🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْمُخَطَّطِ وَفِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَفِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1963
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَلْيَجْعَلْ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان مخالفت ڈالے اور ان کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11132»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ، قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ قَالَ حَائِضٌ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی کہ آپ پر آپ کی کسی بیوی کی چادر تھی اور اس کا کچھ حصہ اس بیوی پر تھا، سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا تھا کہ وہ حائضہ تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 333، 379، 517، ومسلم: 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26804، 26806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27340»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 333
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1965
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا وَهِي مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي طَرَفُ ثَوْبِهِ
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ حائضہ ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سجدہ گاہ کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جبکہ آپ اپنی چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے کا ایک کنارہ مجھے لگ جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27342»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1966
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوتی تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے مجھے لگ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27343»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اگر نماز کا کپڑا حائضہ کو لگ رہا ہو تواس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْمَرْأَةِ أَمَامَ الْمُصَلِّي فِي الظَّلَامِ
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1967
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَتْ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دباتے، پس میں اپنی ٹانگوں کو اکٹھا کر لیتی،جب آپ کھڑے ہوتے تو میں ان کو پھیلا دیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 382، 513، 1209، ومسلم: 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25663»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 382
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1968
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مُضْطَجِعَةً
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں:بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اورمیں (کبھی) آپ کی دائیں اور (کبھی) بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1968]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 4819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24642، 25130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25643»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 4819
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1969
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی، جس طرح جنازہ پڑا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1969]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 384، ومسلم: 512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24589»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1970
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِي مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے تھے کہ وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔جناب عروہ نے کہا: کیایہ عورتیں تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1970]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي دون القولي منه: 1452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24863»
وضاحت: فوائد: … قولی حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہر خاتون کسی نہ کسی کی ماں، خالہ یا پھوپھی ہوتی ہے، اس لیے نمازی کے سامنے ان کے اس طرح لیٹنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي دون القولي منه: 1452
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قُلْتُ: أَبَيْنَهُمَا جَدْرُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: لَا، فِي الْبَيْتِ إِلَى جَدْرِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه عبد الرزاق: 1073، واسحاق بن راھويه في مسنده: 821، وانظر الحديث رقم: 875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26166»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ بعض ضعیف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونا منع ہے، اگر وہ ثبوت کے درجہ تک پہنچ جائیں تو ان کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا کہ جب سونے والے آدمی کی وجہ سے نمازی کا خشوع وخضوع متأثر ہو رہا ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه عبد الرزاق: 1073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. أبواب سجود السهو
سجدہ سہو کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: Q1972]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں