🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا
نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3590
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ) ) حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11313»
وضاحت: فوائد: … لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1728
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3591
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (أَنْ تَصَدَّقَ، وَأَنْتَ شَحِيحٌ صَحِيحٌ تَأْمَلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ (وَفِي لَفْظٍ) أَلَا قَدْ كَانَ لِفُلَانٍ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بہترین صدقہ کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت اور اس حال میں صدقہ کرنا کہ جب تم حریص اور صحت مند ہو، زندگی کی امید ہو اور فقیری کا ڈر ہو اور اس قدر تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق تک آن پہنچے تو تم کہنا شروع کر دو کہ فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اس قدر دے دینا، حالانکہ اس وقت تو وہ مال دوسروں کا ہو چکا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2748، ومسلم: 1032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9767»
وضاحت: فوائد: … جب انسان کو مال و دولت کی زیادہ ضرورت اور حرص ہو تی ہے‘ اس وقت انسان کا صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ کیونکہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضامندی کے حصول کے لئے اپنے نفس کو شکست دینا صبر آزما اور مشکل کام ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نفس کو مغلوب کرنا ہی مقصودِ الہی ہے۔ موت کے غرغرہ (یعنی جان کنی) کے وقت انسان کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا‘ اس وقت کے نیک اعمال‘ وصیتیں اور صدقہ و خیرات بے اثر‘ بے فائدہ اور بے نتیجہ ہو جاتے ہیں‘ لہذا ہم کو چاہئے کہ اپنی عمر کے ابھرتے اور نمایاں دور میں اپنی مالی حالت کے مطابق صدقہ و خیرات کر کے توشۂ آخرت تیار کریں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2748
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) ) ، قُلْتُ لِأَيُّوبَ: مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى؟ قَالَ: عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت ان لوگوں سے ابتدا کرو جن کی کفالت کا تو ذمہ دار ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ معمر کہتے ہیں: میں نے ایوب سے کہا: عَنْ ظَہْرِ غِنًی کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: جو تیری ضرورت اور غِنٰی سے زائد ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3592]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7727»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3593
(وَمِنْ طَرِيقِ ثَانٍ) عَنْ أَبِي صَالِحَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ) ) ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا مَنْ تَعُولُ؟ قَالَ: امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرِ أَوْ طَلِّقْنِي، وَخَادِمُكَ يَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَابْنَتُكَ تَقُولُ: إِلَى مَنْ تَذَرُنِي
۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور اوپروالا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،جو افراد تیری کفالت میں ہیں، تو ان سے خرچ کرنا شروع کیا کر۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیاگیاکہ زیر کفالت افراد سے مراد کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: تمہاری بیوی جو کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ اور نان ونفقہ دو، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہارا خادم جو کہتا ہے کہ مجھے پہلے خوراک دو، تب مجھ سے کام لو اور تمہاری بیٹی جو کہتی ہے کہ اگر تم خود میری ضرورت پوری نہیں کرو گے، تو مجھے کس کے حوالے کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3593]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10795»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5355
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3594
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدناحکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3594]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1427، ومسلم: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15391»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1427
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3595
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کونسا صدقہ سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم سرمائے والے آدمی کی محنت کا صدقہ افضل ہے اور جن افراد کی کفالت کا توذمہ دار ہے، (مال خرچ کرنے کے سلسلے میں) ان کے ساتھ ابتدا کیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8687»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا} (سورۂ ملک: ۲) یعنی: ”اس اللہ) نے موت و حیات کا (نظام) پیدا کیا تاکہ تم (انسانوں) کو آزمائے کہ تم میں کون ہے جو اچھے عمل کرے گا۔“
بڑی شاندار حدیث ِ مبارکہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ (نسائی: ۲۵۲۷) دراصل اللہ تعالیٰ کی قدردان نگاہ سب سے پہلے عمل کے حسن پر پڑتی ہے اور پھر عمل کی کثرت پر، ایک غریب آدمی نے محنت و مشقت کر کے معمولی مقدار میں مال و دولت اکٹھا کیا اور بمشکل اپنے اخراجات پورے کر کے اس کی انتہائی معمولی مقدار اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس تڑپ سے خرچ کی کہ اس کا نام بھی صدقہ کرنے والوں کی فہرست میں آجائے۔ ایسے آدمی کے عمل کی قدر بہرحال ایک امیر زادے کے عمل سے زیادہ ہے، جو نعمتوں کی فراوانیوں کے ماحول میں پالاپوسا گیا ہو اور وہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰکے راستے میں خرچ کر دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1677
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. الْمَنِيحَةُ
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3596
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (الْمَنِيحَةُ، أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا، مثلاً تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہم یا سواری یا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابويعلي: 5121، والبزار: 947، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4415»
وضاحت: فوائد: … کوئی چیز عاریۃً دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کچھ عرصہ کے لیے کوئی چیز اس نیت سے دی جائے کہ وہ یہ اس عرصہ میں اس کی منفعت سے فائدہ اٹھاتا رہے، جیسے دودھ کے لیے جانور، کھیتی باڑی کرنے کے لیے زمین، پھل کے لیے پھلدار درخت اور سواری کے لیے سواری والا جانور عارضی طور پر دینا۔ اس سے مستقل دی ہوئی چیز کی اہمیت کا اندازہ لگالینا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابويعلي: 5121
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعَتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعَتَاقَةِ الْأَسْوَدِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا بہترین صدقہ ہے، وہ چیز صبح بھی اجر کا سبب بنتی ہے اور شام کو بھی، کسی کو اونٹنی عاریۃً دے دینا سرخ رنگ کا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور کسی کو بکری عاریۃً دے دینا سیاہ رنگ کے غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3597]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبيد الله بن صبيحة في عداد المجھولين، ومثله محمد بن عبد الله، وفليح ليس بذاك، يعتبر به في الشواھد والمتابعات۔ اخرجه البخاري: 2629، بلفظ: ((نعم المنيحة اللقحة الصفي منحة، والشاة الصفي تغدو باناء وتروح بانائ۔)) ومسلم: 1019، 1020، ولفظه في رواية: ((الا رجل يمنح اھل بيت ناقة بغدو يعس وتروح بعس، ان اجرھا لعظيم۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8686»
وضاحت: فوائد: … تخریج میں دیئے گئے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے الفاظ کا بالترتیب ترجمہ یہ ہے: ”سب سے بہترین چیز، جو عاریۃً دی جائے، وہ اونٹنی ہے، جس نے نیا بچہ دیا ہواہو اور زیادہ دودھ والی ہے اور وہ بکری ہے، جو زیادہ دودھ والی ہو اور صبح کو ایک پیالہ دودھ کا دے دیتی ہو اور ایک شام کو۔“ ”کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو کسی گھر والوں کو ایک اونٹنی بطورِ عاریہ دے دے، جو ایک بڑا پیالہ صبح کو دودھ کا دے دے اور ایک شام کو، اس عمل کا اجر بہت زیادہ ہے۔“

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3598
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَرْبَعُونَ حَسَنَةً، أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنَزِ، لَا يَعْمَلُ الْعَبْدُ بِحَسَنَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس نیکیاں ہیں، ان میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ دودھ والی بکری کسی کو عاریۃً دے دی جائے، جو آدمی ثواب کی امیدرکھتے ہوئے اور وعدہ کی ہوئی چیز کی تصدیق کرتے ہوئے ان چالیس میں سے ایک نیکی بھی سر انجام دے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3598]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6488»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری اور سنن ابو داود میںان الفاظ کی زیادتی ہے: راویٔ حدیث حسان بن عطیہ نے کہ: دودھ والی بکری عاریۃً دینا، ہم نے اس نیکی سے کم مرتبہ نیکیوں کو شمار کیا، مثلا سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کو ”یَرْحَمُکَ اللّٰہ“ کہنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، وغیرہ وغیرہ، لیکن ہم پندرہ سے زائد نیکیاں شمار نہ کر سکے۔
یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِن چالیس نیکیوں کا علم ہو گا، لیکن ان کو ذکر نہ کرنا ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان چالیس اعمالِ صالحہ کے پابند ہو جائیں اور باقی نیکیوں کو ترک کر دیں، جبکہ شریعت ِ مطہرہ میں ہر قسم کی نیکی اور اس کے اجر وثواب کا تعین کر دیا گیا ہے، انسان پر کوئی ایسی حالت طاری نہیں ہو سکتی، جس میں وہ یہ شکوہ کر سکے کہ اس ہیئت میں کوئی نیکی نہیں کی جا سکتی۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو صدقہ کرتے وقت یا کوئی مالی احسان کرتے وقت اپنے عزم کے اندر مختلف انداز میں پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا اس عمل سے مقصود کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2631
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3599
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَلِلْجَنَّةِ أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ) ) ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ! يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ مِنْ أَيِّهَا دُعِيَ، فَهَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (نَعَمْ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے جنت کے دروازوں سے آواز دی جائے گی، جنت کے کئی دروازے ہیں، جو آدمی نمازی ہو گا، اسے بَابُ الصَّلَاۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی صدقہ کرتا ہو گا، اسے بَابُ الصَّدَقَۃ سے بلایا جائے گا، جو آدمی جہاد کرتا ہو گا، اسے بَابُ الْجِہَاد سے بلایا جائے گا اور جو آدمی روزہ رکھتا ہو گا، اسے بَابُ الرَّیَّان سے بلایا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس کی تو کسی کو کوئی حاجت نہیں ہوگی کہ اسے جنت کے جس دروازے سے مرضی بلا لیا جائے (کیونکہ مقصود جنت میں داخل ہونا ہو گا)، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص بھی ہو گا، جس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3599]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1897، ومسلم: 1027، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7621»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1897
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں