الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ
نماز میں شک کرنے والا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1982
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ) )
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن مسلم المكي البصري متروك الحديث، قاله النسائي۔ أخرجه البزار: 997، وابويعلي: 855، والدارقطني: 1/ 369، والبيھقي: 2/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1689»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درج ذیل حدیث کی بنا پر درست ہے: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اس کو ایک سمجھے اور اگر اسے یہ شک پڑ جائے کہ دو رکعات پڑھی ہیںیا تین، تو ان کو تین سمجھے، … …۔ (حسن لغیرہ، مسند احمد: ۱۶۵۶، ترمذی: ۳۹۸، ابن ماجہ: ۱۲۰۹)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1983
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ) )
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن مسافع لا يعرف بجرح ولا تعديل، ومصعب بن شيبة لين الحديث، وعقبة (والصواب: عتبة) بن محمد ليس بمعروف، وذكره ابن حبان في الثقات و ضعّفه ابن قدامة في المغني، ثم ھو مضطرب۔ أخرجه النسائي: 3/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1747، 1761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1761»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1984
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 928، 929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9936، 9937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعمرو شیبانی نے کہا: لَاغِرَارَ کا معنییہ ہے کہ آدمی اپنی نماز سے اس حال میں نہ نکلے کہ اسے نماز کے کسی حصے کے باقی رہنے کا گمان ہو، بلکہ (وہ اس وقت سلام پھیرے) جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ ابن اثیر نے کہا: غِرَارُ الصَّلَاۃِ سے مراد نماز کی کیفیات و ارکان میں نقص کرنا ہے اور غِرَارُ التَّسْلِیْمِ سے مراد یہ ہے کہ نمازی (جوابًا) وَعَلَیْکَ کہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: وَلَا تَسْلِیْمَ کا یہ معنی نہیں کہ غیر نمازی، نمازی کو سلام نہ کہے، کیونکہ کئی احادیث میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارے سے جواب دیتے تھے)۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قبا میں گئے اور نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں انصاری لوگ آئے اور آپ کو سلام کہا، حالانکہ آپ نماز میں تھے۔ میں نے سیدنا بلال سے پوچھا: جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت ِ نماز میں سلام کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ (اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح کرتے تھے۔ پھر (آپ کے ہاتھ کی کیفیت بیان کرنے کے لیے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔ (ابوداود) (صحیحہ: ۳۱۸) خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ جب تک نمازی کو نماز کی تکمیل کا یقین نہ ہو جائے وہ سلام نہیں پھیر سکتا، نیز وہ سلام کا جواب بول کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اسے کلام کہتے ہیں، جو نماز میں حرام ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 928
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ) عَنْ سُفْيَانَ (يَعْنِي الثَّوْرِيَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا إِغْرَارَ فِي الصَّلَاةِ) ) فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ لَا غَرَارَ فِي الصَّلَاةِ، وَمَعْنَى غِرَارَ يَقُولُ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ عَلَى الْيَقِينِ وَالْكَمَالِ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْقَوْلُ بَعْدَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ: 887
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نماز میں نقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی صحیح احادیث میں سہو کے دو سجدوں کی درج ذیل تین صورتیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
(۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9938
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ لِلْمُصَلِّي وَمَا يَدْفَعُ ذَلِكَ
نمازی کے لیے شیطان کے وسوسے ڈالنے اور اسے دفع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1986
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَمَّارًا (يَعْنِي بْنَ يَاسِرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَا أَرَاكَ إِلَّا خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: هَلْ نَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، وَلَٰكِنْ خَفَّفْتَهُمَا، قَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا السَّهْوَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا عُشْرُهَا أَوْ تُسْعُهَا أَوْ ثُمَنُهَا أَوْ سُبُعُهَا، …) ) حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ
سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی، عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا: اے ابو الیقظان! میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: کیا میں نے اس کی حدود و قیود میں سے کسی چیز کی کمی کی ہے؟ وہ کہنے لگے: نہیں، لیکن آپ نے ان میں تخفیف کی ہے۔ انہوں نے کہا: (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے بھولنے سے پہلے جلدی جلدی ان کو ادا کر لیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک آدمی تو نماز پڑھتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس کے لیے اس کی نماز سے نہ ہو مگر دسواں حصہ، یا نواں حصہ، یا آٹھواں حصہ، یا ساتواں حصہ، …۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری عدد تک پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزار في مسنده: 1420، وابن حبان: 1889، ورواه النسائي في الكبري: 611، وابن ابي شيبة: 1/340 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19085»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه البزار في مسنده : 1420
حدیث نمبر: 1987
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَاصِمِ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ أَخَفَّهُمَا وَأَتَمَّهُمَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ ثُمَّ قُلْنَا لَهُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَكْعَتَيْكَ هَاتَيْنِ جِدًّا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! فَقَالَ: إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الشَّيْطَانَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فِيهِمَا، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند)ابن لاس خزاعی کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی، وہ بہت تخفیف والی تھیں، لیکن مکمل بھی تھیں، پھر وہ بیٹھ گئے، ہم کھڑے ہوئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم نے کہا: ابو الیقظان! آپ نے ان دو رکعتوں میں تخفیف کی ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں نے ان کو اپنے اندر شیطان کے داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیا ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18513»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے نماز تو اختصار سے پڑھی ہے، لیکن پوری توجہ کے ساتھ ادا کی ہے، اگر وہ طوالت اختیار کرتے تو ممکن تھا کہ شیطان دوسرے خیالات میں مبتلا کر دیتا۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہماری شریعت میں طویل قیام محبوب عمل ہے اور نماز میں شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو طریقہ بتلایا ہے، اس کا بیان اگلی حدیث ِ مبارکہ میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1988
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَالَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَبَيْنَ قِرَائَتِي، قَالَ: ( (ذَٰكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَهُ فَتَعَوِّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا) ) ، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَٰكَ فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! شیطان میرے اور میری نماز اور قراءت کے درمیان حائل ہوگیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنی بائیں جانب تھوک دے۔ انھوں نے کہا: پس میں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ وسوسہ ختم کردیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18057»
وضاحت: فوائد: … یقینی طور پر اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن جب کسی کو اِس حدیث میں مذکورہ طریقہ بتلایا جاتا ہے تو غفلت کی وجہ سے یا دوسرے لوگوں سے جھجک کر اس پر عمل بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ قارئین کرام! آپ شہادت دیں گے کہ آپ نے بہت کم کسی نمازی کو دیکھا ہو گا کہ وہ نماز کے اندر اس طرح شیطان سے پناہ مانگے، حالانکہ یہ بات یہیقینی ہے کہ اس وقت نمازیوں کی بھاری تعداد حقیقی نماز سے غافل ہے اور کئی قسم کے وسوسوں میں مبتلا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ طریقۂ نبوی استعمال نہیں کیا جاتا، اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلا: غفلت، دین میں عدم دلچسپی، فکر ِ آخرت کی کمی، لوگوں سے جھجک، جلد بازی، عبادت کے معیار سے ناواقفیت، نماز کے کلمات کو نہ سمجھنا۔ وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2203
23. بَابُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ وَفِيهِ ذِكْرُ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، قَالَ: ذَكَرَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَسِيَهَا مُحَمَّدٌ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتَى خَشَبَةً مُعْرُوضَةً فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ) فَقَالَ بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: ( (لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ (وَفِي رِوَايَةٍ مَا قُصِرَتْ وَمَا نَسِيتُ) ) ) ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: ( (كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ يُسْأَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 482، 1229، 6051، ومسلم: 573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7201، 7376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7200»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 482
حدیث نمبر: 1990
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشَّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 94، وابوداود: 1013، والنسائي: 3/ 25، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7653»
وضاحت: فوائد: … ائمۂ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں امام زہری کو وہم ہوا، جس کی وجہ سے انھوں نے اس قصے کو ذوالشمالین بن عبد عمرو کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ یہ صحابی غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے اور اس حدیث میں بیان کیا گیا واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا تھا، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے، سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی ذوالشمالین ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 94
حدیث نمبر: 1991
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ
۔ (چوتھی سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور بعد ازاں دو سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 715، 1227، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8998»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 715