس میں) جب انھوں نے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا تو وہ ایک دفعہ بیٹھ گئے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود: 843، والنسائي: 2/ 223، وأخرجه البخاري مختصرا وبالفاظ متقارب منه: 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15684»
الحكم على الحديث:
أخرجه ابوداود: 843
حدیث نمبر: 1755
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَصَلَّى صَلَاةً كَصَلَاةِ شَيْخِنَا هَٰذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ الْجَرْمِيَّ، وَكَانَ يُؤُمُّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَيُّوبُ فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: ابو قلابہ کہتے ہیں: پس انہوں نے ہمارے اس شیخ سیدنا عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ، جو عہدِ نبوی میں امامت کرواتے تھے، کی نماز کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کہتے ہیں: میں نے عمر وبن سلمہ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا جو تم لوگوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، جب وہ دو سجدوں سے اٹھتے تو بیٹھ کر برا بر ہو جاتے پھر پہلی اور تیسری رکعت سے کھڑے ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 802، 818، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20813»
وضاحت: فوائد: … پہلی سند والی روایت کے صحیح بخاری مین یہ الفاظ ہیں: سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کی طاق رکعات میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے، جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۳)
فوائد: … جلسۂ استراحت مسنون عمل ہے، ایک دلیل کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، مزید دو دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس کے مطابق انھوں نے دس صحابہ میں نماز پڑھی تھی، میں ہے: ثُمَّ یَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَیَرْفَعُ وَیُثْنِیْ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْھَا ثُمَّ یَعْتَدِلُ حَتّٰییَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہٖ ثُمَّ یَنْھَضُ۔ یعنی: پھر انھوں نے (دوسرا) سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اس سے اٹھے اور اپنے دائیں پاؤں کو مروڑ کر اعتدال کے ساتھ بیٹھ گئے، حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی، پھر کھڑے ہوئے۔ (ابوداود، دارمی، وروی الترمذی وابن ماجہ معناہ)
(۲)سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں صلوۃ التسبیح کا بیان ہے، اس کے مطابق اس نماز والا کلمہ آخری بار دس دفعہ اسی جلسۂ استراحت میں ہی پڑھا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مقام میں جلسہ کیا جاتا ہے۔
جلسۂ استراحت کی نفی کے دلائل اور ان کی حقیقت:
(۱)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَنْھَضُ فِیْ الصَّلَاۃِ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ۔ یعنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں سیدھے قدموں پرہی کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکنیہ حدیث ضعیف ہے، اس میں خالد بن ایاس متروک الحدیث ہے اور صالح مولی التؤمہ کو آخر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ چونکہ احناف اس جلسہ کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے جناب طحاوی حنفی نے کہا: یہ احتمال ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جس جلسۂ استراحت کا بیان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بیماری کی وجہ سے کیا ہو، نہ کہ نماز کی سنت ہونے کی وجہ سے، اگر یہ مشروع ہوتا تو اس کے لیے کوئی مخصوص ذکر ہوتا۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو نقل کرنے والے صحابی سیدنامالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اس جلسہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ اور سنت سمجھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بیان کر رہے ہیں، لیکن بعد والے اذہان اپنی مخصوص ذہنیت کی وجہ سے مختلف احتمالات کا اظہار کر کے اس کو ردّ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب فقہ حنفی کا وہ قانون کہاں گیا کہ راوی کی رائے کو معتبر سمجھا جائے نہ کہ اس کی روایت کو۔ رہا مسئلہ مخصوص ذکر کا، تو یہ بتانا شارع کا حق ہے کہ کس مقام پر کون ساذکر کرنا ہے اور کس مقام پر نہیں کرنا،یہ ہمارے اپنے دماغ کی اختراع ہے کہ ہر بیٹھک کے لیے ذکر ضروری ہوتا ہے، پھر اس اختراع کی روشنی میں سنت کو ردّ کرنا شروع کردیا۔ اصل قانون یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر سنت اصل الاصول اور قابلِ عمل ہوتی ہے، کسی بیمارییا علت کو وجہ قرار دینے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔
فوائد: … جلسۂ استراحت مسنون عمل ہے، ایک دلیل کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، مزید دو دلائل درج ذیل ہیں:
(۱)سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس کے مطابق انھوں نے دس صحابہ میں نماز پڑھی تھی، میں ہے: ثُمَّ یَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَیَرْفَعُ وَیُثْنِیْ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْھَا ثُمَّ یَعْتَدِلُ حَتّٰییَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہٖ ثُمَّ یَنْھَضُ۔ یعنی: پھر انھوں نے (دوسرا) سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اس سے اٹھے اور اپنے دائیں پاؤں کو مروڑ کر اعتدال کے ساتھ بیٹھ گئے، حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی، پھر کھڑے ہوئے۔ (ابوداود، دارمی، وروی الترمذی وابن ماجہ معناہ)
(۲)سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں صلوۃ التسبیح کا بیان ہے، اس کے مطابق اس نماز والا کلمہ آخری بار دس دفعہ اسی جلسۂ استراحت میں ہی پڑھا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مقام میں جلسہ کیا جاتا ہے۔
جلسۂ استراحت کی نفی کے دلائل اور ان کی حقیقت:
(۱)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَنْھَضُ فِیْ الصَّلَاۃِ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ۔ یعنی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں سیدھے قدموں پرہی کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکنیہ حدیث ضعیف ہے، اس میں خالد بن ایاس متروک الحدیث ہے اور صالح مولی التؤمہ کو آخر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ چونکہ احناف اس جلسہ کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے جناب طحاوی حنفی نے کہا: یہ احتمال ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جس جلسۂ استراحت کا بیان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بیماری کی وجہ سے کیا ہو، نہ کہ نماز کی سنت ہونے کی وجہ سے، اگر یہ مشروع ہوتا تو اس کے لیے کوئی مخصوص ذکر ہوتا۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو نقل کرنے والے صحابی سیدنامالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اس جلسہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ اور سنت سمجھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بیان کر رہے ہیں، لیکن بعد والے اذہان اپنی مخصوص ذہنیت کی وجہ سے مختلف احتمالات کا اظہار کر کے اس کو ردّ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب فقہ حنفی کا وہ قانون کہاں گیا کہ راوی کی رائے کو معتبر سمجھا جائے نہ کہ اس کی روایت کو۔ رہا مسئلہ مخصوص ذکر کا، تو یہ بتانا شارع کا حق ہے کہ کس مقام پر کون ساذکر کرنا ہے اور کس مقام پر نہیں کرنا،یہ ہمارے اپنے دماغ کی اختراع ہے کہ ہر بیٹھک کے لیے ذکر ضروری ہوتا ہے، پھر اس اختراع کی روشنی میں سنت کو ردّ کرنا شروع کردیا۔ اصل قانون یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر سنت اصل الاصول اور قابلِ عمل ہوتی ہے، کسی بیمارییا علت کو وجہ قرار دینے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 802
39. أبواب القنوت
دعائے قنوت کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: Q1756]
40. بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمُ الْقُرَّاءَ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَٰذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لِحْيَانَ قَالَ قَتَادَةَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَأُوا بِهِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ أَوْ رُفِعَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہ یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3064، 4088، 4090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12087»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3064
حدیث نمبر: 1757
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، كَانُوا يُسَمُّونَ الْقُرَّاءَ، قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِي مَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 677، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 677