🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ جَوَازِ قَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وَالْمَشْيِ الْيَسِيرِ وَالِالْتِفَاتِ فِيهَا لِحَاجَةٍ
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1953
عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْأَهْوَازِ عَلَى حَرْفِ نَهْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يُصَلِّي، فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اخْزِ هَٰذَا الشَّيْخَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتًّا أَوْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيَةً فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ، فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ، وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ
ازرق بن قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اہواز مقام میں دریا کے ایک کنارے پر تھے، انھوں نے سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ کر نماز شروع کر دی، اتنے میں سواری پیچھے ہٹنے لگ گئی اور وہ بھی اس کے ساتھ پیچھے ہونے لگ گئے، ایک خارجی آدمی نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے اللہ! اس شیخ کو ذلیل کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے تمہاری بات سنی ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ غزوے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات اور آسانی کا مشاہدہ کیا،(جن سے میں نے یہ استدلال کیا کہ) میرا نماز کے اندر سواری کے ساتھ پیچھے ہٹ جانا، یہ اس سے ہلکا تھا کہ میں اس کو چھوڑ دیتا اور وہ اپنی چراگاہ کی طرف چلی جاتی اور یہ میرے لیے مشقت کا باعث بنتی۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت عصر کی نماز پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1211 دون تعيين الصلاة وعدد ركعاتھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20008»
وضاحت: فوائد: … یقینا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصتوںکی روشنی میں اس انداز میں نماز پڑھنے کو درست سمجھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1211 دون تعيين الصلاة وعدد ركعاتھا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1954
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی حالت میں دائیں بائیں جھانک لیتے تھے، لیکن اپنی گردن کو اپنے پیٹھ کی طرف نہیں موڑتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 587، والنسائي: 3/ 9، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2485»
وضاحت: فوائد: … نماز کو باطل کر دینے والی چیزوں کے تحت باب نمبر ۴ میں اس مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 587
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1955
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ
عکرمہ کا ایک شاگرد بیان کرتا ہے کہ جنابِ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں گردن موڑے بغیر اِدھر اُدھر دیکھ لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «ھذا مرسل۔ أخرجه الترمذي: 588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2486»

الحكم على الحديث:
ھذا مرسل۔ أخرجه الترمذي: 588
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1956
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْتَشْرِفُ لِشَيْءٍ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِ
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4083»
وضاحت: فوائد: … یقینی طور پر ان احادیث کو ضرورت پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بڑی مصلحت کی بنا پر ادھر ادھر دیکھنے کو مناسب سمجھا، ہم اس موضوع پر باب نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان میں گفتگو کر آئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ فِي جَوَازِ حَمْلِ الصَّغِيرِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1957
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي صَبِيَّةٌ فَحَمَلَهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، یہ ایک بچی تھی اور اس کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں، آپ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، جبکہ وہ بچی آپ کے کندھے پر تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اسے کندھے پر اٹھا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حالت میں نماز پڑھی کہ وہ آپ کے کندھے پر تھی، حتیٰ کہ نماز پوری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ اسی طرح کرتے رہے (کہ ہر رکوع کے وقت رکھ دیتے تھے)۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5996، ومسلم: 543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22954»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5996
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَأُمَامَةُ بِنْتُ زَيْنَبَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي ابْنَةُ أَبِي الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى عَلَى رَقَبَتِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ مِنْ سُجُودِهِ أَخَذَهَا فَأَعَادَهَا عَلَى رَقَبَتِهِ، فَقَالَ عَامِرٌ وَلَمْ أَسْأَلْهُ أَيُّ صَلَاةٍ هِيَ قَالَ ابْنُ جُرَيجٍ وَحُدِّثْتُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهَا صَلَاةُ الصُّبْحِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: جَوَّدَهُ
سیدنا ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ سیدہ امامہ بنت زینب بنت نبی کریم رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر تھی اوریہ ابو العاص بن ربیع کی بیٹی تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی گردن پر دوبارہ اٹھالیتے۔ عامر کہتے ہیں:میں نے عمرو بن سلیم سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کون سی نماز تھی۔ ابن جریج کہتے ہیں:مجھے زید بن ابی عتاب سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ نمازِ فجر تھی، ابو عبد الرحمن نے کہا: ابن جریج نے (نماز فجر کے ذکر) والی روایت کو جیّد کہا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق رقم: 864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22959»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق رقم: 864
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1959
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَهُوَ حَامِلُ حَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَي صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا، قَالَ: إِنِّي رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَرَجَعْتُ فِي سُجُودِي، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ سَجَدْتَّ بَيْنَ ظَهْرَي الصَّلَاةِ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ، قَالَ: ( (كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَلَٰكِنِّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ) )
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچھلے پہر کی ظہر یا عصر کی نماز کے لیے ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن یا سیدنا حسین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اسے بٹھاکر نماز کے لیے تکبیر کہی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، بیچ میں آپ نے ایک طویل سجدہ کیا، جب میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا (کہ کیا وجہ ہے) تو اچانک وہی بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پر تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، تو میں اپنے سجدہ میں لوٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کیا کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ کوئی معاملہ پیش آگیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں تھی،یہی میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا اور میں نے ناپسند کیا کہ اس سے جلدی کروں، یہاں تک کہ وہ اپنا شوق پورا کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 229، وابن ابي شيبة: 12/ 100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16033، 27647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28199»
وضاحت: فوائد: … پہلی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی کو اٹھا کر نماز پڑھی۔ اس فعل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھنا یا اس کے منسوخ ہونے کا دعوی کرنا، سب باطل امور ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعلِ مبارک سے ہمیں یہ رخصت ملتی ہے کہ اگر کسی مجبوری کی بنا پر ایسے کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کئی گھروں میں دیکھا کہ بعض مائیں اس تلاش میں پھر رہی ہوتی ہیں کہ کوئی ان کے چھوٹے بچے کو اٹھائے تاکہ وہ نماز پڑھ سکیں، اس طرح ان کی کئی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، اگر ان کو اس رخصت کا علم ہو جائے تو اس میں ان کے لیے کئی آسانیاں ہیں، بشرطیکہ وہ رخصت قبول کرنے والی ہوں۔ بعض فقہا نے کہا ہے کہ چونکہ عرب لوگ بچیوں کو ناپسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ بعض عرب ان کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کرنے میں مبالغہ کیا اور نماز میں بچی کو اٹھا کر اس کی اہمیت کو ظاہر کیا۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 229
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْمُخَطَّطِ وَفِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَفِي ثَوْبٍ بَعْضُهُ عَلَى
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1960
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بُرْدَةٍ حِبْرَةٍ قَالَ أَحْسَبُهُ عَقَدَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار یمنی چادرمیں نماز پڑھی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2140، والترمذي في الشمائل: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11945، 13510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11967»
وضاحت: فوائد: … دوکناروں کے درمیان گرہ لگانے سے مراد توشیح ہے، جس کی تعریفیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈال دیا جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دی جائے۔ لباس کا مکمل بیان شرمگاہ کو ڈھانپنے کے بارے میں ابواب میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1961
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ آخری نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں پڑھی تھی وہ ایک کپڑے میں تھی، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توشیح کر رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم۔ أخرجه النسائي: 2/ 79، والترمذي: 363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12617، 13556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13591»
وضاحت: فوائد: … توشیح کا بیان اوپر والی حدیث میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1962
عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَٰكَذَا
ابراہیم بن ابو ربیعہ کہتے ہیں: ہم سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ پر داخل ہوئے اور وہ ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر علیحدہ رکھی ہوئی تھی، میں نے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 311، وابو يعلي: 4030، والبزار: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12305»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 311
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں