الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَقَارِبِ وَتَقْدِيمِهِمْ عَلَى غَيْرِهِمْ وَمَرَاتِبِ الْمُسْتَحِقِّينَ
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
حدیث نمبر: 3620
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِلنِّسَاءِ: ( (تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَتْ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَتْ لَهُ: أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ، وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَنْ هُمَا؟) ) فَقَالَ: زَيْنَبُ، فَقَالَ: ( (أَيُّ الزَّيْنَبِ؟) ) فَقَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَقَالَ: ( (نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ) )
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر آؤ، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: سیدہ زینب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1466، ومسلم: 1000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16180»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کا نام زینب تھا، لیکن ان کو رائطہ بھی کہتے تھے، اس نام کا ذکر اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔ مالدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقہ کے لیے محتاج رشتہ داروں کو ترجیح دیں، اگرچہ عصر حاضر کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، آج کل جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا، وہ اتنا ہی اپنے غریب رشتہ داروں سے دور ہونے کی کوشش کرے گا۔ بیوی اپنے شوہر کو زکوۃ کا مال دے سکتی ہے، لیکن شوہر اپنی زکوۃ کی رقم بیوی پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس کی کفالت کا شرعی طور پر ذمہ دار ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1466
حدیث نمبر: 3621
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ وَكَانَتْ امْرَأَةً صَنَّاعَةَ الْيَدِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ! مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرُهَا، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ) )
۔ سیدہ رائطہ زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا، جو کہ ان کے بچوں کی ماں بھی تھیں، سے مروی ہے کہ وہ ایک ہنر مند خاتون تھی اور اپنے ہنر کی کمائی میں سے اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر خرچ کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: ایک دن میں نے اپنے خاوند سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے محروم کر رکھا ہے، آپ لوگوں کی وجہ سے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کرسکتی۔ آگے سے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں اس میں اجر نہیں ملتا کہ میں تمہارے لیے اس صدقہ کو پسند نہیں کرتا، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلی گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ہنر خاتون ہوں اور چیزیں بنا کر فروخت کرتی ہوں، لیکن میری اور میری اولاد اور شوہر کا اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے، اس لیے میں ان لوگوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے صدقہ کرنے سے محروم رہتی ہوں، تو کیا ان لوگوں پر خرچ کرنے سے مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر خرچ کیا کرو، کیونکہ تم ان پر جس قدر خرچ کرو گی، تمہیں ثواب ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، وھذا نحوه ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16184»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 3622
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابن ماجه: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17311»
وضاحت: فوائد: … جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابن ماجه: 2138
حدیث نمبر: 3623
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ أَوْ قَالَ: عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ، وَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14324»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 997
حدیث نمبر: 3624
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَصَدَّقُوا) ) ، قَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: ( (تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ) ) ، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ( (تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ) ) ، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ( (تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ) ) ، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ( (تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ) ) ، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ( (أَنْتَ أَبْصَرُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه ابوداود: 1691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7413»
وضاحت: فوائد: … ”اب تو خود بہتر جانتا ہے۔“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے رشتہ داروں میں کون کس قدر محتاج ہے یا شریعت کی روشنی میں کس کو ترجیح دینی چاہیےیا دوسری نیکیوں کی کیا صورتحال ہے۔ اپنی بیوی بچوں سے اخراجات کا سلسلہ شروع کرنے سے ان کا پر تکلف طرزِ حیات مراد نہیں ہے، جیسا کہ آج کل اکثر لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں جتنی عبادات سر انجام دیں، ان میں سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه ابوداود: 1691
حدیث نمبر: 3625
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ، صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ) )
۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ اخرجه الترمذي: 658، 695، ابن ماجه: 1844، والنسائي: 5/ 92، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16331»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ اخرجه الترمذي: 658
56. بَابُ اسْتِحْبَابِ إِعْطَاءِ الصَّدَقَةِ لِلصَّالِحِينَ - وَكَرَاهَةِ إِعْطَائِهَا لِلْقَلْقِلِينَ
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3626
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ، يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمْ الْأَتْقِيَاءَ وَأَوْلُوا مَعْرُوفَكُمْ الْمُؤْمِنِينَ) )
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن اورایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جسے اس کے کھونٹے پر باندھ دیا گیا ہو، وہ اِدھر اُدھر چکر کاٹ کر کھونٹے کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اسی طرح مومن بھی بھول تو جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے، تم نیک لوگوں کو کھانا کھلایا کرو اور اہل ایمان کو ہر قسم کی نیکی سے نوازا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3626]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو سليمان الليثي مجھول، وعبد الله بن الوليد لين الحديث، قاله ابن حجر وقال الدار قطني: لايُعتبر به۔ اخرجه ابن حبان: 616، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 10964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11546»
وضاحت: فوائد: … مؤمن کا اصل ایمان تو ثابت ہی رہتا ہے، بسااوقات بھول جاتاہے اور اپنے مرکز کو چھوڑ کر گناہوں کی گھاٹیوں میں پھرنے لگتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے، لیکن پھر جب اسے اصل احساس ہوتا ہے تو اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ربّ کی طرف واپس آ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3627
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا، فَلْيَرُدَّهَا) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اگر اسے صرف بے دین قسم کا بندہ ہی ملے تو وہ اپنا صدقہ واپس لے جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3627]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سيئ الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7064»
وضاحت: فوائد: … تالیف ِ قلبی کی نیت سے برے لوگوں بلکہ کافروں کی بھی صدقہ و زکوۃ سے امداد کی جا سکتی ہے، تالیف ِ قلبی کی صورتوں کی وضاحت حدیث نمبر (۳۴۶۷) والے باب میں ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
57. بَابُ صَدَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3628
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ الزُّبَيْرَ رَجُلٌ شَدِيدٌ وَيَأْتِينِي الْمِسْكِينُ فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (ارْضَخِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میرا شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سخت مزاج آدمی ہے، تو کیا جب میرے پاس کوئی مسکین آجائے تو میں اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے تھوڑی سی چیز دے دیا کرو اور بخل نہ کرو، وگرنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بخل کرنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3628]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1433، ومسلم: 1029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27524»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1433
حدیث نمبر: 3629
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ بَيْتِي؟ قَالَ: ( (أَنْفِقِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ) )
۔ (دوسری سند) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میرے پاس وہی کچھ ہے جو میرا خاوند سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے گھر میں لاتا ہے،(تو کیا میں اس سے صدقہ کر دیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ کیا کر اور نہ رک، وگرنہ تجھ سے بھی روک لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3629]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27451»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27451