الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ أَذْكَارِ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1709
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19314»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 476
حدیث نمبر: 1710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ (وَفِي لَفْظٍ يَدْعُو إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ) : ( (اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَنَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔)) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19328»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 476
حدیث نمبر: 1711
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَالَ الْقَارِئُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 409، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9390»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 409
حدیث نمبر: 1712
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلَهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 796، 3228، ومسلم: 409، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9925»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مقتدی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہیں کہنا چاہئے، کیونکہیہاں مقتدی کو یہ کلمہ کہنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے لیے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہنے کے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر ہر کسی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہناچاہئے: سَمِعَاللّٰہُلِمَنْحَمِدَہٗ نمازنبوی کی ترتیب میں شامل ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے نہ پڑھنے پر دلالت کرنے والی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہااورفرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (بخاری) … تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ سیّدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَتِمُّ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی … یُکَبِّرَ … ثُمَّ یَرْکَعَ … ثُمَّ یَقُوْلَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗحَتّٰییَسْتَوِیَ قَائِمًا۔)) … کسی آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ تکبیر نہ کہے … رکوع نہ کرے … اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہکہے … (ابوداود،حاکم) یہ حدیث واضح نص ہے کہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کےبغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کلمہ سے مقتدیوں کو روکنے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔یہی معاملہ وَلَا الضَّالِّیْنَ اور آمِیْن کا ہے، کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت دوسری نصوص سے ثابت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 796
حدیث نمبر: 1713
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟) ) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا) )
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19205»
وضاحت: فوائد: … اتنی بڑی فضیلت کے باوجود نمازی لوگوں کی اکثریت جلد بازی اور اپنی عادت کے سامنے عاجز ہو کر یہ کلمہ دوہرانے سے غافل ہے۔
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 799
حدیث نمبر: 1714
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) قَالَ ( (اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ) ) قَالَ وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9836»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 795
حدیث نمبر: 1715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) قَالَ ( (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11850»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر لوگ رکوع کے بعد قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور عرصۂ دراز سے ان کییہی روٹین بھی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدمِ رغبت کی علامت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے بہترین انداز میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے، لیکن ہمارا نفس ہمیں ایسا کرنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 477
33. بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1716
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكْبَتَيْهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے اور پھر گھٹنوں کو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 840، والنسائي: 2/ 207، والترمذي: 269 والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 182، وفي شرح معاني الآثار: 1/ 254، والبيھقي: 2/99، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8942»
وضاحت: فوائد: … شرح میں سنن کی وائل بن حجرکی سند کو حسن لغیرہ کہا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل پہلے گھٹنے رکھنا ہے۔
ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 840
حدیث نمبر: 1717
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کے لیے اپنا چہرہ رکھے تو اپنے ہاتھ بھی رکھ دے اور جب اسے اٹھائے تو ان کو بھی اٹھا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 892، والنسائي: 2/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4501»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 892
حدیث نمبر: 1718
عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو بازو پہلو سے اتنا دور رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3564، ومسلم: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22923، 22925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23311»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3564