الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ وَقَضَاءِ دَيْنِهِ
میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
حدیث نمبر: 3041
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ) ) ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَدْ أَدَّيْتُ إِلَّا دِينَارَيْنِ، ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: ( (فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ) )
سیّدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا، وہ تین سو درہم چھوڑ کر فوت ہوا تھا،اس کے اہل و عیال بھی تھے۔ میں نے چاہا کہ یہ رقم ان پر صرف کر دوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی کو قرضے کی وجہ سے روک لیا گیا ہے، اس لیے تم اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا تمام قرض ادا کر دیا ہے، لیکن دو دینار رہتے ہیں، ایک عورت نے ان کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے،لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بھی دے دو، کیونکہ وہ حق بات کر رہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الملك أبي جعفر أخرجه ابن ماجه: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20336»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس عورت کے سچا ہونے کا علم ہو گیا ہے۔ اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے میت کا قرضہ اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ خود کوئی مال چھوڑ کر نہ گیا ہو تو اس کے قبیلے والے یہ ذمہ داری ادا کریں، بصورتِ دیگر عام دوسرے مسلمان۔ وگرنہ اگر ممکن ہوا تو بیت المال سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، کیونکہ فتوحات کے سلسلے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فوت ہونے والے مقروض مسلمانوں کا قرضہ ادا کرتے تھے۔ ایک اور بڑی اہم بات ہے اور لکھتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے کہ قرض لینے والے اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا لیں، وہ یہ ہے جس آدمی کا یہ پکاعزم ہو کہ اس نے اپنا قرضہ چکانا ہے اور پھر وہ عملی طور پر کوشش بھی کرتا ہے اور پہلی فرصت میں قسطیں ادا کرنے کا موقع ضائع نہیں جانے دیتا، پھر بھی وہ قرض چکائے بغیر فوت ہو جاتا ہے اور اس کے لواحقین اور بیت المال بھی ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کے اسباب پیدا کر کے اس کی نیکیوں کو محفوظ کر لے گا۔ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے،جیسے سو افراد کے قاتل کی بخشش کے اسباب مہیا کر دیئے گئے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسے آدمی نے اللہ تعالیٰ کے ہاںجوابدہ ہونا ہے، اس لیے اسے غور کر لینا چاہیے کہ کیا اس کے پاس کوئی معقول عذر ہے۔جلدی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بارے میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَۃِ، فَاِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُوْنَھَا اِلَیْہِ، وَاِنْ تَکُ سِوٰی ذَالِکَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَہٗ عَنْ رِقَابِکُمْ۔)) یعنی: ”جنازے میں جلدی کرو، پس اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف بھیج رہے ہو اور اگر وہ برا ہے تو وہ تو شرّ ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔“ (بخاری: ۱۳۱۵، مسلم: ۵۰ یا ۹۴۴)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
11. بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ وَالرُّخْصَةِ فِي تَقْبِيلِهِ
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3042
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5814، ومسلم: 942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25088»
وضاحت: فوائد: … موت کے بعد میت کو ڈھانپ دینے پر اہل علم کا اجماع ہے، اس میں میت کا احترام بھی ہے اور اس کی بے پردگی ہونے سے حفاظت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5814
حدیث نمبر: 3043
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: أَبِي وَأُمِّي! وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دھاری دار یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیا اور رو پڑے۔ پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی بھی دوموتیں جمع نہیں کرے گا،جو موت آپ پر لکھی گئی تھی وہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4452، 4453، 5814، ومسلم: 942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24581، 24863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25375»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4452
حدیث نمبر: 3044
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، وَهُوَ مَيِّتٌ، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جبکہ وہ میت تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو ان کے چہرے پر بہنے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله،وقد اضطرب فيه أخرجه ابوداود: 3163، والترمذي: 989، وابن ماجه: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24165، 25712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24666»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 3045
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ: فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَهُوَ يَبْكِي
(دوسری سند)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جب کہ وہ میت تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو عثمان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں، یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231»
وضاحت: فوائد: … اس سلسلے میں صرف سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دینا ثابت ہے، اہل علم نے کہا ہے کہ چونکہ کسی صحابی نے ان پر انکار نہیں کیا، اس لیے اس کو اجماعِ صحابہ سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی یہ ایک معاملہ ہے، نہ کہ عبادت، اس لیے اگر کسی نص میں اس کی نفی نہیں کی گئی تو اس کو جائز ہی سمجھا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26231
12. باب
میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: Q3046]
13. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَلَطَمَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا گریبان چاک کرے،رخسار پیٹے اور جاہلیت والی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1298، 3519، ومسلم: 103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4111»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1298
حدیث نمبر: 3047
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِلَفْظِ: ( (لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ، أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ) )
(دوسری سند)جو شخص رخسار پیٹے، یا گریبان چاک کرے یا جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4361»
وضاحت: فوائد: … ”وہ ہم سے نہیں ہے۔“ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یا مکمل دین پر نہیںہے، یہ معنی نہیں کہ وہ دین سے خارج ہو گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4361
حدیث نمبر: 3048
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ: ( (لَكِنْ حَمْزَةَ لَا بَوَكِيَ لَهُ) ) ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَجِئْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَسَمِعَهُنَّ وَهُنَّ بَاكِيَاتٍ فَقَالَ: ( (وَيَحَهُنَّ، لَمْ يَزَلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احد سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری خواتین کی آواز سنی، جو اپنے شوہروں کی شہادت پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ، اس کے لیے تو رونے والیاں کوئی نہیں ہیں۔ جب یہ بات انصاری خواتین کو پہنچی تو وہ آئیں اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور ان کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: ان پر افسوس ہے، یہ رات سے روتی رہیں، ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کوئی کسی فوت ہونے والے پر نہ روئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5563»
وضاحت: فوائد: … ”وَیْح“ کا لفظ کبھی رحمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی عذاب کے لیے، سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس حدیث سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ شروع میں اس قسم کا رونا جائز تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1591
حدیث نمبر: 3049
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
یزید بن اوس کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب لوگ رونے لگے تو انہوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں۔ لوگوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن لوگوں سے براءت کا اظہار کیا)۔ اس نے کہا: جو مصیبت کے وقت سرمنڈائے، یا دامن پھاڑے یا ممنوعہ الفاظ کہتے ہوئے بلند آواز میں روئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19535، 19539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19768»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 104