الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3050
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكُوا عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ: إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
صفوان بن محرز کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، لوگ رونے لگے۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں، یعنی اس سے جو (مصیبت کے وقت) سرمنڈائے یا کپڑے پھاڑے یا بلند آواز سے واویلا کرے۔ (۳۰۵۰) تخریـج: … انظر الحدیث السابق: ۷۰ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 70 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19769»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ رو رہے تھے، اس وقت سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ میں ان کا ردّ کرنے کی طاقت نہیں تھی، بعد میں جب افاقہ ہوا تو انھوں نے شرعی حکم کی وضاحت کر دی۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 70 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19769
حدیث نمبر: 3051
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا … إِلَى قَوْلِهِ … وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: كَانَ مِنْهَا النِّيَاحَةُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِلَّا آلَ فُلَانٍ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِلَّا آلَ فُلَانٍ) )
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ ان معروف کاموں میں سے ایک نوحہ بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4892، 7215، ومسلم: 937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21077»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4892
حدیث نمبر: 3052
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي، فَقَالَ: فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ، وَغَيْرِ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3052]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27850»
وضاحت: فوائد: … مجموعۂ روایات سے پتہ چلتاہے کہ جس عورت کو مبہم انداز میں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا خود ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27850
حدیث نمبر: 3053
عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرَ خَمْسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت اس بات کا عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ بھی نہیں کریں گی۔ ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا تھا: ام سلیم، زوجۂ معاذ، بنت ِ ابو سبرہ اور ایک اور خاتون۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3053]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 936، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27848»
وضاحت: فوائد: … پانچویں خاتون سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا خود تھیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جن عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، ان میں سے پانچ نے پوری طرح اس عہد کو نبھایا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 936
حدیث نمبر: 3054
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ فَذَكَرَ مِنْ بُكَائِهِنَّ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ الرَّجُلُ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَإِنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اُحْثُوا فِي وُجُوهِهِنَّ التَّرَابَ) ) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ مَا قَالَ لَكَ وَلَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب سیّدنا جعفر بن ابی طالب، سیّدنا زید بن حارثہ اور سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی کہ ایک آدمی نے آ کر کہا:اے اللہ کے رسول! جعفر کے خاندان کی عورتیں رو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ان کو روکے۔ وہ گیا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا: میں نے انہیں منع تو کیا ہے، لیکن انھوں نے میری بات نہیں مانی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے جو حکم دیا، نہ تو تو نے اس پر عمل کیا اور نہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3054]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1299، 305ٍ1، 4263، ومسلم: 935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24817»
وضاحت: فوائد: … یہ تینوں صحابہ آٹھ سن ہجری میں ہونے والے غزوۂ مؤتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا: ”تم پھر ان کے مونہوں میں مٹی ڈال دو۔“ اس سے مراد رونے پر مبالغہ کے ساتھ انکار کرنا اور منع کرنا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو چاہیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو رونے سے روکتا، وگرنہ چپ ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید پریشان نہ کرتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1299
حدیث نمبر: 3055
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ) ) ، قَالَتْ: فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: پردیسی تھا اور پردیس میں فوت ہو گیا، پس میں رو پڑی۔ (مدینہ کی) بالائی بستیوں سے ایک خاتون آئی، اس کا ارادہ تھا کہ (نوحہ کرنے میں) میری مدد کرے گی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس گھر سے شیطان کونکال دیا ہے تم دوبارہ اس کو وہاں داخل کرنا چاہتی ہو۔ پس یہ سن کر میں نہ روئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3055]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 922، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27005»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے تعلق رکھتے تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی اہلیہ پردیس سے یہی کچھ مراد لے رہی ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 922
14. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِي النِّيَاحَةِ وَالنَّائِحَةِ وَالْمُسْتَمِعَةِ
نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے نوحہ کرنے والی اور بلند آواز سے رونے والی عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3056]
تخریج الحدیث: «اسناده قابل للتحسين أخرجه الطيالسي: 2457، وابو يعلي: 6137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8731»
الحكم على الحديث:
اسناده قابل للتحسين أخرجه الطيالسي: 2457
حدیث نمبر: 3057
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عطية وأبوه وجده ضعفاء أخرجه ابوداود: 3128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11645»
وضاحت: فوائد: … لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9571»
وضاحت: فوائد: … نسب پر طعن کرنے سے مراد آدمی کا اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا ہے، یا کسی کو اس کے باپ، ماں یا برادری کی بنا پر طعنہ مارنا کہ وہ تو فلاں کمینے باپ کا بیٹا ہے یا اس کا تعلق تو فلاں گھٹیا برادری سے ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 395
حدیث نمبر: 3059
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُتْرَكْنَ، الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَالنَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ) )
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امورِ جاہلیت ہیں،لیکن ان کو چھوڑا نہیں جائے گا: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اورنوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہیں کر لیتی تو اسے اس حال میں قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول یا خارش کی قمیص ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3059]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23291»
وضاحت: فوائد: … ”حسب پر فخر کرنا“ اس سے مراد یہ ہے کہ آباء و اجداد کے مناقب بیان کر کے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنا اور غرور اور تکبر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ میں فلاں عالم، فلاں بہادر، فلاں ڈاکٹر یا فلاں مالدار کا بیٹا ہوں۔ اس میں کمال کسی کا ہوتا ہے اور بڑائی کوئی کر رہا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر کسی کا دادا بڑا انسان تھا تو اس میں پوتے کا کیا کمال ہے، اسے چاہیے کہ اپنے اندر اس قسم کی صلاحیتیں پیدا کرے اور عاجزی و انکساری سے زندگی گزارے۔ نسب پر طعن کرنا اور حسب پر فخر کرنا، دونوں نحوستیں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، ان کے ذریعے نااہل اور جاہل لوگ اپنے بڑے پن کو ثابت کر کے مطمئن رہنا چاہتے ہیں، ایک دن میں نے اچھے بھلے لکھے پڑے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے ماموں کو فلاں نواب نے اس کرسی یا مقام پر بٹھایا تھا، جہاں آصف علی زرداری کو بٹھایا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ زرداری عام مالدار آدمی تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کو زرداری کی سیٹ پر بٹھا دیا جائے تو اس سے بیٹھنے والے کو کتنی عظمت ملی، یہ فیصلہ تو منصف حضرات سے کروانا پڑے گا، بھلا بھانجوں کو اس پر اترانے کا کیا حق حاصل ہے۔ ”تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا“ ہم ”ابواب الاستسقائ“ کے آخر میں اس پر بحث کر آئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 934