الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَعَدَدِ مَوَاضِعِهِ
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 2011
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَجَدْتُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً، مِنْهَا سَجْدَةُ النَّجْمِ
سیدنا ابو الدردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سجدہ سورۂ نجم کا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2011]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجھالة عمر الدمشقي، ولابھام الراوي عن ام الدردائ۔ أخرجه ابن ماجه: 1055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21692، 27494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28042»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال سورۂ نجم، سجدۂ تلاوت پر مشتمل ہے، جیسا کہ دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے، سجدۂ تلاوت مستحب ہے، اس حکم کی وضاحت اگلے ابواب میں آ رہی ہے اور راجح قول کے مطابق سجدۂ تلاوت کے باوضو یا قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے، نیزیہ سجدہ اسی وقت کرنا مسنون ہے، جب اس سجدے والی آیت تلاوت کی جائے۔ قرآن مجید کے سجودِ تلاوت کی تعداد کے بارے میں درج ذیل اختلا ف ہے۔ امام ابوحنیفہ: کل چودہ سجدے ہیں، ان کے نزدیک سورۂ حج کا دوسرا سجدہ نہیں ہے۔
امام شافعی: کل چودہ سجدے ہیں، ان کے نزدیک سورۂ ص کا سجدہ، سجدۂ تلاوت نہیں ہے، بلکہ صرف سجدۂ شکر ہے۔
امام مالک: کل گیارہ، ان کے نزدیک مفصلات سورتوں کے سجدے اور سورۂ حج کا دوسرا سجدہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ، سورۂ حج کا دوسرا سجدہ اور مفصلات سورتوں کے سجدے آنے والے اور دیگر دلائل سے ثابت ہیں، اس طرح قرآن مجید میں کل پندرہ سجدے بنتے ہیں،یہ امام احمدکا قول ہے اور یہی راجح ہے، ہمارے ہاں چھپنے والے قرآن مجید میں سورۂ حج کے دوسرے سجدے پر صرف السجدۃ عند الشافعی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو باقی سجدوں میں شمار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے قرآن مجید کے آخری سجدے پر (۱۴) نمبر لکھا جاتا ہے، اس وجہ سے ہمارے ہاں چودہ سجدے مشہور ہو گئے ہیں، حالانکہ راجح قول کے مطابق کل (۱۵) سجدے ہیں اور قرآن مجید کے سجدوں کی نمبرنگ کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ تمام سجدوں پر نمبر لگاتے اور قرآن مجید کے آخرمیں مسئلہ کی وضاحت کر دیتے۔ قرآن مجید کی درج ذیل چودہ سورتیں سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں: سورۂ اعراف، سورۂ رعد، سورۂ نحل، سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ مریم، سورۂ حج، سورۂ فرقان، سورۂ نمل، سورۂ سجدہ، سورۂ ص، سورۂ حم سجدہ، سورۂ نجم، سورۂ انشقاق، سورۂ علق۔ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں، آخری تین سورتیں مفصلات میں سے ہیں۔
امام شافعی: کل چودہ سجدے ہیں، ان کے نزدیک سورۂ ص کا سجدہ، سجدۂ تلاوت نہیں ہے، بلکہ صرف سجدۂ شکر ہے۔
امام مالک: کل گیارہ، ان کے نزدیک مفصلات سورتوں کے سجدے اور سورۂ حج کا دوسرا سجدہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ، سورۂ حج کا دوسرا سجدہ اور مفصلات سورتوں کے سجدے آنے والے اور دیگر دلائل سے ثابت ہیں، اس طرح قرآن مجید میں کل پندرہ سجدے بنتے ہیں،یہ امام احمدکا قول ہے اور یہی راجح ہے، ہمارے ہاں چھپنے والے قرآن مجید میں سورۂ حج کے دوسرے سجدے پر صرف السجدۃ عند الشافعی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو باقی سجدوں میں شمار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے قرآن مجید کے آخری سجدے پر (۱۴) نمبر لکھا جاتا ہے، اس وجہ سے ہمارے ہاں چودہ سجدے مشہور ہو گئے ہیں، حالانکہ راجح قول کے مطابق کل (۱۵) سجدے ہیں اور قرآن مجید کے سجدوں کی نمبرنگ کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ تمام سجدوں پر نمبر لگاتے اور قرآن مجید کے آخرمیں مسئلہ کی وضاحت کر دیتے۔ قرآن مجید کی درج ذیل چودہ سورتیں سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں: سورۂ اعراف، سورۂ رعد، سورۂ نحل، سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ مریم، سورۂ حج، سورۂ فرقان، سورۂ نمل، سورۂ سجدہ، سورۂ ص، سورۂ حم سجدہ، سورۂ نجم، سورۂ انشقاق، سورۂ علق۔ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں، آخری تین سورتیں مفصلات میں سے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
30. بَابُ مَا يُقَالُ فِي سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ
سجدۂ تلاوت میں کیا پڑھا جائے؟
حدیث نمبر: 2012
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ: ( (سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: سَجَدَ وَجہِیَ لِلَّذیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمعَہُوَبَصَرَہُبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ۔ (میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور نظر کو کھولا)۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، خالد بن مھران الحذاء لم يسمع ابا العالية، بينھما رجل مبھم كما في الرواية: 25821۔ أخرجه ابوداود: 1414، والترمذي: 580، 3425، والنسائي: 2/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24523»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں سجدۂ تلاوت کی اس دعا کا ذکر ہے:
سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمْعَہٗوَبَصَرَہٗبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ،فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (ترمذی، مسند احمد) آخری الفاظ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ مستدرک حاکم میں زائد ہیں۔ دوسری دعا: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورۂ
ص کی تلاوت کر رہا ہے، جب اس نے سجدہ والی آیت پڑھی تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا اور اس مین یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِي بِھَا اَجْرًا، وَحُطَّ عَنِّيْ بِھَاوِزْرًا، وَاَحْدِثْ لِيْ بِھَا شُکْرًا، وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُدَ۔ اے اللہ! میرے لیے اس سجدے کی وجہ سے اجر لکھ، اس کے ذریعے مجھ سے گناہ دور کر دے، اس کے ذریعے مجھے شکر کرنے کی از سرِ نو توفیق دے اور یہ سجدہ مجھ سے اس طرح قبول کر، جس طرح کہ تو نے اپنے بندے داود(علیہ السلام) سے قبول کیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! کیا تو نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو درخت کی بہ نسبت سجدہ کرنے کا زیادہ حقدار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص کی تلاوت کی،یہاں تک کہ سجدہ والی آیت تک پہنچے، (پھر سجدہ کیا اور) اس میں وہی دعا پڑھی جو درخت نے پڑھی تھی۔ (مسند أبو یعلی۱/۲۹۸، معجم اوسط: رقم ۴۹۰۴، صحیحہ: ۲۷۱۰)
سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمْعَہٗوَبَصَرَہٗبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ،فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (ترمذی، مسند احمد) آخری الفاظ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ مستدرک حاکم میں زائد ہیں۔ دوسری دعا: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورۂ
ص کی تلاوت کر رہا ہے، جب اس نے سجدہ والی آیت پڑھی تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا اور اس مین یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِي بِھَا اَجْرًا، وَحُطَّ عَنِّيْ بِھَاوِزْرًا، وَاَحْدِثْ لِيْ بِھَا شُکْرًا، وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُدَ۔ اے اللہ! میرے لیے اس سجدے کی وجہ سے اجر لکھ، اس کے ذریعے مجھ سے گناہ دور کر دے، اس کے ذریعے مجھے شکر کرنے کی از سرِ نو توفیق دے اور یہ سجدہ مجھ سے اس طرح قبول کر، جس طرح کہ تو نے اپنے بندے داود(علیہ السلام) سے قبول کیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! کیا تو نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو درخت کی بہ نسبت سجدہ کرنے کا زیادہ حقدار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص کی تلاوت کی،یہاں تک کہ سجدہ والی آیت تک پہنچے، (پھر سجدہ کیا اور) اس میں وہی دعا پڑھی جو درخت نے پڑھی تھی۔ (مسند أبو یعلی۱/۲۹۸، معجم اوسط: رقم ۴۹۰۴، صحیحہ: ۲۷۱۰)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
31. قِرَاءَةُ السَّجْدَةِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ وَالسِّرِّيَّةِ
جہری اور سری نماز میں سجدۂ تلاوت والی آیت پڑھنا
حدیث نمبر: 2013
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ أَوْ قَالَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} فَسَجَدَ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا هَٰذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ فِيهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ
سیدناابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی، انہوں نے سورۂ انشقاق پڑھی اور اس میں سجدہ بھی کیا، میں نے کہا: اے ابو ہریرہ! یہ کون سا سجدہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں یہ سجدہ کیا تھا، لہٰذا ہمیشہ میں یہ سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 766، 1078، ومسلم: 578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7140»
وضاحت: فوائد: … سورۃ انشقاق مفصلات سورتوں میں سے ہے اور یہ واضح دلیل ہے کہ مفصلات سورتوں میں سجدے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 766
حدیث نمبر: 2014
عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، فَرَأَى أَصْحَابُهُ أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي مِجْلَزٍ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں سجدہ کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کا خیال تھاکہ آپ نے سورۂ سجدہ کی تلاوت کی ہے۔ راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے کہا: میں نے یہ حدیث ابو مجلز سے نہیں سنی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث: «منقطع كما صرح سليمان بن طرخان التيمي۔ أخرجه ابوداود: 807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5556»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ اگر امام سرّی نمازمیں سجدۂ تلاوت پر مشتمل آیت کی تلاوت کرتا ہے تو وہ سجدۂ تلاوت کرے گا، رہا مسئلہ مقتدی تو امام کی اقتدا اور اتباع کے عام دلائل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی امام کے ساتھ سجدہ کریں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث:
منقطع كما صرح سليمان بن طرخان التيمي۔ أخرجه ابوداود: 807
32. بَابُ إِذَا سَجَدَ الْقَارِئُ سَجَدَ الْمُسْتَمِعُ
جب تلاوت کرنے والا سجدہ کرے گا تو سننے والا بھی کرے گا
حدیث نمبر: 2015
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر سجدۂ تلاوت والی سورت کی تلاوت کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں نہیں ہوتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدۂ تلاوت کرتے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض افراد اپنا ماتھا نیچے رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیں پاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1075، 1076، 1079، ومسلم: 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4669»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1075
حدیث نمبر: 2016
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِسُجُودِ الْقُرْآنِ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی سجدے والی آیت سے گزرتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف العمري عبد الله المكبر۔ أخرجه ابوداود: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6461»
وضاحت: فوائد: … سجدۂ تلاوت، تلاوت کرنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے مشروع ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
33. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ بِعَدَمِ سَجَدَاتِ التِّلَاوَةِ فِي سُوَرِ الْمُفَصَّلِ
اس شخص کی دلیل کا بیان جو مفصل سورتوں میں تلاوت کے سجدوں کے نہ ہونے کا قائل ہے
حدیث نمبر: 2017
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ نجم کی تلاوت کی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سجدۂ تلاوت نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1072، 1073، ومسلم: 577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21927»
وضاحت: فوائد: … سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر قرآن مجید کے آخر تک کے حصے کو مُفَصَّل کہتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ سورۂ نجم میںیا مفصل سورتوں میں سرے سے سجدۂ تلاوت نہیں ہے، کیونکہ اگلے باب کی احادیث سے یہ ثبوت مل رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا ہے، البتہ اِس باب کی حدیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ سجدۂ تلاوت کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے، اس کا معنییہ ہوا کہ سجدہ فرض اور واجب نہیں ہے، اس ضمن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک عمل بھی قابل توجہ ہے، ایک دفعہ انھوں نے جمعہ کے دن منبر پر سورۂ نحل کی تلاوت کی اور جب سجدہ والی آیت آئی تو انھوں نے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، اگلے خطبہ جمعہ میں انھوں نے پھر یہی سورت تلاوت کی، جب سجدے والی آیت آئی تو انھوں نے کہا: یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّا لَمْ نُؤْمَرْ بِالسُّجُوْدِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ اَصَابَ وَمَنْ لَّمْ یَسْجُدْ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ۔ (لوگو! یقینا ہمیں ان سجدوں کا حکم نہیں دیا گیا، لہٰذا جس شخص نے سجدہ کیا تو یقینا اس نے درست کام کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا، اس پر کوئی گناہ نہیں)۔ (صحیح بخاری: ۱۰۷۷)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1072
34. بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِمَشْرُوعِيَّةِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي سُوَرِ الْمُفَصَّلِ
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 2018
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ إِلَّا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَرَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس نے مٹھی بھر مٹی اپنی پیشانی کی طرف اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تھا کہ وہ آدمی بحالت ِ کفر قتل ہو گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4863، ومسلم: 576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3682، 4164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3682»
وضاحت: فوائد: … سجدۂ تلاوت نہ کرنے والا یہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4863
حدیث نمبر: 2019
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ نجم پڑھی اورسجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، البتہ دو آدمیوں نے سجدہ نہیں کیا تھا، ان کا مقصد شہرت طلبی تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8021»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 353
حدیث نمبر: 2020
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ سہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں سورۂ نجم کی تلاوت کی اورسجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے پاس تھے، انہوں نے بھی سجدہ کیا، البتہ میں نے اپنا سر اٹھا لیا تھا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ دراصل سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے، قبولیت ِ اسلام کے بعد وہ جب بھی کسی کواس کی تلاوت کرتے سنتے توسجدہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، جعفر بن المطلب بن ابي وداعة السھمي مقبول۔ أخرجه النسائي: 2/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15544»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره