🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2031
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرِهِمُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ) ) ثَلَاثًا
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میں گر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وأبوه عبد العزيز بن ابي بكرة روي عنه جمع، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات، ولسجود الشكر شواھد۔ أخرجه البزار: 3692، والحاكم: 4/ 291، وأخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 178، وابن ماجه: 1394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»
وضاحت: فوائد: … یہ سجدہ کسی نعمت کے حصول، مصیبت و تکلیف سے چھٹکارے اور خوشی و مسرت کے موقع پر کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. (أبواب صلاة التطوع)
نفل نماز کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: Q2032]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَأَنَّهَا تُجْبِرُ نَقْصَ الْفَرِيضَةِ
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2032
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي (وَفِي رِوَايَةٍ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى) لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَفِي أُخْرَى: فِي لَيْلِهِ وَنَهَارِهِ) ثِنْتَيْ عَشَرَةَ رَكْعَةً (وَفِي رِوَايَةٍ سَجْدَةً) تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بُنِي لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ) ) فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ عَمْرٌو: مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وَقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ایک دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کے لیے فرض نماز کے علاوہ بارہ رکعت نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ہمیشہ سے یہ رکعتیں ادا کر رہی ہوں۔ (سند کے راوی) عمرو کہتے ہیں میں بھی حدیث پڑھنے کے بعد ان رکعتوں کو پڑھ رہا ہوں۔ (سند کے ایک اور راوی) نعمان کہتے ہیں میں بھی یہ رکعتیں ہمیشہ سے پڑھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2032]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27317»
وضاحت: فوائد: … ترمذی کی روایت کے مطابق ان بارہ رکعات کی تفصیلیہ ہے: فجر سے پہلے دو، ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو، اسی نفلی نماز کو ہمارے معاشرے میں سننِ مؤکدہ کہا جاتا ہے۔ لیکن نسائی کی روایت میں عصر سے پہلے دو سنتوں کا ذکر ہے اور عشاء کے بعد والی سنتوں کا ذکر نہیں ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عصر سے پہلے اور عشاء کے بعد والی دو دو سنتوں کا ذکر ہے، لیکن انھوں نے ظہر کی نماز سے پہلے صرف دو سنتوں کا ذکر کیا ہے اور امام ترمذی نے ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو کو ثابت کیا ہے۔ امام شوکانی نے اس اختلاف کو یوں حل کیا: یہ بات تو متعین ہی ہے کہ ان احادیث میں جتنی رکعات کا بیان ہے، وہ سب ہی مشروع ہیں، اگرچہ ان کی تعداد چودہ بن جاتی ہے، جبکہ مذکورہ ثواب کے حصول کا تعلق تو بارہ رکعتوں سے ہے، لیکن اس چیز کا علم نہیں ہو رہا کہ ان چودہ میں سے وہ بارہ رکعتیں کون سی ہیں، ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ چودہ رکعتیں ہی ادا کی جائیں، تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہے، اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوبہ بارہ بھی ادا ہو جائیں گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 728
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2033
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بُنِي لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ) )
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن رات میں فرض نماز کے علاوہ بارہ رکعتیں ادا کیں، اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2033]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 9432، والبزار: 701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19946»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 9432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2034
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشَرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا إِلَّا بُنِي لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جومسلمان دن میں بارہ رکعت نفل نماز پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10467»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1142
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2035
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَنْتَقِصُ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا إِلَّا أَتَمَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سُبْحَتِهِ) )
عبد الرحمن بن معاویہ بن حدیج کہتے ہیں: میں نے کندہ کے ایک آدمی سے سنا، اس نے کہا: ایک انصاری صحابی نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی فرض نماز میں کمی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نفلی نماز سے اس کی کمی کو پورا کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناده ضعيف لابھام الرجل الكندي، وابن لھيعة سيء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24037»
وضاحت: فوائد: … کئی احادیث ِ مبارکہ میں نفلی نماز کی اقسام اور فضائل بیان کیے گئے ہیں، آنے والے کئی ابواب کا موضوع نفلی نماز ہی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2036
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز ادا کرلے، تو پھر وہ اپنے گھر واپس جائے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا کرے، بندے کو چاہیے کہ گھر میں بھی نفل نماز پڑھتا رہا کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولعنعنة ابي الزبير۔ أخرجه ابن ماجه: 1376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11112، 11567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11128»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں میں برکت ہوتی ہے اور نماز، ذکر الٰہی کا سب سے عظیم ذریعہ ہے، کئی احادیث میں گھروںمیں نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے مراد نفلی نماز ہے، تاکہ گھروں میں خیر و برکت نازل ہو،رحمت والے فرشتوں کا نزول ہو اور عمل مخفیہو اور ریاکاری کا خطرہ کم ہو جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز پڑھ لے تو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و بھلائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14391، 11567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14444»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2038
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ! فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ) )
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطوّلا البخاري: 6113، ومسلم: 781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21624، 21632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21962»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطوّلا البخاري: 6113
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2039
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) )
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 255، والبزار في مسنده: 3777، والطبراني في الكبير: 5278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17030، 21677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22017»
وضاحت: فوائد: … گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ اس کے دو مفہوم ہیں: (۱)مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جو اپنی قبروں میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ (۲)جو آدمی اپنے گھر میں نفلی نماز نہیں پڑھے گا، اس نے اپنے آپ کو میت اور اپنے گھر کو قبر بنا دیا ہے۔
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں