🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2040
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھروں میں نماز ادا کیاکرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 168، وابو يعلي: 4867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24870»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2041
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً) )
سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھر میں اور مسجد میں نماز کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں نماز اور گھر میں نماز، تودیکھتا تو ہے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے،لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے، الّا یہ کہ وہ فرض نماز ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2041]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 211، 212، وابن ماجه: 651، 1378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19216»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2042
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ) )
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513، والبزار: 210، وابويعلي: 165، وابن خزيمة: 2172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 86 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 86»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2043
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2044
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ) ٭
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2044]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2045
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ، نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا
عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے وقت کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جبکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161، والترمذي: 424، 429، والنسائي: 2/ 120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 650»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2046
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لِأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! يَسْوَى حَدِيثُكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا، (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَٰذَا ذَهَبًا
حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث تو آپ کی سونے سے بھری ہوئی مسجد کے برابر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے آپ کی اس حدیث کے بدلے سونے سے بھری ہوئی مسجد ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2046]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1208»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2047
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
اور اس سے یہ بھی روایت ہے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت نوافل آٹھ رکعت اور دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث: «سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1261»
وضاحت: فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۹۳۵) میں گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2048
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى كُلِّ إِثْرِ صَلَاةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ) مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2048]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1012، 1226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1226»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1275
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2049
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ أَيُّوبُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) أُرَاهُ قَالَ خَفِيفَتَيْنِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي بَيْتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت گھر میں، عشاء کے بعد دو رکعت گھر میں نماز پڑھی، اور مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوجاتی اور مؤذن نماز کے لئے اذان کہہ دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں ادا کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 2049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4506»

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں