الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا هُوَ سَنَّ عَلَى مُصَلٍّ آخَرَ
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
حدیث نمبر: 1590
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ وَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُمْ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَقَالَ: ( (أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ بلند آوازسے قراءت کر رہے تھے، جبکہ وہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے پردے ہٹائے او رفرمایا: خبر دار! یقینا تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشی کرنے والا ہے، اس لیے کوئی کسی کو تکلیف نہ دے اور کوئی بھی دوسرے کے پاس نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11918»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1332
حدیث نمبر: 1591
عَنِ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: ( (إِنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ) )
سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے او ر ان کی آوازیں قراءت کے ساتھ بلند ہورہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نمازی اپنے رب تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اس ذات سے جو سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس میں غور کرے اور کوئی بھی کسی پر بآواز بلند قرآن کی تلاوت نہ کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 80، والنسائي في الكبري: 3364، والبيھقي: 3/11، عبد الرزاق: 4217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19231»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ جب ایک نمازی کسی دوسرے نمازی کی قراء ت کی آواز سنے گا تو وہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھ سکے گا اور اس کی توجہ بٹ جائے گی، اس لیے جب لوگ ایک مقام پر نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ مکمل خاموشی اختیار کریں، ہاں جب کوئی خلوت میں ہو تو وہ نماز میں بلند آواز سے قراء ت کر سکتا ہے۔ جو لوگ نمازی کے قریب گپیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ان کو اپنے کیے پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ نمازی کے قریب تو قرآن مجید کی تلاوت بھی ناجائز ہے۔ نمازی لوگوں کو ان احادیث سے یہ اندازہ بھی کر لیناچاہیے کہ نماز میں کتنی توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اکثر نمازیوں کی صورتحال ہے کہ نماز کے رٹے رٹائے کلمات ہوتے ہیں اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان کلمات کو رٹا لگا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ سرے سے قریب سے آنے والی آوازوں سے متاثر ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نمازیں ہمارے ضمیر میں اللہ تعالیٰ کا وہ مقام پیدا نہ کر سکیں، جو ہونا چاہیے تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 80
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّأْمِينِ وَالْجَهْرِ بِهِ فِي الْقِرَاءَةِ وَإِخْفَائِهِ
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1592
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ عُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 780، ومسلم: 410، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7187، 9921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7187»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 780
حدیث نمبر: 1593
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قراءت کرنے والا(امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9923»
وضاحت: فوائد: … پہلی حدیث میں ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو مقتدی آمین کہیں، لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ جب امام آمین کہے تو مقتدی آمین کہیں۔ ان دونوں احادیث کا ایک مفہوم ہی ہے، پہلی حدیث کا معنییہ ہے کہ جب امام {وَلَا الْضَّالِّیْنَ} سے فارغ ہو جائے اور دوسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب امام آمین کہنے لگے تو مقتدی آمین کہیں، اس طرح امام، مقتدی اور فرشتے، سب کی آمین ایک وقت میں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 1594
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں۔ اگر اس کی آمین ان کی آمین سے موافقت کر جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9926»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم: 542
حدیث نمبر: 1595
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقَالَ آمِينَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932، 933، والترمذي: 248، 249، وابن ابي شيبة: 2/ 425، والدارقطني: 1/ 333، والبيھقي: 2/ 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19048»
وضاحت: فوائد: … سنن بیہقی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: یَرْفَعُ بِھَا صَوْتَہٗ۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتے تھے۔ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ آپ آمین کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا بھی کرتے اور بلند بھی کرتے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 932
حدیث نمبر: 1596
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَرَأَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ آمِينَ وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو آہستہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں بائیں سلام پھیرا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: واخفي بھا صوته فقد أخطأ فيها شعبة۔ أخرجه الطيالسي: 1024، والبيھقي: 2/ 57، والدار قطني: 1/ 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19060»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا حدیث غور طلب ہے، امام سفیان نے اس کو یوں بیان کیا ہے: سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو لمبا کیا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۲، ابوداود: ۹۳۲، ترمذی: ۲۴۸، دارقطنی: ۱/ ۳۳۳، دارمی: ۱۲۴۷، ابن ابی شیبہ: ۲/ ۴۲۵) لیکن جب امام شعبہ نے بیان کیا تو ان کے الفاظ یہ تھے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اپنی آواز کو پست کیا۔ (حوالہ اوپر گزر چکا ہے) یہ کوئی پریشان کن صورت نہیں ہے، کیونکہ جب امام سفیان اور امام شعبہ کا اختلاف ہو جائے تو امام سفیان کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ائمہ کرام نے اسی اصول کو ترجیح دی ہے۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں امام شعبہ کی اس خطا پر تنبیہ کی ہے، پھر امام ترمذی نے اپنی جامع اور العلل الکبیر میں ان سے نقل کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علاء بن صالح نے امام سفیان کی آمین بالجہر والی روایت پر متابعت کی ہے، اس متابعت کا ذکر ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۹۹، ابوداود: ۹۳۳، ترمذی: ۲۴۹ میں موجود ہے۔ (انظر: ۱۸۸۴۲، وشرحہ) خلاصۂ کلام: سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلند آواز سے آمین کہنا ثابت ہوتا ہے۔ آمین بالجہر کے مزید دلائل درج ذیل ہیں: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَائَ ۃِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَہٗوَقَالَ: ((آمِیْن۔)) … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام القرآن (سورۂ فاتحہ) کی قرائـت سے فارغ ہوتے تو آواز کو بلند کرتے ہوئے آمین کہتے۔ (ابن حبان:۴۶۲، دارقطنی: ۱۲۷، حاکم: ۱/۲۲۳، بیھقی: ۲/ ۵۸،صحیحہ:۴۶۴) شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کا بلند آواز سے آمین کہنا مشروع ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحق وغیرہ کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابوحنیفہ اور ان کے پیروکار اس کے قائل نہیں ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اِن لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، سوائے ان عمومات کے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ذکر میں اصل قانون یہ ہے کہ آواز کو پست رکھا جائے۔ لیکن اس قسم کے عام دلائل، اس باب کی خاص اور واضح روایات کے مقابلے میں مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔ بہرحال اس حقیقت کو ایسے اہل علم سمجھ پائیں گے، جن کو اللہ تعالیٰ نے عقلی جمود اور مذہبی تعصب سے پاک رکھا ہے۔ (صحیحہ: ۴۶۴) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا حَسَدَتْکُمُ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ مَا حَسَدَتْکُمْ عَلٰی آمِیْن، فَأَکْثِرُوْا مِنْ قَوْلِ آمِیْن۔)) … جس قدر تم پر یہودی، آمین سے چڑتے ہیں، اتنا کسی اور چیز سے تم پر نہیں چڑتے، لہٰذا تم کثرت سے آمین کہنا۔ (ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ) امام ابو حنیفہ کے استاد امام عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں نے دو سو (۲۰۰) صحابہ کو دیکھا کہ بیت اللہ میں جب امام {وَلَا الضَّالِّیْنَ} کہتا تو سب بلند آواز سے آمین کہتے۔ (بیہقی) نعیم مجمر کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز پڑھائی، پھر نعیم اس طریقے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے آمین کہی اور جو لوگ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے انھوں نے بھی آمین کہی۔ (نسائی) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَرَأَ الإِْمَامُ: {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاالضَّالِیْنَ} فَأَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوْا، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تُؤَمِّنُ عَلٰی دُعَائِہٖ،فَمَنْوَافَقَتَأْمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔)) … جبامام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھ کر آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی امام کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (أبو یعلی:۴/۱۴۰۸، صحیحہ:۲۵۳۴) شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ مقتدیوں کو آمین بآواز بلند کہنا چاہیے، ایک دوسری کتاب میں میں نے اسی استنباط کی طرف اپنے میلان کا اظہار کیا ہے، کیونکہیہ استدلال سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے اثر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کے مطابق ہے۔ (صحیحہ: ۲۵۳۴) سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کاکون سا اثر مراد ہے؟ اس کے بارے میں امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے خود کہا: پھر میں نے امام بخاری کو دیکھا، انھوں نے صیغۂ جزم کے ساتھ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا معلق اثر ذکر کیا۔ جس پر کلام کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۲۰۸) میں کہا: عبد الرزاق نے اس اثر کو ابن جریج عن عطاء کی سند سے موصول بیان کیا ہے، ابن جریج نے عطاء سے پوچھا: کیا عبد اللہ بن زبیر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آمین کہتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اور اس کے مقتدی بھی آمین کہتے تھے، حتی کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔ پھر انھوں نے کہا: آمین دعا ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ یہ روایت مصنف عبد الرزاق (۲۶۴۰) میں ہے اور امام ابن حزم نے انہی کی سند کے ساتھ (المحلی: ۳/ ۳۶۴) میں بیان کی ہے۔ چونکہ ابن جریج نے یہ روایت عطاء سے براہِ راست لینے کی وضاحت کی ہے، اس لیے ان کی تدلیس کا خطرہ ٹل گیا ہے اور ابن زبیر کا اثر ثابت ہو گیا ہے۔ اسی قسم کا اثر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، ابو رافع کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان بن حکم کے مؤذن تھے۔ انھوں نے مروان پر شرط لگائی ہوئی تھی کہ وہ اس وقت تک {وَلَاالضَّآلِیْن} نہیں کہہ سکتا، جب ان کے آنے کا علم نہ ہو جائے۔ پس جب مروان {وَلَا الضَّاْلِیْن} کہتا تھا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آمین کہتے اور اپنی آواز کو لمبا کرتے اور کہتے تھے: جب زمین والوں کی آمین، آسمان والوں کی آمین سے موافقت کرتی ہے تو ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (بیہقی: ۲/ ۵۹) اس کی سند صحیح ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے آمین بالجہر کہنا صحیح ثابت ہوگیا ہے، اس کے برعکس کسی صحابی سے کوئی اثر ثابت نہیں ہے، اس لیے اسی بات پر دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ بلند آواز سے آمین کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۹۵۲)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: واخفي بھا صوته فقد أخطأ فيها شعبة۔ أخرجه الطيالسي: 1024
13. بَابُ حُكْمِ مَنْ لَمْ يُحْسِنْ فَرْضَ الْقِرَاءَةِ
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
حدیث نمبر: 1597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَمُرْنِي بِمَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) ) قَالَ: فَقَالَهَا الرَّجُلُ وَقَبَضَ كَفَّهُ وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذَا لِلَّهِ تَعَالَى فَمَا لِنَفْسِي؟ قَالَ: ( (قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي) ) قَالَ: فَقَالَهَا وَقَبَضَ عَلَى كَفِّهِ الْأُخْرَى وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَقَدْ قَبَضَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ مَلَأَ كَفَّيْهِ مِنَ الْخَيْرِ
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے ایسی چیز کا حکم فرمائیں جو مجھے اس سے کفایت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تویہ کہہ لیا کر: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔ (سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، گناہ سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں اور نہ ہی نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے مگر اللہ (کی مدد) کے ساتھ) اس آدمی نے یہ کلمات کہے اور اپنی ہتھیلی بند کر لی، کیونکہ اس نے ان کلمات کو انگوٹھے سمیت پانچ تک شمار کیا تھا، پھر وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ (کلمات) تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے اپنے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (اپنے لیے) یہ کہہ لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے،مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما) اس نے یہ (کلمات) کہے اور اپنی دوسری ہتھیلی کو بھی بند کر دیااور اپنے انگوٹھے سمیت پانچ تک شمار کیا، پھر وہ آدمی چلا گیا، جبکہ اس نے دونوں ہتھیلیاں بند کی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یقینا اس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں خیر سے بھر لی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابراهيم السكسكي۔ أخرجه ابوداود: 832، والطيالسي: 813، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19110، 19409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19629»
وضاحت: فوائد: … سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی تعلیم دی اور اسے فرمایا: ((اِنْ کَانَ مَعَکَ قَرْآنٌ فَاقْرَأْ وَاِلَّا فَاحْمَدِ اللّٰہَ وَکَبِّرْہُ وَھَلِّلْہُ ثُمَّ ارْکَعْ۔)) یعنی: اگر تیرے پاس قرآن مجید ہے تو اس کی تلاوت کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر، اس کی بڑائی اور تہلیل بیان کر۔ (ابوداود، نسائی، ابن ماجہ) معلوم ہوا کہ جس آدمی کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے پر قدرت حاصل نہ ہو وہ نماز مین یہ کلمات کہہ لیا کرے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ حسب ِ امکان قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ جو آدمی مشرف باسلام ہوتا ہے، اس پر فوراً نماز فرض ہو جاتی ہے، اگر وہ اس مختصر وقت میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل نہ کر سکے، تو ان کلمات کے ساتھ نماز ادا کر کے پہلی فرصت میں فرض قراء ت کی تعلیم حاصل کرے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه
14. بَابُ قِرَاءَةِ السُّورَةِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ وَهَلْ تُسَنُّ قِرَاءَتُهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ أَمْ لَا
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں¤اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1598
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ) وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَا فِي الصُّبْحِ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے اور ظہر و عصر میں پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتوں کی تلاوت کرتے اور بسا اوقات ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے تھے، ایک روایت میں ہے: دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور ظہر کی پہلی رکعت میں (قراءت کو) لمبا کرتے اور دوسری میں مختصر کرتے اور نماز فجر میں بھی ایسے ہی کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19638»
وضاحت: فوائد: … اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض و نفل کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی دوسری دو رکعت میں صرف فاتحہ شریف کی تلاوت پر بھی اکتفا کر لیتے تھے اور بحیثیت ِ رکعت پہلی اور آخری رکعات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 451
حدیث نمبر: 1599
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس تیس آیتوں کے اور دوسری دو رکعتوں میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر تلاوت کرتے اور نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11824»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ کے علاوہ مزید تلاوت کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 452