الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ خِصَالٍ تُعَدُّ مِنَ الصَّدَقَةِ وَمَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْجَسَدِ
صدقہ میں شمار کئے جانے والے اعمال اور جسم کے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3610
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23641»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1005
52. فَصْلٌ مِنْهُ فِي صَدَقَةِ الْجَسَدِ
جسم کے صدقہ کا بیان
حدیث نمبر: 3611
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (فِي الْإِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلاثُمِائَةِ مَفْصِلٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهَا صَدَقَةً) ) ، قَالُوا: فَمَنِ الَّذِي يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا وَالشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُ عَنْكَ) )
۔ سیدنابریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسانی جسم میں (۳۶۰) جوڑ ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے اتنا صدقہ کون کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو وہیں دبا دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں تجھ سے کفایت کریں گی (اور سارے جوڑوں کا صدقہ ادا ہو جائے گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود: 5242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23386»
وضاحت: فوائد: … انسان کے اندر جوڑوں کا نظام، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، اسی نظام کی وساطت سے انسان کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پکڑنا، بولنا وغیرہ ممکن ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے، جس کی مقدار ایک آسان سی نیکی ہے اور اس صدقہ کی سب سے بہترین صورت نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود: 5242
حدیث نمبر: 3612
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (كُلُّ سُلَامَى مِنِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ) ) ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنْ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ) ) ، وَحَدَّثَ بِأَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2707، 2891، 2989، ومسلم: 1009، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8336»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2707
حدیث نمبر: 3613
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الْإِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیں یہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کی سواری پر رکھ دینا صدقہ ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8593»
وضاحت: فوائد: … ”سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مریضیا کمزور ہے یا اس کی سواری بغاوت اور شرارت والی ہو، ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعاون کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ حقوق العباد کے بارے میں اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ لیکن ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑھی ہے تو ممکن ہو گا کہ پیدل چلنے والے کو خیال آ جائے اور وہ اس چیز کو ہٹا دے، لیکن اگر کسی سائیکل سوار کی اس چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تویہ مشکل ہو گا کہ وہ اتر کر یہ نیکی کرے، موٹر سائیکل والے کے لیےیہ عمل اور مشکل ہو جائے گا اور موٹر کار والے کے لیے ناممکن ہو جائے گا، حقیقتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیں دھوکہ ہو گیا ہے اور ان نعمتوں کی وجہ سے ہم نیکیوں والے مزاج سے دور ہو گئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8593
حدیث نمبر: 3614
عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ: ( (لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتَدُلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهِ فَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ) ) ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ؟) ) قَالَ: بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ، قَالَ: ( (فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟) ) قَالَ: بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ، قَالَ: ( (فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ؟) ) قَالَ: بَلِ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ، قَالَ: ( (كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1006، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21816»
وضاحت: فوائد: … پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1006
حدیث نمبر: 3615
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ كَفَّرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ) )
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 11146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23180»
وضاحت: فوائد: … ان دو ابواب کی احادیث میں جتنے حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے، اِس وقت امت ِ مسلمہ ان حقوق کی ادائیگی سے بری طرح غافل ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں کو اپنے سے کم تر خلق اللہ کے حقوق کا شعور ہی نہیں ہے، بیس بیس اور چالیس چالیس لاکھ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فکر کی گنجائش ہی نہیں کہ کس غریب کو سائیکل وغیرہ کی ضرورت ہے،، موٹر سائیکل اور رکشہ کی تو بات کرنا ہی فضول ہے، کن لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، کن گھروں کے بچے سکول فیس اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے گلی محلوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے خوشحال لوگوں کیلئے بڑا خطرہ کی علامت بھی ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، لوگوں نے اپنے ذہن کے مطابق چند عبادات کو حقیقی اسلام سمجھ لیا، اس سلسلے میں ان کے ذہنوں پر جمود سوار ہے، ان کو اپنی عادات میں تبدیلی لانا گوارا ہی نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کے بارے میں یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، سرے سے وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، کیونکہ جب تک ہم یہ حقیقت سمجھ نہیں پائیں گے کہ اسلام کا ہم سے مطالبہ کیا ہے، اس وقت تک ہم بزعم خود کامل مسلمان ہوں گے اور درج بالا حقائق کو بے سر وپا سمجھیں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 11146
53. بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِثُلُثِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ
مال کا دسویں حصے، ایک تہائی حصے اور ایک اونٹنی کے صدقے کا بیان
حدیث نمبر: 3616
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ) )
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 743»
وضاحت: فوائد: … معنوی اعتبار سے اس حدیث ِ مبارکہ میں بیان شدہ مسئلہ درست ہے، کئی احادیث میں کم سرمائے والے آدمی کے معمولی مقدار کے صدقہ کو افضل قرار دیا گیا ہے، درج ذیل حدیث ِ مبارکہ بھی اسی حقیقت کی غماز ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ؟ قَالَ: ((لِرَجُلٍ دِرْہَمَانِ تَصَدَّقَ بِاَحَدِھِمَا وَانْطَلَقَ رَجُلٌ اِلٰی عَرْضِ مَالٍ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ اَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِہٖ۔)) … ایک درہم، ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے، اس نے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک آدمی اپنے بڑی مقدار والے مال کی طرف گیا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم صدقہ کیا۔“ (نسائی: ۲۵۲۷) معلوم ہوا کہ فقیر اور کم سرمائے والے آدمی کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3617
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلَعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ) )
۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ اخرجه ابوداود: 3319، 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3618
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ، فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ وَلَا أَدْمَى يَعْبُرُ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَدَقَةً؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ، قَالَ: فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ؟ فَوَاللَّهِ! لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ، قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا) ) ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ) ) ثَلَاثًا، قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا) ) ، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجَاهِدُ) )
۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عنه ابو السليل، واذا كان ھذا مجھولا فأبوه أو عمه مجھول مثله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20630»
وضاحت: فوائد: … ”لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے۔“اس کا مفہوم حریص ہونا اور معمولی مقدار کا ناکافی سمجھنا ہے۔ ان لوگوں کی مذمت ہے جو کثیر المال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مال کی کثرت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقہ کی مقدار بھی زیادہ ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عنه ابو السليل
54. بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِثَوْبَيْنِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا يُرِيدُ التَّصَدُّقَ بِهِ
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے¤ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
حدیث نمبر: 3619
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: ( (تَصَدَّقُوا) ) ، فَفَعَلُوا، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قَالَ: ( (تَصَدَّقُوا) ) ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ قَالَ: ( (انْظُرُوا إِلَى هَذَا فَإِنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَدَعَوْتُهُ فَرَجَوْتُ أَنْ تُعْطُوا لَهُ فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَتَكْسُوهُ فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقُوا، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ) ) ، وَانْتَهَرَهُ
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جمعہ کے روز ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، وہ اگلے جمعہ کو بھی آیا تھا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح اسے بلایا اور (دو رکعت نماز پڑھنے کا) حکم دیا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو بھی آیا،اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ لوگوں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمع شدہ صدقات میں سے دو کپڑے اس شخص کو بھی دیئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: صدقہ کرو۔ تو اس نے بھی انہیں ہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور اس کے فعل پر ناگواری کا اظہار کیا اور فرمایا: اس کو دیکھو،یہ انتہائی کسمپرسی والی حالت میں مسجد میں آیا،میں نے اس کو بلایا، کیونکہ مجھے یہ امید تھی کہ تم اس کی حالت دیکھ کر اس پر صدقہ کرتے ہوئے اسے کچھ دو گے اور اسے لباس عطا کرو گے، لیکن تم نے ایسے نہیں کیا، اس لیے میں نے تمہیں کہا: صدقہ کرو، پھر تم نے جو صدقہ کیا، اس میں سے میں نے اس کو دوکپڑے دیئے، میں نے پھر تم سے کہا کہ صدقہ کرو، اب کی بار اس نے بھی ان دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقے میں دیا۔پکڑ لے اپنا کپڑا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه ابوداود: 1675، والترمذي: 511، والنسائي: 3/ 106، وابن ماجه: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11215»
وضاحت: فوائد: … دونوں موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس بندے کو حکم دینا کہ وہ دو رکعتیں ادا کر کے بیٹھے، اس سے تحیۃ المسجد کی اہمیت ثابت ہو رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ خطبہ حکم دے رہے ہیں اور خطبہ کے باوجود اس کو یہ حق ادا کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقیروں کے ساتھ نرم اور ان کی مصلحتوں کے حریص تھے، اس لیے اس فقیر پر صدقہ کرنے کی لوگوں کو ترغیب دلائی۔ اسی فقیر کو صدقہ کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کو ڈانٹ دینا، اس سے درج ذیل دو اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۲) اگر کوئی شخص کسی چیز کا خود حقیقی محتاج ہو تو وہ اس کا صدقہ نہ کرے۔
(۱) حاکم کو دانا اور حکیم ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مسئلے میں یہ فیصلہ کر سکے کہ کون سے آدمی سے کس قسم کا صدقہ نہیں لینا چاہیے۔
(۲) اگر کوئی شخص کسی چیز کا خود حقیقی محتاج ہو تو وہ اس کا صدقہ نہ کرے۔
(۱) حاکم کو دانا اور حکیم ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مسئلے میں یہ فیصلہ کر سکے کہ کون سے آدمی سے کس قسم کا صدقہ نہیں لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه ابوداود: 1675