🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ ثُمَّ نَسْخِهِ
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1679
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَٰذَا وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ
علقمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب اس بات کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے،پھر ہمیں اس چیز کا حکم دے دیا گیا تھا، پھر انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے گھٹنے پکڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 747، والنسائي: 2/ 184، وابن خزيمة: 595، وانظر الحديث رقم: 621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3974»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 747
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1680
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ (بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ) قَالَ: كُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ وَضَعْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، قَالَ: فَرَآنِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَنَهَانِي وَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ
مصعب بن سعد کہتے ہیں: میں جب رکوع کرتا تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا، جب سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے کہا:: ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے، لیکن پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 790، ومسلم: 535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1570، 1576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1576»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 790
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1681
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ، يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447، والترمذي: 39 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2604»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ماتھے کو دوران سجدہ اس طرح رکھا جائے کہ وہ زمین پر اچھی طرح ٹک جائے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا کہ جب نماز میں اعتدال اور سکون ہو گا اور ناک کو بھی زمین پر رکھ دیا جائے گا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شروع میں مسنون عمل یہ تھا کہ دورانِ رکوع ہاتھوں کو تشبیک دے کر ان کو گھٹنوںکے درمیان رکھا جائے اور دو مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب کھڑے ہوں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیا حکم اور عمل یہ پیش کیا کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھا جائے کہ ان سے ان کو پکڑرکھا ہو اور ایک مقتدی امام کے دائیں جانب اور دو اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ اب امت ِ مسلمہ میں دوسرے طریقے کے مطابق ہی عمل ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مِقْدَارِ الرُّكُوعِ وَصِفَتِهِ وَالطُّمَأْنِينَةِ فِيهِ وَفِي جَمِيعِ الْأَرْكَانِ عَلَى سَوَاءٍ
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّفَاوِيُّ ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ قَدْرِ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ، فَقَالَ: قَدْرَ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا
بنو تمیم کا ایک آدمی اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، (یہ سن کر) ہم نے ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع و سجود کی مقدار کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اتنا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی تین دفعہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث: «اسناده ضيعف لجھالة الرجل التميمي۔ أخرجه البھيقي: 2/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20318»

الحكم على الحديث:
اسناده ضيعف لجھالة الرجل التميمي۔ أخرجه البھيقي: 2/ 111
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنِ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَكَانَ يَمْكُثُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا
۔ (دوسری سند)ان کا باپ ان کے چچے سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں بغور دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں اتنی دیر ٹھہرتے تھے، جیسے کوئی آدمی تین دفعہ یہ کلمہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة السعدي ومن فوقه۔ أخرجه ابوداود: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22685»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة السعدي ومن فوقه۔ أخرجه ابوداود: 885
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَٰذَا الْغُلَامِ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِي الرُّكُوعِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَفِي السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس نوجوان (یعنی عمر بن عبد العزیز) کی بہ نسبت کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا، جو نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ہم نے اس نوجوان کے رکوع و سجود میں دس دس دفعہ تسبیحات کا اندازہ لگایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وھب بن مانوس في عداد المجھولين۔ أخرجه ابوداود: 888، والنسائي: 2/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12690»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 792، ومسلم: 471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18661»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنییہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، اسی طرح تشہد بھی رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کی بہ نسبت لمبا ہوا کرتا تھا، جیسا نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 792
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ (وَفِي رِوَايَةٍ أَعْطُوا كُلَّ سُورَةٍ حَظَّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ) ) ) قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ بِالسُّوَرِ، فَتَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَكَ هَٰذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: إِنِّي لَا أَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ كَمْ حَدَّثَنِيهِ، حَدَّثَنِي مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سورت کے لئے رکوع و سجود سے اس کا حصہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ہر سورت کو رکوع وسجود سے اس کا حصہ دے دو۔ عاصم کہتے ہیں: میں بعد میں ابو العالیہ کو ملا اور اسے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو ایک رکعت میں کئی سورتوں کی تلاوت کر جاتے ہیں، کیا تو یہ جانتا ہے کہ کس نے تجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: کوئی شک نہیں کہ میں اسے جانتا ہوں اور میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس نے پچاس برس پہلے یہ حدیث بیان کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20590، 20651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20927»
وضاحت: فوائد: … امام ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو کتاب الصلاۃ کے باب من کان لا یجمع بین السورتین فی رکعۃ میں ذکر کیا۔ امام ابن ابی شیبہیہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک رکعت میں صرف ایک سورت کی تلاوت کرنی چاہیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث میں ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیں پڑھنا ثابت ہیں، جیسا کہ اسی کتاب میں احادیث نمبر۵۵۲، ۵۵۳، ۵۵۴ میں اس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو عمدگی ٔ حروف اور وضاحت کے اعتبار سے نماز میں قرآن مجید کا تلاوت کا حق ادانہیں کرتا، بلکہ اسے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھ جاتا ہے۔ یا اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اگر قراء ت لمبی ہو تو رکوع و سجود بھی لمبے ہونے چاہئیں اور اگر قراء ت مختصر ہو تو رکوع و سجود بھی مختصر ہونے چاہئیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۲۸) سے ثابت ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 369
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَوْ وَضِعَ قَدْحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهْرَقْ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو (ایسے برا برہوتے تھے) کہ اگر پانی کا پیالہ آپ کی پیٹھ پر رکھا جائے تو وہ بھی نہ بہتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «حسن انظر سلسلة الاحاديث الصحيحة: 3331۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 997»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس حدیث کا معنی ثابت ہو جاتا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو سر کو نیچے کرتے نہ اوپر، بلکہ ان کیفیتوں کے درمیان میں رکھتے تھے۔ نیز درج حدیث بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُجْزِیئُ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتّٰی یُقِیْمَ ظَھْرَہٗفِیْ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) … ایسی نماز کفایت نہیں کرتی جس کے رکوع و سجدہ میں آدمی اپنی پیٹھ (بالکل) سیدھی نہ کرے۔ اس سنت لازمہ پرعمل کرنا صرف اس وقت ممکن ہے جب آدمی اعتدال اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھے گا۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

الحكم على الحديث:
حسن انظر سلسلة الاحاديث الصحيحة: 3331۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 997
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ بُطْلَانِ صَلَاةِ مَنْ لَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ هَانِئِ بْنِ مَعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي هَٰذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَٰذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنَ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا، قَالَ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ؟ فَقِيلَ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ الْأَنْصَارِيُّ
ہانی بن معاویہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج کیا، میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی لوگوں کو حدیث بیان کررہا تھا، اس نے کہا: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے آکر اس ستون کے پاس نماز پڑھی اور اس نے اپنی نماز پور ی کرنے میں جلدی کی اور پھر وہ چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ شخص مر جائے تو اس حالت میں مرے گا کہ دین کی کسی چیز سے یہ متصف نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی نماز مکمل کرتے ہوئے بھی تخفیف کر سکتا ہے۔ میں نے اس (حدیث بیان کرنے والے) آدمی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، ولجھالة حال البراء بن عثمان و ھانئ بن معاوية الصدفي۔ أخرجه: الطبراني في الكبير: 8310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17375»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، اس کی اصل اگلی حدیث ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں