الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3070
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ! أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ؟) ) ، قَالَ: وَعَوَّلَ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا،سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر بلند آواز سے روئیں تو انھوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تو نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عذاب دیا جاتا ہے، جس پربلند آواز سے رویا جاتا ہے۔ پھر سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے روئے، اس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر بلند آواز سے رویا جاتا ہے، اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 268»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 127
حدیث نمبر: 3071
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسِلُوا إِلَيَّ طَبِيبًا يَنْظُرُ إِلَى جُرْحِي هَذَا، قَالَ: فَأَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَقَى عُمَرَ نَبِيذًا، فَشُبِّهَ النَّبِيذُ بِالدَّمِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ، قَالَ: فَدَعَوْتُ طَبِيبًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَسَقَاهُ لَبَنًا فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَةِ صَلْدًا أَبْيَضَ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! اعْهَدْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقَنِي أَخُو بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَلَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ كَذَّبْتُكَ، قَالَ: فَبَكَى عَلَيْهِ الْقَوْمُ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَيْنَا، مَنْ كَانَ بَاكِيًا فَلْيَخْرُجْ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ) ) ، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُقِرُّ أَنْ يُبْكَى عِنْدَهُ عَلَى هَالِكٍ مِنْ وَلَدِهِ وَلَا غَيْرِهِمْ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی طبیب کو بلاؤ،وہ میرے زخم کا معائنہ کرے، چنانچہ ایک عربی طبیب کو بلوایا گیا۔ اس نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبیذ پلایا، جب وہ ناف کے نیچے والے زخم سے (خون آمیز نبیذ کی صورت میں) خارج ہو گیا، تو نبیذ خون کے مشابہ ہوگیا۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے بنی معاویہ کے انصار میں سے ایک دوسرا طبیب بلایا۔ اس نے آ کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دودھ پلایا، لیکن وہ تو زخم کے راستے سے صاف سفیددودھ ہی نکل آیا۔ طبیب نے کہا: امیر المومنین! وصیت کر لو، (آپ فوت ہونے والے ہیں)۔ یہ سن کر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بنو معایہ کا یہ بھائی سچ کہہ رہا ہے، اگر تم کوئی اور بات کرتے تو میں اس کو غلط سمجھتا۔ یہ بات سن کر لوگ رو پڑے۔ جس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے اوپر نہ روؤو، جو رونا چاہتا ہے وہ باہر چلا جائے۔ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ میت کے پاس رونے نہیں دیتے تھے۔ رونے والی ان کی اولاد ہو یا کوئی اور۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3071]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1002، والنسائي: 4/ 15، وانظر الحديثين المتقدمين:88، 89، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 294»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اسی زخم کا ذکر ہے، جو ابو لولو نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لگایا تھا اور پھر آپ اسی وجہ سے شہید ہو گئے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الترمذي: 1002
حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ابْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُودُهُ قَائِدُهُ، قَالَ: فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ) ) ، فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ فَاعْلَمْ مَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَلِكَ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ، وَرَبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مَرَّةً: فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ فَقَالَ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَوْ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ) ) ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضِ بُكَاءِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ! مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ وَلَٰكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْكَافِرَ لَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الَّذِي أَضْحَكَ وَأَبْكَى، {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَٰكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِيءُ
عبد اللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام ابان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے، وہاں پر عمرو بن عثمان بھی موجود تھے، اتنے میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لے آئے،جبکہ ایک آدمی ان کی رہنمائی کر رہا تھا (کیونکہ وہ نابینا ہو چکے تھے)، میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے انہیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلایا، پس وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آؤ، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آؤں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعض اہل و عیال کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قاسم نے کہا: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمر کی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹے ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 928، وأخرجه مختصرا البخاري: 1287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 288، 289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 288»
وضاحت: بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوںکے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آئو، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آئوں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھمل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”بعض اہل و عیال“ کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباسd کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ قاسم نے کہا: جب سید عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمرeکی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹ ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔“
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 928
حدیث نمبر: 3073
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَنِيحَ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ) فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ، أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) ) ، أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ بِهِ عَلَيْهِ) )
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں: قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا اور اس پر نوحہ کیا جانے لگا، ایک روایت میں ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب انصاری پر نوحہ کیا گیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اسلام میں نوحہ کا کیا کام؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ بولنا، یہ عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، خبردار!جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اسے اس وجہ سے عذاب دیا جائے گاکہ اس پر نوحہ کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1291، وأخرجه مسلم: 4 دون ذكر النوح، و 933 بذكر النوح فقط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18320»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1291
حدیث نمبر: 3074
عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، إِذَا قَالَتِ النَّائِحَةُ وَاعَضُدَاهُ، وَانَا صِرَهُ، وَاكَاسِيَاهُ، جُبِذَ الْمَيِّتُ وَقِيلَ لَهُ: أَنْتَ عَضُدُهَا، أَنْتَ نَاصِرُهَا، أَنْتَ كَاسِيهَا) ) ، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، فَقَالَ: وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ فَأَيُّنَا كَذَبَ؟ فَوَاللَّهِ! مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَلَا كَذَبَ أَبُو مُوسَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب نوحہ کرنے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرے مدد گار! ہائے مجھے کپڑے پہنانے والے! تو فرشتے میت کو جھنجوڑتے اور کہتے ہیں:تو اس کا بازو تھا؟ تو اس کا مدد گار تھا؟ تو اس کو کپڑے پہناتا تھا؟ اسید کہتے ہیں: میں نے (تعجب کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام:۱۶۴) یعنی: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن موسی بن ابی موسیٰ نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، میں تجھے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس طرح کہتا ہے؟ ہم میں سے کس نے جھوٹ بولا؟ اللہ کی قسم! میں نے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1003، وابن ماجه: 1594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19954»
وضاحت: فوائد: … ((یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) یعنی: میت کو اس پر اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کو سیّدنا عمر اور ان کے بیٹے سیّدنا عبد اللہ dکی بھول چوک کا نتیجہ قرار دیا، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے۔ دراصل سیدہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ یہی حدیث سیّدنا مغیرہ بن شعبہ اور سیّدنا ابو موسی اشعری dنے بھی بیان کی ہے، یہ کل چار صحابہ ہو گئے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1003
16. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ
نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3075
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ امْرَأَةٌ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ! وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ يَا بْنَ مَظْعُونٍ! بِالْجَنَّةِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظْرَةَ غَضَبٍ، فَقَالَ: ( (وَمَا يُدْرِيكِ؟) ) ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا بِهِ) ) ) ، فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ: رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيِّرِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ) ) ، فَبَكَتِ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ( (مَهْلًا يَا عُمَرُ!) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ مَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ) )
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک عورت نے کہا: اے عثمان بن مظعون! آپ کو جنت مبارک ہو۔دوسری روایت میں ہے: ان کی بیوی نے کہا: اے ابن مظعون! آپ کو جنت کی مبارک ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور فرمایا: ((آپ کو کیسے معلوم ہوا؟)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے شہ سوار اورصحابی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، جبکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ یہ سن کر لوگ سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب یاسیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے پیش رو صالح اور نیک سیرت فرد عثمان بن مظعون کو جا ملو۔ پس عورتیں رونے لگیں اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنا شروع کر دیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: عمر ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا: روؤ روؤ، البتہ شیطانی چیخ و پکار سے بچنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رونا آنکھ اور دل سے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جذبۂ رحمت کی بنا پر ہوتا ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3075]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولين يوسف بن مهران أخرجه الطيالسي: 2694، والطبراني: 8317، والحاكم: 3/ 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2127، 3103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2127»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3076
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ مِثْلَهُ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: ( (فَمِنَ الشَّيْطَانِ) ) وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا
(دوسری سند) اس میں پس وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کے بعد یہ اضافہ ہے: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ شفقت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کو اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3076]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2315، وأخرج بنحوه البخاري: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3103»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصے سے دیکھنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جنت کی مبارک دے کر ایک غیبی امر پر اطلاع پانے کا دعوی کر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھانا چاہا کہ بیشک کوئی بندہ نیک ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع نہیں دے گا، اس وقت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔صحابہ کا سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہونا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ صحابی دوسرے صحابہ کے نزدیک نیک اور صالح فرد تھے، لیکن بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کی وفات پر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کی تو صحابہ مطمئن ہو گئے۔ حدیث میں مذکورہ خواتین کا روناجائز تھا، لیکن سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ناجائز سمجھ کر روکنا چاہا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روکنے سے منع کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2315
حدیث نمبر: 3077
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الصَّبِيَّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ، وَاللَّهِ! إِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے اوربچے کو بلوایا، پھراسے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس وقت حالت ِ نزع میں تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور دل غمگین ہو رہا ہے، لیکن ہم بات صرف وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کرے گی، اے ابراہیم! اللہ کی قسم! ہم تیری وجہ سے یقینا غمگین ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13045»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو عالم نزع میں دیکھ کر رونے لگے)تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزید آنسو بہنے لگے۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث میں یہ الفاظ بھی واقع ہوئے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں، کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو اِن دو قسم کی بری اور بیوقوف آوازوں سے منع کیا ہے: (۱)گاہنے والی آواز، جو کہ لہو، کھیل اور شیطان کی بانسری ہے اور (۲) مصیبت کے وقت کی آواز، یعنی چہرے کو نوچنا، گریبان کو چاک کرنا اور شیطان کی آواز (یعنی چیخ و پکار)، یہ میرا رونا تو رحمت ہے اور جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ (فتح الباری: ۳/۲۲۴)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4462
حدیث نمبر: 3078
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبْتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبْتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوسِ مَأْوَاهُ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر روئیں اور کہا: اے ابا جان! آپ اپنے ربّ کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ اے با جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصاریوں کے ہاں ایک قریب الموت آدمی کے پاس گئے، اس کے اہل و عیال رو رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو، جب تک یہ آدمی ان کے پاس ہے، ان کو رونے دو، جب واجب ہو جائے گی تو یہ نہ روئیں۔“ جابر کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عمر بن حمید قرشی کو سنائی، انہوں نے پوچھا:”واجب ہو جائے گی“ کا کیا معنی ہے؟ کہا: جب اس کو قبر میں داخل کر دیا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 6/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13062»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 6/ 52
حدیث نمبر: 3079
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي السُّوقِ وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ لَكَانَ خَيْرًا لِمَيِّتِهِمْ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقُولُهُ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ! فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْهُنَّ فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْفُؤَادُ مُصَابٌ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ) ) ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَأَثَرْتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں بازار میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا، ان کے پہلو میں سلمہ بن ازرق بھی موجود تھے، ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ لوگ روتے جا رہے تھے، سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس میت والے یہ لواحقین رونا ترک کر دیں تو اس میت کے حق میں بہتر ہو گا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: ابو عبد الرحمن! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں؟انہوں نے فرمایا: جی ہاں، میں کہہ رہا ہوں۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ مروان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر رونے لگیں، مروان نے کہا: عبد الملک! اٹھو اور جا کر ان عورتوں کو رونے سے منع کرو۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں رونے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہیں روکنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے لیے اٹھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب، انہیں چھوڑو، آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غمگین ہیں اور مصیبت کا وقت بھی قریب ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: کیا وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال سلمة بن الأزرق أخرجه ابن ماجه: 1587، والنسائي: 4/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5889، 7691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5889»
وضاحت: فوائد: … ”جب واجب ہو جائے گی“ اس سے مراد موت ہے،جیسا کہ سنن اور مؤطا کی مرفوع روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے معانی دفن بیان کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے کوئی نہ روئے، ظاہر ہے کہ دوسری روایات کی روشنی میں اس سے مراد رونے کی ممنوعہ قسم ہے، جس میں چیخ و پکار ہو یا بلند آواز سے رونا ہو، کیونکہ رونا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فعلاً بھی ثابت ہے، بلکہ اس کو رحمت قرار دے کر اس کی تعریف کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال سلمة بن الأزرق أخرجه ابن ماجه: 1587