الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1729
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اتنی کشادگی کرتے کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 497، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27368»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 497
حدیث نمبر: 1730
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ) )
سیدنا براء بن عازب ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو سجدہ کرے تو اپنی ہتھیلیوں کونیچے رکھ دے اورکہنیوں کو اٹھا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18800»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 494
حدیث نمبر: 1731
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَنْفِهِ مَعَ جَبْهَتِهِ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی پیشانی سمیت ناک پر سجدہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19062»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19062
حدیث نمبر: 1732
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ أَنْفَهُ عَلَى الْأَرْضِ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنی ناک زمین پر لگاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 262، والطبراني في الكبير: 22/ 66، وله شواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19045»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 262
حدیث نمبر: 1733
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ بَيْنَ كَفَّيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَيَدَاهُ قَرِيبَتَانِ مِنْ أُذُنَيْهِ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاآپ اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے قریب ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شبية: 1/ 260، والبيھقي: 2/ 112،والطبراني في الكبير: 22/ 75، 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18844، 18845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19050، 19051»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شبية: 1/ 260
حدیث نمبر: 1734
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ( (وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سجدہ کرے توزمین پر اپنے ماتھے کو اس طرح جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447، والترمذي: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2604»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۶۸۱)میں اِس حدیث کے آخری جملے کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تمام احادیث کا تعلق سجدہ کی کیفیت اور ہیئت کے ساتھ ہے، اِن اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے، مسند احمد کا حوالہ نہیں دیا گیا:
(۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
(۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447
34. بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1735
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیاہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 815، 816، ومسلم: 490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1927، 2584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2584»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 815
حدیث نمبر: 1736
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اس سے منع کیا گیا کہ آپ اپنے بال اور کپڑے لپیٹیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1736]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1927»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1927
حدیث نمبر: 1737
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ) )
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان سات اعضا پر سجدہ کروں: پیشانی، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناک کی طرف اشارہ کیا،دو ہاتھ، دو گھٹنے اور (دونوں پاؤں کی) انگلیوں کے کنارے اور اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2777»
وضاحت: فوائد: … بالوں کو نہ لپیٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بال لمبے ہیں تو ان کوپگڑی کے نیچے نہ دبایا جائے اور نہ پیچھے سے باندھا جائے، اسی طرح نماز میں آستین وغیرہ کو نہ چڑھایا جائے اور اس طرح بلاضرورت کپڑے کو لپیٹنے سے باز رہا جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2777
حدیث نمبر: 1738
عَنِ الْعَبَّاسِ (بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ الرَّجُلُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ) )
سیدنا عباس بن عبد المطلب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی سجدہ کرتا ہے تواس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: چہرہ، دونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے اوردونوں پاؤں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1780»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 491