الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفَقِيرِ الْمِسْكِينِ
فقیر اور مسکین کا بیان
حدیث نمبر: 3453
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَّافُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَيَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگنے کے لیے چکر لگاتا رہتا ہے اور ایک دو دو لقمے یا ایک دو دو کھجوریں لے کر واپس آ جاتا ہے،بلکہ دراصل مسکین وہ ہوتا ہے جو اپنی جائز ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو اور لوگوں سے مانگنے میں جھجک محسوس کرتا ہو اور اس کی (اس صفت کی وجہ سے اس کی مسکنت) کو سمجھا بھی نہیں جاتا کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1479، ومسلم: 1039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8172»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1479
حدیث نمبر: 3454
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ شَيْئًا وَلَا يُفْطَنُ بِمَكَانِهِ فَيُعْطَى) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک دو دو لقمے یا کھجوریں واپس کر دیتی ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود) کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس (کی ضرورت کو) سمجھا جاتا ہے کہ اسے کچھ دے دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9100»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9100
حدیث نمبر: 3455
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالُوا: فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِهِ فَيُصَدَّقَ عَلَيْهِ) ) ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَذَلِكَ هُوَ الْمَحْرُومُ
۔ (تیسری سند) صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مسکین کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ ہے جو نہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکتا ہو اور نہ لوگوں کو اس کی حاجت کا پتہ چل سکتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔ امام زہری کہتے ہیں: اسی کو محروم کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7530»
وضاحت: فوائد: … امام زہری کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے: {فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ} … ’ ’ان کے مالوں میں مقرر حق ہے، سائل اور محروم کے لیے۔“
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7530
حدیث نمبر: 3456
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ أَوِ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ، اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}) )
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9129»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) … ”صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔“
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9129
حدیث نمبر: 3457
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ عَلَيْكُمْ أَنْ تُطْعِمُوهُ لُقْمَةً لُقْمَةً إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا
۔ (پانچویں سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی مسکین نہیں جو تم پر اس لیے چکر لگاتا ہے کہ تم اس کو ایک ایک لقمہ کھلا دو، مسکین تو صرف وہ ہے جو ایسا پاکدامن ہے کہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10576»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10576
حدیث نمبر: 3458
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3458]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابو يعلي: 5118، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3636»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ گھومنے والا مسکین ہے اور نہ وہ مسکین ہے جس کو ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے واپس کر دیں، بلکہ مسکین تو بچنے والا ہے، یعنی جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس کی مسکینی کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔“
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه ابو يعلي: 5118
حدیث نمبر: 3459
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟) ) فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟) ) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ: ( (مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟) ) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ( (مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟) ) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ: ( (هُمَا لَكَ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِي دَمٍ مُوْجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3459]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة حال ابي بكر الحنفي، لكن قوله: ((ان المسألة لا تحل۔)) صحيح بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 1641، وابن ماجه: 2198، والترمذي: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12158»
وضاحت: فوائد: … سنن ابی داود کی روایت میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اِن دو درہموں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک درہم کا کھانے خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دے اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر لائے، اس نے ایسا ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دستہ ڈالا اور اسے فرمایا: ”جا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنا شروع کر دے اور میں تجھے پندرہ دن نہ دیکھنے پاؤں۔“ وہ چلا گیا اور ان ہدایات کے مطابق کام کرتا رہا، جب وہ واپس آیا تو وہ دس درہموں کا مالک بن چکا تھا، پھر اس نے بعض درہموں سے کپڑے خریدے اور بعض سے کھانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کییہ صورتحال دیکھ کر فرمایا: ”یہ کام تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تو اس حال میں آتا کہ لوگوں سے مانگنے کا نکتہ اور نشان تیری چہرے پر ہوتا، سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: …۔