🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى الرُّبَاعِيَّةَ خَمْسًا
جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2002
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ: زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قِيلَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہرکی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: کیانماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ کسی نے کہا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1226، 7249، ومسلم: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3566»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1226
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2003
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ) )
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اورسلام پھیر کر ان کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پوشیدہ طور پر باتیں کرنے لگے پس انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھرے اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 572، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4282»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 572
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2004
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ فِي السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ
۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کے بعد سجدے کیے اور ایک مرتبہ فرمایا: یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہو میں سلام کے بعد دو سجدے کئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2004]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3570»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2005
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرِ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ أَوْ نَقَصَ) )
۔ (چوتھی سند)سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور پھرسہو کے دو سجدے کیے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں، جسے یہ خیال آنے لگے کہ اس سے زیادتی ہو گئی ہے یا کمی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي۔ أخرجه عبد الرزاق: 3456، والطبراني في الكبير: 9853، وقد سلف باسانيد صحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3883»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي۔ أخرجه عبد الرزاق: 3456
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2006
(وَمِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهَا فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ
۔ (پانچویں سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2006]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 572، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4358»
وضاحت: فوائد: … ان روایات کا مفہوم واضح ہے کہ اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سہو کے دو سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے، مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئیںیا تشہد رہ گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 572
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّجُودِ بَعْدَ السَّلَامِ لِكُلِّ سَهْوٍ
بھول جس قسم کی بھی ہو، اس کے لئے سلام کے بعد سجدے کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2007
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ) )
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بھول کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2007]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زھير بن سالم العنسي روي عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات، وقال الدارقطني: حمصي متروك الحديث۔ أخرجه ابوداود: 1038، وابن ماجه: 1219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22781»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2008
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھول گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه أحمد: 9925، ومسلم: 573 وفيه قصة ذي اليدين، وھو تقدم برقم:891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9776»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه أحمد: 9925
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2009
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ) )
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2009]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن مسافع لايعرف بجرح ولاتعديل، ومصعب بن شيبة: لين الحديث، و عتبة بن محمد ليس بمعروف قاله النسائي، وذكره ابن حبان في الثقات وضعفه ابن قدامة في المغني۔ أخرجه ابوداود: 1033، والنسائي: 3/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1747، 1752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1752»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد میں سہو اور اس کی مختلف کیفیات سے متعلقہ تمام روایات کا احاطہ نہیں کیا گیا، اس لیے درج ذیل میں اس باب کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے، قارئین ازبر کر لیں: (/۲۳۶۔ الحلبي، والترمذي: ۲/۲۴۳۔ شاکر، وابن ماجہ: ۱/۳۶۳، وأحمد: ۳/۱۲، وأخرج مسلم نحوہ) نماز میں بھول جانا ایک ایسا فطرتی عمل ہے کہ کسی کو بھی اس سے مستثنی نہیں کیا جا سکتا، بہرحال اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بھول چوک کی مختلف صورتوں اور ان کے ازالے کی وضاحت کر دی ہے، سہو کے بارے میں مختلف احادیث ِ صحیحہ کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
(۱) اگر درمیانہ تشہد رہ جائے تو اس کا اعادہ کئے بغیر سہو کے سجدے سلام سے پہلے کیے جائیں۔ (بخاری، مسلم) اور سلام کے بعد کرنا بھی جائز ہیں۔ (ترمذی)
(۲) اگر رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکے تو کم تعداد پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کی جائے اور سہو کے سجدے قبل از سلام کئے جائیں۔ (ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ) مثال کے طور پر نمازی چار رکعت نماز ادا کر رہا تھا، اسے یہ شک پڑ گیا کہ وہ تین رکعات ادا کر چکا ہے یا چار۔ ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ وہ تین رکعتیں ہی سمجھ کر چوتھی پوری کر کے سجدۂ سہو کرے۔ (۳) کسی رکن کی ادائیگی کے بغیر سلام پھیر دیا، تو سابقہ نماز کو بنیاد بنا کر اپنی نماز مکمل کرے اور سلام پھیر کر سجدے کرے اور پھر سلام پھیرے۔ (مسلم) مثلا چار رکعت والی نماز میں تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، جب حقیقت ِ حال کا علم ہوا تو ایک رکعت مکمل کر کے سجدۂ سہو کیا جائے۔ (۴) نماز میں شک پڑ جائے اور مختلف قرائن کی مدد سے ایک صورت پر ظن غالب ہو جائے تو بعد از سلام سجدے کئے جائیں۔ (بخاری، مسلم)
(۵) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ یہ مختلف صورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فعلی طور پر یا قولی طور پر ثابت ہیں۔ اب نمازی کو چاہیے کہ بھول چوک کی
مذکورہ بالا اور ان سے ملتی جلتی صورتوں میں مندرجہ بالا طریقے اختیار کرے، اگر کسی کا نسیان مذکورہ بالا صورتوں سے بالکل مختلف ہو تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کیا جائے، جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لِکُلِّ سَھْوٍ سَجْدَتَاَنِ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ۔)) (ابوداود، ابن ماجہ) … ہر سہو میں دو سجدے بعد از سلام کئے جائیں گے۔
تنبیہ: نمازی کے لیےیہ فیصلہ کرنا کیسے ممکن ہے کہ اسے بھول چوک کی فلاں کیفیت پر سجدۂ سہو کرنا چاہیے اور فلاں پر نہیں؟ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی بھوک چوک پر سجدۂ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مثلا پہلی رکعت کے بعد دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے کے بجائے نمازی تشہد کے لیے بیٹھ جائے اور تشہد کے ایک دو کلمات ادا کرنے کے بعد اسے اپنی خطا کا احساس ہو جائے اور وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ علی ہذا القیاس۔ ایسی صورت میں (ان شاء اللہ) سہو کے سجدے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا قَامَ الْاِمَامُ فِیْ الرَّکْعَتَیْنِ فَاِنْ ذَکَرَ قَبْلَ اَنْ یَّسْتَوِیَ قَائِمًا فَلْیَجْلِسْ (وَلَا سَھْوَ عَلَیْہِ) وَاِنْ اسْتَوٰی قَائِمًا فَلَا یَجْلِسْ، وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیِ السَّھْوِ۔)) (ابوداود: ۱۰۳۶، ابن ماجہ: ۱۲۰۸، صحیحہ: ۳۲۱، قوسین والے الفاظ دارقطنی کے ہیں) … اگر امام دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے) کھڑا ہو جائے اور مکمل کھڑا ہونے سے پہلے اسے یاد آ جائے تو وہ بیٹھ جائے، ایسی صورت میں اس پر کوئی سہو نہیں ہو گا اور اگر وہ سیدھا کھڑا ہو جائے تو (تشہد کے لیے) نہ بیٹھے (اور اپنی نماز جاری رکھے) اور سہو کے دو سجدے کر لے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بھول کر کھڑا ہونا، لیکنیاد آ جانے کی وجہ سے مکمل کھڑا ہونے سے پہلے بیٹھ جانا معمولی بھول چوک ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی صورت میں سہو کے حکم کی نفی کر دی ہے۔ لیکن اگر نمازی سمجھتا ہے کہ اس کی بھول چوک کی مقدار اس قدر ہے کہ اسے معتبر سمجھ کر سجدۂ سہو کرنا چاہیے، جبکہ وہ کیفیت احادیث میں بیان شدہ کیفیات سے مختلف ہو تو وہ درج حدیث پر عمل کر لے: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لِکُلِّ سَھْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَایُسَلِّمُ۔)) (ابوداود، ابن ماجہ) ہر سہو میں دو سجدے بعد از سلام کئے جائیں گے۔ بہرحال ہر نمازی کو چاہیے کہ مذکورہ بالا تمام صورتیں مستحضر کر لے، تاکہ نماز کے دوران کسی بھول چوک کی بنا پر سجدۂ سہو کے بارے میں اس کا فیصلہ بصیرت والا اور طریقۂ محمدی کے قریب تر ہو۔ ہم نے تنبیہ میں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی جو حدیث ذکر کی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز کھڑے ہونے والے نمازی کو تشہد کی طرف لوٹنے سے روکتی ہے، وہ اس کا مکمل کھڑا ہونا ہے۔ اگر اسے مکمل کھڑا ہونے سے پہلے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، تو بیٹھ جانا ضروری ہے۔ اس مسئلہ میں بعض مسلک والوں نے یہ فرق پیش کیا ہے کہ اگر نمازی کھڑے ہونے کے قریب ہو تو کھڑا ہو جائے اور بیٹھنے کے قریب ہونے کی صورت میں بیٹھ جائے۔ یہ تفصیل جہاں بے دلیل ہے، وہاں اس حدیث کی مخالف بھی ہے۔ پس حدیث پر عمل کرو اور اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لواور لوگوں کی آراء کو ترک کر دو۔ جب حدیث آ جاتی ہے تو غور و فکر کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی نہر رواں ہو جاتی ہے تو عقل کی ندیاں باطل ہو جاتی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. أبواب سجود التلاوة والشكر
سجدۂ تلاوت اور سجدۂ شکر کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: Q2010]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَعَدَدِ مَوَاضِعِهِ
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2010
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ، أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ) ) (مسند أحمد: 9711)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان علیحدہ ہوکر روتا ہے اورکہتا ہے: ہائے افسوس! اس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا،اس نے سجدہ کیا، پس اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن میں نے نافرمانی کی، سو میرے لئے آگ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2010]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9713 ترقیم بيت الأفكار الدولية:9711»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 81
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں