🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3600
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا أَوْ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ: يَا مُسْلِمُ! هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز کا جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے گا، اسے جنت کے دربان یوں آواز دیں گے: اے مسلمان! یہ دروازہ بہتر ہے، ادھر آ جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3600]
تخریج الحدیث: «سناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8776»
وضاحت: فوائد: … جوڑے کی وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
سناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3601
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ) ) ، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: ( (إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور سب ہی اسے اپنی طرف بلائیں گے۔ میں نے کہا: جوڑا خرچ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مثال کے طور پر اگر وہ غلاموں کا مالک ہے تو دو غلام، اگر وہ اونٹوں کا مالک ہے تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیوں کا مالک ہے تو دو گائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21668»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 24
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3602
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ الْمُهَاجِرُونَ فَأَعْطَوْا، قَالَ: فَأَشْرَقَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْإِشْرَاقَ فِي وَجْنَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (مَنْ سَنَّ سُنَّةً صَالِحَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ بِهِ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ) )
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی لئے ہوئے آیا، اس تھیلی نے اس آدمی کی مٹھی کو بھرا ہوا تھا۔ اس نے آ کر کہا: یہ تھیلی اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے بھی کوئی چیز صدقہ کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اوربطورِ صدقہ کچھ دیا، پھر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی صدقہ کیا،یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس حد تک دمک اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر چمکنے کے آثار نظر آ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اور پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اسے ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی، اسی طرح جوکوئی اسلام میں برا طریقہ رائج کرے اور پھر اس کے بعد اس پرعمل کیا جائے تو اس کو ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، جبکہ اِن کے گناہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3602]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19397»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3603
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَأَ النَّاسُ، حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ (وَقَالَ مَرَّةً: بَانَ) ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ: ( (مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً … …) ) فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
۔ (دوسری سند) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی، لیکن لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصے کے آثار نظر آنے لگے، پھر ایک انصاری ایک تھیلی لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر خوشی کے اثرات نمایاں ہونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھا طریقہ جاری کرتا ہے، … …۔ سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3603]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19416»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19416
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ خِدْمَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) )
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائے کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خیمہ یا خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیا ہوا خادم یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی ہوئی اونٹنی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف۔ اخرجه الترمذي: 1626، 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22677»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَافَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيَأْتِيَنَّ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ) )
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اونٹنی ایسی ہی سات سواونٹنیاں لے کر آئے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22714»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے راستے یعنی جہادمیں خرچ کرنا باعث ِ اجر ِ عظیم ہے، آخری حدیث ِ مبارکہ اس معاملے میں انتہائی واضح ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1892
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ خِصَالٍ تُعَدُّ مِنَ الصَّدَقَةِ وَمَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْجَسَدِ
صدقہ میں شمار کئے جانے والے اعمال اور جسم کے صدقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْكَلِمَةُ اللَّيِّنَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدناابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نرم بات بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے یا مسجد کی طرف اٹھا ہوا قدم بھی صدقہ ہے۔ آدمی پاؤں پر چل کر جائے وہ بھی صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2707، 2891، ومسلم: 1009، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8096»
وضاحت: فوائد: … نرم بات، نیکی کے جلیل القدر اعمال میں سے ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} ”برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی والا ہو۔“ (سورۂ مؤمنون: ۹۶) اور یہ طریقہ کبھی فعل کے ذریعے اختیار کیا جاتا ہے اور کبھی قول کے ذریعے۔ نرم بات کو صدقہ کیوں کہا گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے صدقہ وصول کرنے والے کا دل مال سے خوش ہو جاتا ہے اور دینے والے کے بارے میں اس کا دل صاف ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح نرم بات کے نتائج ہوتے ہیں۔ صدقہ کا ایک مفہوم ہمارے ہاں مروّج ہے، جس کا تعلق مادی چیزوں سے ہے، سوال یہ ہے کہ دوسرے عام نیکیوں کو صدقہ کیوں کہا جاتا ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے جا سکتے ہیں: ایکیہ ہے کہ جیسے صدقے کا اجر و ثواب ہوتا ہے، اسی طرح دوسری نیکیوں کا اجرو ثواب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام ہیں، اس لیے اس مشابہت کی وجہ سے دوسری نیکیوں کو بھی صدقہ کہہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بندہ عام نیکیوں کے ذریعے اپنے نفس پر صدقہ کرتا ہے، اس وجہ سے ان کو صدقہ کہا جاتا ہے۔
نیکی کو صدقہ کہنے کییہ توجیہ بھی کی گئی ہے کہ صدقہ صدق (سچ بولنا) سے ہے اور ہر نیکی آدمی کے دل کی سچائی کی علامت ہوتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2707
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِهِ) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کو کشادہ روئی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول میں سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه و شواهده۔ اخرجه الترمذي: 1970، وأخرجه البخاري: 6021 بلفظ: ((كل معروف صدقة۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14766»
وضاحت: فوائد: … نیکی کے بارے میں اس قانون کو کبھی بھی نہیں بھلانا چاہیے کہ ہر قسم کی نیکی کو سرانجام دینے کی کوشش کی جائے، اس کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہو یا بڑا، آخر پیاسے کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے بدکار عورت کو بخش دیا گیا تھا۔

الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه و شواهده۔ اخرجه الترمذي: 1970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18948»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 549
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3609
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ، قَالَ: ( (يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ، قَالَ: ( (يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ( (يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ بِالْعَدْلِ) ) ، قَالَ: أَفْرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: ( (يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدقہ کرے۔ اس نے کہا: اگر آدمی میں صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ہاتھ سے کام کرکے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ اس نے کہا: اگر کسی میں کام کرنے کی طاقت نہ ہو تووہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ پھر کسی مجبور ضرورت مند کی مدد کر دے۔ اس نے کہا: اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھائی کا یا عدل کا حکم دے دیا کرے۔ اس نے کہا: اگر اس میں اس کی استطاعت بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ برائی سے بچے، یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1445، 6022، ومسلم:1008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19760»
وضاحت: فوائد: … دور کوئی بھی ہو، مزاج اور حالات جیسے بھی ہوں، شریعت نے ہر زمان و مکاں سے نبٹنے کے لیے اہل اسلام کی مکمل رہنمائی کی ہے، انہی حالات و ظروف کو مد نظر رکھ کر ہر انسان سے باز پرس کی جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جن حالات سے گزر رہے ہوں، ان کا احکامِ شریعت کے ساتھ موازنہ کریں اور اپنے لیے راہِ نجات تلاش کریں۔ بعض لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت زبان سے مجبوریوں کا، شکووں کا اور حالات کے ناسازگار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ایسے بے صبروں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زبان سے ادا کر دی جانے والی مجبوریوں اور شکووں کو اخروی زندگی میں بطورِ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق کوئی راہِ ہدایت تلاش کریں اور اس معاملے میں کسی اہل علم سے رابطہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم از کم مسلمان کے شایانِ شان یہ بات ہے کہ وہ شرّ سے رکا رہے۔ ”اَلْمَلْہُوْف“ کا معنی ستم رسیدہ، حسرت زدہ، مجبور اور مظلوم ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1445
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں