🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا
نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3580
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) )
۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے گا تو یہ تیرے لئے بہتر ہو گا اور اگر اسے بچا کر رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا، البتہ بقدر حاجت بچا کر رکھنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا، اور خرچ کرتے وقت ان افراد سے ابتدا کر، جو تیری کفالت میں ہیں، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے) بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3580]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22621»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1036
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی طرح کی ایک روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1428، ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7155»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی روایت میں امام احمد منفرد ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يَقُولُ: مَنْ يُقْرِضُ الْيَوْمَ يُجْزَى غَدًا، وَمَلَكًا بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ یوں آواز دیتا ہے: کون آج قرض دے گا، تاکہ اسے کل (قیامت والے دن) بدلہ دیا جا سکے،اور ایک دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یوں کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بہترین متبادل عطا فرما اور بخیل کے مال کو ہلاک کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3582]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8040»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ امیری اور غریبی نسل در نسل چلنے والی چیزیں نہیں ہے، آج جو لوگ بڑے سرمایہ دار ہیں، ان کے بڑے کوئی سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے، اسی طرح آج جو لوگ فقیر اور محتاج بن گئے ہیں، ان کے ماضی قریب کا فقر اور غربت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ دراصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو نعمتوں سے نوازتا ہے اور بندے آہستہ آہستہ اپنی اوقات کو بھول کر راہِ اعتدال سے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور قارون کی طرح اپنی دولت کو اپنی ذات، ہنر اور برادری کا کمال اور اعزاز سمجھنے لگتے ہیں تو آسمان والا یا تو کچھ عرصے کے لیے ان کو ڈھیل دینا شروع کر دیتا ہے یا پھر ان کو اس نعمت سے محروم کرنے کی کاروائی شروع کر دیتا ہے، قرآن مجید کے درج ذیل اقتباس پر غور فرمائیں:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلَاہُ رَبُّہٗفَاَکْرَمَہٗوَنَعَّمَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَکْرَمَنِ۔ وَاَمَّا اِذَا مَا ابْتَلَاہَ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗفَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ۔ کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ۔ وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا۔ وَتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔} ”انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ اور جب وہ اس کو اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ تم ہی لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو۔“ (سورۂ فجر: ۱۵ تا ف۲۰)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دولت کا رخ پھر جانے کے چار اسباب بیان کیے ہیں: (۱) یتیموں کی عزت نہ کرنا، (۲) مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ترغیب نہ دلانا، (۳) رشتہ داروں کی میراث سمیٹ لینا اور (۴) مال سے بہت محبت کرنا۔
جب کسی سرمایہ دار میں یہ خباثتیں آ جاتی ہیں تو دولت کا رخ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ یا تو چند سالوں کے بعد حالات بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں، نہیں تو اس کے کیے کا بھگتان اس کی اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے کئی افراد اس وقت میری نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے دس بارہ بارہ سالوں کے اندر ایسے ایسے پلٹے دیئے کہ ان بیچاروں کو بھی سمجھ نہ آئی کہ ان کے ساتھ کیا پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، کسی کو اس کی عیاشی نے، کسی کو اس کے بخل نے، کسی کو غریبوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے نے، کسیکو دولت ہی کو ذلت و عزت کا معیار سمجھنے نے، کسی کو سودی نظام نے، کسی کو غریبوں کے سنجیدہ مسائل پر بے حسی کا ثبوت دینے نے، کسی کو مجبوروں کو دیکھ کر تیوڑی چڑھانے نے، … علی ہذا القیاس۔ یہ ایسے اسباب ہیں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دولت کا رخ تبدیل کر دیتے ہیں۔ میں یہی التماس کروں گا: سرمایہ دارو! دولت ڈھلتی چھاؤں ہے، کبھی بھی اپنی اوقات کو نہ بھولنے پاؤ، تمہارے خزانوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اسی کے نظام کو اپنے مزاجوں اور گھروں میں رواج دو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ”غنی“ کا لقب پاؤ گے، وگرنہ فرشتوں کی بددعاؤں کا مصداق بن جاؤ گے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1010
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3583
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: ( (يَا عَائِشَةُ! اسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنَ الشَّبْعَانِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ! آگ سے بچ (اس کے لیے اسباب پیدا کر)، اگر چہ وہ کھجور کا ایک حصہ دینے کی صورت میں ہی ہو، یہ سیر آدمی کی طرح ہی بھوکے آدمی کو فائدہ دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد منقطع، المطلب بن عبد الله لم يدرك عائشة، لكن قوله ((استتري من النار، ولو بشق تمرة)) صحيح بسند آخر، وقوله: ((فانھا تسد من الجائع مسدھا من الشبعان)) له شاھد من حديث ابي بكر الصديق عند ابييعلي: 85، والبزار في ’’البحر الزخار‘‘: 1/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25006»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3584
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِيَتَّقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے چہرے کو آگے سے بچائے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک حصہ صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابو نعيم في ’’الحلية‘‘: 8/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3679»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه ابو نعيم في ’’الحلية‘‘: 8/ 214
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3585
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَصَدَّقُوا فَيُوْشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا، وَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا) )
۔ سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، کیونکہ قریب ہے کہ ایک آدمی صدقہ لے کر چلے اور جسے وہ دینا چاہے، وہ آگے سے کہے: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، اب تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پس اسے ایسا آدمی نہیں ملے گا، جو اس کے صدقے کو قبول کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1411، 1424، ومسلم: 1011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18933»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی آدمی مالدار ہے اور اس کے ارد گرد مستحق لوگ موجود ہے، تو وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر صدقہ و خیرات سے محروم نہ رہے، کیونکہ قریب ہے کہ اس کو مستحقین کی فہرست میں شامل کر دیا جائے، یا اس کے قرب وجوار والے سارے ہی اپنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3586
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ( (يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى بِكَفِّهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہو گئے، ما سوائے ان لوگوں کے جو مال کو اِدھر خرچ کرتے ہیں، اُدھر دیتے ہیں اور اس طرف لٹاتے ہیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3586]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الحاكم: 1/ 517، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8071»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الحاكم: 1/ 517
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟) ) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ: ( (اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کواس کے وارث کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھریاد رکھو کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہے، تمہارا مال تو صرف وہ ہے، جسے تم نے خرچ کرکے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے چھوڑا، وہ تمہارے وارث کا مال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري:6442، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3626»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري:6442
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3588
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: ( (كُلُّهَا قَدْ بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24744»
وضاحت: فوائد: … یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2470
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3589
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطِ وَلَا تُوعِي، فَيُوعَى عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700، والنسائي: 5/73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25781»
وضاحت: فوائد: … یہ مصیبت ہمارے دور میں بھی بدرجۂ اتم پائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے صدقہ و خیرات کی انتہائی معمولی مقدار کو اپنے لیے کافی و شافی سمجھ لیا ہے، اگر کوئی آدمی کسی فقیر کو سو پچاس دے دیتا ہے، وہ کئی دنوں تک اس کو بھولنے نہیں پاتا۔ قارئین کرام! کوئی مانے یا نہ مانے، ابھی تک عملی طور پر ہم یہ عقیدہ اور نظریہ قائم نہ کر سکے کہ سخاوت کی وجہ سے خزانوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی نسلیں اس کی برکت سے مستفید ہوتی رہتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ جون ۲۰۱۲؁ءمیں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی، چند برس پہلے اس کے پاس پانچ کروڑ روپیہ اور بہترین کاروبار موجود تھا، لیکن۲۵ جون کو ایک ہزار روپے کی بھیک مانگ کر اسے دیا گیا، تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، جبکہ اس کا دعوییہ ہے کہ اس کو کوئی سمجھ آئی کہ اس کی اتنی بھاری رقم کہاں دفن ہو گئی۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کنجوسی ہونے لگ جائے تو بندہ کرتا تو کچھ اور ہے، لیکن ہوتا کچھ اور ہے، آدمی اپنے لیے خود گڑھے کھودنے لگ جاتا ہے۔ العیاذ باللہ

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں