الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ الْقُنُوتِ فِي الظُّهْرِ وَصَلَوَاتٍ أُخْرَى
ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 1768
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ قَنَتَ وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةً، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں جب آخری رکوع سے سر اٹھاتے تو قنوت کرتے اورکہتے: اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دلا، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دلا،اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا اے اللہ! کمزور مؤمنوں کو نجات دلا اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کردے، اے اللہ! اسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط سالی کردے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6393، ومسلم: 675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10074»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6393
حدیث نمبر: 1769
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو قُطْنٍ وَأَبُو عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ صَلَاةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ: الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمہارے سامنے رکھوں گا،ایک روایت میں ہے:بلاشبہ نماز کے لحاظ سے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوں، پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ظہر، عشاء اورفجر کی نمازوں کی آخری رکعت میں قنوت کیا کرتے تھے، جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے، اس میں مؤمنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 797، ومسلم: 676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7457»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 797
42. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجَهْرِ بِالْقُنُوتِ
بلند آواز سے قنوت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1770
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) ) مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيَوْمٍ مِنْ مَنْ خَلْفَهُ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَٰذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ
سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت کی، جب آپ آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تویہ قنوت کرتے، جس میں بنو سلیم کے ایک قبیلے رِعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے مقتدی آمین کہتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ عفان نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ عکرمہ کہتے تھے کہ یہ قنوت شروع ہونے کا سبب تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2746»
وضاحت: فوائد: … احناف نے قنوت ِ نازلہ کو نمازِ فجر کے ساتھ خاص کر دیا ہے، لیکن دوسری نمازوں پہ مشتمل روایات ان کے اس نظریے کا ردّ کرتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1443
حدیث نمبر: 1771
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُو لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ: إِذَا قَالَ: ( (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ) ) قَالَ يَجْهَرُ بِذَلِكَ، وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا حَيَّيْنِ مِنَ الْعَرَبِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا کرنے یا کسی کے حق میں دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہہ لیتے تو اس طرح دعا کرتے: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کو نجات عطا فرما، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کر دے اور اس کو ان پر یوسف علیہ السلام کے قحط کی طرح قحط بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا جہری آواز کے ساتھ کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں تو یہ بددعا کرتے تھے: اے اللہ! فلاں فلاں (عرب کے دو قبیلوں) پر لعنت کر، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4560، ومسلم: 675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7458»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4560
43. بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِعَدَمِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ إِلَّا عِنْدَ النَّوَازِلِ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 1772
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) (1) قَالَ: رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِلَى أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ، اللَّهُ أَكْبَرُ) ) ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں رکوع کیا، پھر سر اٹھا یا اور یہ دعا کی:اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا … … اے اللہ! اس کو ان پر یوسف علیہ السلام والا قحط بنا دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10528»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10528
حدیث نمبر: 1773
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ! إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَٰهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناعمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 402، وابن ماجه: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15974»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 402
حدیث نمبر: 1774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما (کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27751»
وضاحت: فوائد: … کئی احادیث ِ مبارکہ میں قنوت نازلہ کا ثبوت ملتا ہے، بعض کا ذکر اس باب سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔ تو پھر اس روایت میں صحابی کا اس عمل کو بدعت یا نیا عمل کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جوابات ہی زیادہ مناسب ہیں: (۱)صحابی کا مقصد دوام اور ہمیشگی کو ردّ کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حادثات و واقعات کے مطابق کبھی کبھار قنوتِ نازلہ فرماتے تھے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
44. بَابُ الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ وَأَلْفَاظِهِ
وتر میں قنوت اور اس کے الفاظ کا بیان
حدیث نمبر: 1775
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهَا فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: ( (اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ) )
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قنوتِ وتر میں پڑھنے کے لیے ان کلمات کی تعلیم دی: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، اِنَّہٗلَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ،تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا،اے ہمار ے ربّ! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 248، وابن خزيمة: 1095، والطبراني: 2712، والبيھقي: 2/209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1718»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کی روایت میں آخری جملے سے پہلے وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ (اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔)کے الفاظ کا بھی ذکر ہے، عام لوگوں کو ان الفاظ سمیتیہ دعا یاد ہے۔ قنوت وتر میں اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ … … پڑھنا کیسا ہے؟ کسی صحیح اور مرفوع روایت سے اس دعا کو قنوتِ وتر میں پڑھنا ثابت نہیں ہوتا، سنن بیہقی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دعا کو قنوت نازلہ میں پڑھنے کی تعلیم دی گئی، لیکنیہ حدیث مرسل ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ دعا ثابت ہے، لیکن وہ بھی اس کو رکوع کے بعد والی قنوت نازلہ میں پڑھتے تھے، یہ بھی سنن بیہقی کی روایت ہے۔ رکوع سے پہلے قنوت وتر پڑھنی چاہیے: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں سورۂ اعلی، دوسری میں سورۂ کافرون اور تیسری میں سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے اور رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔ (نسائی: ۱۶۹۹) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یُوْتِرُ فَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھتے تھے اور رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے تھے۔(ابن ماجہ: ۱۱۸۲)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 248
45. (أبواب التشهد)
تشہد کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: Q1776]
46. 1 - بَابُ مَا وَرَدَ فِي أَلْفَاظِهِ
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
حدیث نمبر: 1776
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا، فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ، فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى ( (التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) ) قَالَ: ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ، وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد سکھایا،اسود بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یادکرتے تھے جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی، پس وہ کہتے تھے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہُ۔ پھراگرنمازکےدرمیان میں ہوتے تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تو اتنی دعائیں کرتے، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پھر سلام پھیر دیتے۔ تشہد کا ترجمہ:تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 831، ومسلم: 402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3622، 4382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4382»
وضاحت: فوائد: … تشہد کے پہلے تین کلمات التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ کاایک ایک معنی ترجمہ میں بیان کر دیا ہے، ان الفاظ کے مزید معانی درج ذیل ہیں:
اَلتَّحِیَّاتُ: سلامتی، بقا، عظمت، آفات اور نقائص سے سلامتی، بادشاہت
الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت
الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ
اَلتَّحِیَّاتُ: سلامتی، بقا، عظمت، آفات اور نقائص سے سلامتی، بادشاہت
الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت
الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 831