الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2050
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2050]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1172، ومسلم: 729، ورواية البخاري: فأما المغرب والعشاء ففي بيته، ورواية مسلم: فأما المغرب والعشاء والجمعة، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4660»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1172
حدیث نمبر: 2051
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2051]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث السابق: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5127»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 2052
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٍ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٍ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2052]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24520»
الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730
حدیث نمبر: 2053
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا، وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا، قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، قُلْتُ كَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26339»
وضاحت: فوائد: … سجدے تو بیٹھ کر ہی کیے جاتے ہیں، اس حدیث میں سجدوں سے پہلے والی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھڑے ہوتے یا بیٹھے ہوتے۔ لیکنیہ بھی سنت ہے کہ بیٹھ کر قراء ت شروع کی جائے، پھر اسی رکعت میں کھڑے ہو کر کچھ تلاوت کر کے رکوع و سجود کیے جائیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیسیا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ (بخاری: ۱۱۴۸، مسلم: ۷۳۱)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 2054
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا، فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس، وقابوس فيه لين، وقال ابن حبان: كان رديء الحفظ، ينفرد عن أبيه بما لا أصل له۔ أخرجه الطيالسي: 1575، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 1156، وابن ابي شيبة: 2/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24665»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس
حدیث نمبر: 2055
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْمَوْتُ، اشْتَدَّ جَزَعُهُ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ يَعْنِي أُخْتَهُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ) ) فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ
حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے گا۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 428، والنسائي: 3/264، 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27300»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی صورت میں ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو سنتیں نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۱۸۲، مسند احمد: ۲۴۳۴۰)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 428
41. بَابُ رَاتِبَةِ الظُّهْرِ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَيَقُولُ: ( (إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ فَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ فِيهَا عَمَلًا صَالِحًا) )
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے لیکن زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس میں نیک عمل آگے بھیجوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15471»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 478
حدیث نمبر: 2057
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَدَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَٰذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدَامْتَهَا؟ قَالَ: ( (إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلَّهُنَّ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ: ( (لَا) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد ہمیشہ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ رکعتیں کیسی ہیں کہ آپ دوام کے ساتھ ان کو ادا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زوالِ آفتاب کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اس وقت تک بند نہیں ہوتے، جب تک نماز ِ ظہر نہ پڑھ لی جائے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں بلند ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان ساری رکعتوں میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: ان میں فاصلہ کرنے والا سلام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناده ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه۔ أخرجه ابن ماجه: 1157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23929»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 2058
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُدِيمُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ( (إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے دوام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، کسی نے ان سے کہا: آپ بڑی باقاعدگی کے ساتھ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرانیک عمل اس وقت میں بلند ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سيء الحفظ، وعلي بن الصلت مجھول۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/199، وابن خزيمة: 1215، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23947»
وضاحت: فوائد: … فاصلہ کرنے والے سلام سے مراد یہ ہے چار رکعتوں کو دو دو رکعتیں کر کے ادا کیا جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اکٹھا ادا کرنے کی تعلیم دی ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ ان سنتوں کو دو دو رکعت کر کے بھی ادا کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ مَثْنٰی مَثْنٰی۔)) … رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔
امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ
باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔
امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ
باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2059
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر سے پہلے دو رکعتوں کو ترک کیا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2059]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة ابي بسرة الغفاري، قال الذھبي: لا يعرف۔ أخرجه ابوداود: 1222، والترمذي: 550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18784»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف