الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ وَفِيهِ ذِكْرُ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 1992
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَهَا) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحَقُّ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ آخِرَتَيْنِ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي ضَمْدَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ
۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 573، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9458»
وضاحت: فوائد: … اس سند کے الفاظ سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقوعہ میں موجود تھے، کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ اور یاد رہنا چاہیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سات سن ہجری میں غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد کا ہے، اس لیے اس کو منسوخ نہیں سمجھا جا سکتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 573
حدیث نمبر: 1993
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ سَادِسٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ) ) ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: ( (أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
۔ (چھٹی سند)سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے اے اللہ کے رسول! یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا کچھ تو ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں پر متوجہ ہوکر فرمانے لگے: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بقیہ نماز مکمل فرمائی، پھر دو سجدے کیے، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 573 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9927»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 573 وانظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1994
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالَ: فَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عطا کہتے ہیں:سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اوردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کرحجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہواہے؟ (جب صورتحال بتائی گئی) تو انھوں نے بقیہ نماز پڑھی اور دو سجدے کیے، جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، مطر بن طھمان الوراق قد تابعه عن عطاء غير واحد۔ أخرجه الطيالسي: 2658، والبيھقي: 2/ 360، وعبد الرزاق: 3492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3285»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نمازی کسی رکن کی ادائیگی کے بغیر سلام پھیر دے، تو سابقہ نماز کو بنیاد بنا کر اپنی نماز مکمل کرے اور سلام پھیر کر سجدے کرے، لیکن سہو کے سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، جیسا کہ اگلے باب میں مذکورہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس حدیث سے ایک اور اہم مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نہ بھول کر نماز میں کلام کرنے والے کی نماز باطل ہوتی ہے اور نہ اس شخص کی کہ جو یہ سمجھ کر کلام کر رہا ہو کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔ حدیث میں مذکور صحابی ذوالیدین کا نام خرباق تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہا تھا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھییہ حدیث بیان کی تھی، ایک صحابی ذوالشمالین تھے، یہ خزاعی تھے اور ان کا نام عمیر بن عبد عمرو تھا، یہ غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ صحابی اس حدیث کے راوی نہیں ہیں، جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ احناف نے اس حدیث کو منسوخ قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث محکم ہے، کیونکہ مدنی دور کے شروع میں نماز میں کلام کی حرمت کا نزول ہو گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں مذکورہ واقعہ تو سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جیسا کہ ابھی ابھی تفصیل گزر چکی ہے، نیز اس موضوع پر نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان میں بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
24. بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ
سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو
حدیث نمبر: 1995
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدِهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: ( (أَصَدَقَ هَٰذَا؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی تین رکعت کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر اٹھ کر گھر چلے گئے، ایک آدمی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، اسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر تشریف لائے اور فرمایا: کیایہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں! تو آپ نے جو رکعت چھوڑی تھی، وہ ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20066»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 574
حدیث نمبر: 1996
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ هُوَ هَٰذَا، فَقَالُوا: طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ایک نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چلے گئے، جب کہ اس نماز سے ایک رکعت باقی تھی، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملا اور کہا: آپ نماز سے ایک رکعت بھول گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انھوں نے نماز کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ جب میں نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو وہ مجھ سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، ہاں اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پہنچان لوں گا، اتنے میں وہ میرے پاس سے گزر پڑا، میں نے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے، لوگوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1023، والنسائي: 2/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27796»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا مفہوم پچھلے باب والا ہی ہے کہ جب کوئی آدمی کم رکعات پر سلام پھیر دے تو وہ ان رکعات کی ادائیگی کر کیے سجدۂ سہو کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1023
25. بَابُ مَنْ نَسِيَ الْجُلُوسَ الْأَوَّلَ حَتَّى انْتَصَبَ قَائِمًا لَمْ يَرْجِعْ
جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے¤اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
حدیث نمبر: 1997
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الثِّنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَى أَنْ يُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ خَتَمَ بِالتَّسْلِيمِ (وَفِي رِوَايَةٍ:) فَلَمَّا صَلَّى الْأُخْرَيَيْنِ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ فَكَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے لگے تو دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیر کر نماز ختم کی۔ایک روایت میں ہے: جب آپ نے آخری دو رکعتیں پڑھ لیں تو لوگ آپ کے سلا م پھیرنے کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1225، ومسلم: 570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22919، 22930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23307»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1225
حدیث نمبر: 1998
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَيْضًا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ لَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ:) وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ
۔ (دوسری سند)سیدناابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ عصر تھی، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب سلام پھیرنے کے قریب تھے تودو سجدے کئے اور لوگوں نے بھی سجدے کیے،یہ (سجدے) بیٹھنا بھول جانے کی وجہ سے کیے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 829، 1230، 6670، ومسلم: 570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22920، 22931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23308»
الحكم على الحديث:
أخرج بنحوه البخاري: 829
حدیث نمبر: 1999
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى أَمَامَهُمْ، فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ) )
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 3/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17041»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 3/ 33
حدیث نمبر: 2000
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ هَٰكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
زیاد بن علاقہ نے کہا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب لوگوں نے سبحان اللہ کہا تو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بھی کھڑے ہوجائیں، جب اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے اور پھر سلام پھیرا، اس کے بعدکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2000]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 1036، 1037، والترمذي: 365، وابن ماجه: 1208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18163، 18223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18346»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 1036
حدیث نمبر: 2001
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ) )
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه۔ انظر الحديث السابق: 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18409»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر تینیا چار رکعتی نماز میں درمیانہ تشہد رہ جائے تو سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدوں کے ذریعے اس کمی کی تلافی کی جائے گا، جب سلام کے بعد سجدے کیے جائیں گے تو اِن سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، نیز آخریحدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی درمیانہ تشہد چھوڑ کر بھول کر کھڑا ہو رہا ہو اور سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے بھول جانے کا احساس ہو جائے تو وہ بیٹھ جائے، لیکن اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو درمیانے تشہد کے لیے واپس نہ لوٹے اور اپنی نماز کو جاری رکھے، لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه۔ انظر الحديث السابق: 897