“ ”کسی مقتول کی دیت ادا کرنے والا“ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمییہذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ وہ قاتل کی طرف سے مقتول کی دیت اس کے لواحقین کو ادا کرے گا، لیکن بعد میں اس کا اہتمام کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے۔ اِس اور اِس موضوع کی دیگر شرعی نصوص کا تقاضا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال کرنا ناجائز ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت اس سے گریز کرے، احادیث ِ مبارکہ اس میں بھیک مانگنے کی بڑی مذمت کی گئی ہے، الا یہ کہ کسی کی شرعی مجبوری ہو، لیکن ایسے مجبور کو بار بار سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر مقبول ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
24. بَابُ الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا
عاملینِ زکوۃ
حدیث نمبر: 3460
عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيْتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أُعْطِيْتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ) )
۔ ابن ساعدی مالکی کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات کا عامل مقرر کیاہے، جب میں نے اس کام سے فارغ ہو کر سارا حساب ان کے حوالے کیا تو انھوں نے حکم دیا کہ مجھے اس خدمت کی اجرت دی جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر بھی اللہ تعالیٰ پر ہے،لیکن انہوں نے کہا: جو چیز تم کو دی جا رہی ہے، اس کو لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اسی طرح کا ایک کام کیا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس عمل کی اجرت دی اورمیں نے تیرے والی بات کہی تو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا: تمہیں جو چیز بن مانگے مل رہی ہو اس کو لے لیا کرو اور خود بھی کھایا کرو اور صدقہ بھی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7163، ومسلم: 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 371»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، ان کو اس مال میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے، بعض لوگ مساجد و مدارس کے سفیر حضرات پر اس بنا پر سخت طعن کرتے ہیں کہ وہ اسی فنڈ کا کچھ حصہ بطورِ تنخواہ لیتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث کی نصوص سے اس کے لیے رزق کییہ صورت حلال ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7163
حدیث نمبر: 3461
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ وَلِي لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ، أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا، أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً، وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ) )
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہمارے کسی کام کا ذمہ دار بنے تو اگراس کا گھر نہ ہو تو وہ (سرکاری خزانے سے) گھر بنا لے، اگر بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہو تو وہ خادم بھی بنا لے اور اگر اس کی سواری نہ ہو تو سواری بھی بنا لے، اگر کسی نے اس کے علاوہ کوئی چیز لی تو وہ خائن ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة۔ اخرجه ابوداود: 2945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18178»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3462
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ( (فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ) )
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: … کہ وہ خائن یا چور ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ ملازم اور مسئول کو جن سہولیات کا حق کسی ادارے کی طرف سے دیا جائے،وہ اس سے استفادہ کر سکتا ہے، لیکن اس سلسلے میں اس کو جس چیز کا حق دیا جائے، اس سے اس کو تجاوز نہیں کرنا چاہیے، وگرنہ حرام کی ملاوٹ ہو جائے گی۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشینکرنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کا یہ ماحول ہے کہ اگر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اپنے ملازمین کو موٹر سائیکل، گاڑی، مکان اور دیگر سہولتوں اور بھاری تنخواہوں سے نواز دیں تو ایسے ملازم کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے کمال کی بڑی تعریف کی جاتی ہے، لیکن اگر کسی مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ ان اسلامی اداروں سے متعلقہ کسی آدمی کو اس قسم کی سہولتوں سے مستفید ہونے کا موقع دے دے، تو ہر طرف سے یہی آواز سنائی دیتی ہے کہ اب مولوی لوگ تو بگڑ گئے ہیں، انھوں نے تو خیانتیں شروع کر دی ہیں، لوگوں کی رقم کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں اسی قسم کی ایک مثال گردش کر رہی ہے کہ ایک بڑا ہی معقول اور اسلامی ذہن کا آدمی تھا، لیکن وہ ایک مسجد کے امام پر اس بنا پر سخت طعن کررہا تھا کہ اس کے گھر میں مسجد کا پانی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ وہ مسجد ایک اڈے کے قریب تھی۔ میں نے اس آدمی سے یہ سوال کیا کہ اگر اڈے کے لوگ مسجد کی لیٹرین، غسل خانہ، واٹر کولر، گیزر، بجلی اور سونے کے لیے صفیں تک استعمال کریںتو اس کے بارے میں جناب کی کیا رائے ہو گی، جبکہ ان میں سے بعض لوگ بے نمازی بھی ہیں؟ اس نے فوراً کہا کہ ان کے لیےیہ جائز ہے کیونکہ انتظامیہ نے اجازت دے رکھی ہے۔ عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ انصاف کی عینک لگائیں اور اعتراض برائے اعتراض کی عادت چھوڑ دیں، شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خطیب، امام، مدیر، استاذ، خادم اور ان اداروں سے متعلقہ دوسرے افراد کو مختلف سہولتوں سے نوازے اور ان کو ایسا کرنا بھی چاہیے تاکہ یہ لوگ بھی احساس کمتری سے محفوظ رہ کر معاشرے کے تقاضے پورے کر سکیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180