الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا
عاملینِ زکوۃ
حدیث نمبر: 3463
عَنْ أَبِي مَوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا، طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ) )
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس دیانت دار خزانچی کو جو حکم دیا جائے، اگر وہ اسی کے مطابق اور نفس کی خوشی کے ساتھ پوری طرح اس شخص کو دے دے، جس کا اسے کہا گیا تھا، تو وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3463]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1438، 3219، ومسلم: 1023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19741»
وضاحت: فوائد: … خزانچی لوگوں کو چاہیے کہ وہ ”مدعی سست اور گواہ چست“ والا معاملہ نہ کریں، بلکہ مالکان کی طرف خیر و بھلائی کے امور میں خرچ کرنے کا ان کو جو حکم دیا جائے وہ اس پر عمل گزریں اور ان کی خوشامد کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو بڑا خیرخواہ ثابت کرنے کے لیے ان کو بخل کی تجویز نہ دیں۔
ایک اصل صاحب مال اور دوسرا خزانچی۔ گویا اگرچہ خزانچی اپنی جیب سے مال نہیں خرچ کر رہا، لیکن خوش دلی سے اور مالک کی ہدایات کے مطابق مال دینے کی وجہ سے صاحب مال کی طرح اجر وثواب کا حق دار ہے۔ یہ معنی اس وقت ہے جب ”المتصدقین“ پڑھا جائے اگر جمع کا لفظ ہو (المتصدقین) تو معنی ہوگا وہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک صدقہ کرنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ایک اصل صاحب مال اور دوسرا خزانچی۔ گویا اگرچہ خزانچی اپنی جیب سے مال نہیں خرچ کر رہا، لیکن خوش دلی سے اور مالک کی ہدایات کے مطابق مال دینے کی وجہ سے صاحب مال کی طرح اجر وثواب کا حق دار ہے۔ یہ معنی اس وقت ہے جب ”المتصدقین“ پڑھا جائے اگر جمع کا لفظ ہو (المتصدقین) تو معنی ہوگا وہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک صدقہ کرنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1438
حدیث نمبر: 3464
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ کی وصولی کے لئے روانہ کیا، جب میں نے صدقہ کے مال میں سے کچھ کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3464]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17442»
وضاحت: فوائد: … بہرحال صدقہ و زکوۃ کا عامل اور ساعی کو اسی مال میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 3465
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطُوا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِهِ فَإِنَّ عَامِلَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عامل کو اس کے کام او رمحنت میں سے دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کام کرنے والامحروم نہیں رہتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8604م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8589»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة
حدیث نمبر: 3466
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ) )
۔ سیدنارافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صدقات کی وصولی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، ھذا الاسناد منقطع، لكنه جاء متصلا ايضا في الرواية الآتية في المسند: 4/ 143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15920»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث ِ مبارکہ میں جس عامل کی تعریف کر رہے ہیں، عصر حاضر میں ایسے لوگوں کا فقدان ہے اور بہت سارے ملازمین اپنے حق میںیا تو شرعی مسائل سے غافل ہیںیا پھر اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں ظالم ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ
ان لوگوں کا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
حدیث نمبر: 3467
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيُسْلِمُ لِشَيْءٍ يُعْطَاهُ مِنَ الدُّنْيَا، فَلَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَأَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر محض اس لئے اسلام قبول کرتا کہ اسے کچھ دنیوی مفاد حاصل ہو جائے گا، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے پسندیدہ اور معزز بن چکا ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3467]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث الآتي بعده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12073»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث الآتي بعده
حدیث نمبر: 3468
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَائٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 3212 بلفظ قريب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12074»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 3212 بلفظ قريب منه
حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا غَفَّانُ ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ نَاسًا وَتَرَكَ نَاسًا، وَقَالَ جَرِيرٌ أَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ: فَبَلَغَهُ عَنِ الَّذِينَ تَرَكَ، أَنَّهُمْ عَتَبُوا وَقَالُوا، قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنِّي أُعْطِي نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا، وَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا) ) ، قَالَ: عَفَّانُ قَالَ: ذِي وَذِي، وَالَّذِينَ أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِينَ أُعْطِي، أُعْطِي نَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، وَمِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ) ) ، قَالَ: وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ
۔ سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تقسیم کے لئے کچھ مال آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا، جن لوگوں کو نہیں دیا گیا، انھوں نے (شکوہ کرتے ہوئے) ناقدانہ کلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی باتوں کا علم بھی ہو گیا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں بعض لوگوں کو مال دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا، اور میں جن کو نہیں دیتا وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جن کودیتا ہوں، میں جن لوگوں میں مال تقسیم کرتا ہوں، ان کی بے صبری اور گھبراہٹ کی وجہ سے ایسے کرتا ہوں، اور بعض لوگوں کواس غِنٰی اور خیر کے سپر د کر دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ودیعت رکھی ہوتی ہے، مثال کے طور پر عمرو بن تغلب ہیں (یہ سن کر) سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھاہوا تھا، (مجھے یہ کلمہ اس قدر محبوب لگا کہ) میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 923، 3145، 7535، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20948»
وضاحت: فوائد: … زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ اس مال سے لوگوں کی تالیف ِ قلبی کی جائے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: ایک تو وہ کافر ہے، جو کچھ کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر یہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں، جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے، وہ افراد بھی ہیں جن کو امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف ِ قلب کی ہیں، جن پر زکوۃ کیرقم خرچ کی جا سکتی ہے، چاہے مذکورہ افراد مالدار ہی ہوں، احناف کے نزدیکیہمصرف ختم ہو گیا، لیکنیہ بات صحیح نہیں ہے، حالات و ظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 923
26. بَابُ الصَّدَقَةِ فِي الرِّقَابِ
غلاموں کی آزادی پر زکوۃ صرف کرنا
حدیث نمبر: 3470
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: ( (لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ) ) ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: ( (لَا، إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تُفْرَدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ) )
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک بدو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں کہ جس کی بدولت میں جنت میں چلا جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن بہت بڑی بات پوچھی ہے، بہرحال کسی غلام کو مکمل آزاد کر یا کسی کو آزاد کرنے میں حصہ ڈال۔ اس نے کہا: کیایہ دونوں کام ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، عِتْقُ النَسَمَہ یہ ہے کہ تم اکیلے کسی کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَہ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں حصہ ڈال دو، (بقیہ نیک اعمال یہ ہیں کہ) تم دودھ والا جانور عاریۃً کسی کو دے دو اور اپنے رشتہ دار، خواہ وہ ظالم ہی ہو، کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، پیاسے کو پانی پلایا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو،ا گر ان امور کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو خیر والے امور کے علاوہ (باقی کاموں سے) روک لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الدارقطني: 2/ 135، والطيالسي: 739، والبيھقي: 10/ 272، وابن حبان: 374، والحاكم: 2/ 217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18850»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الدارقطني: 2/ 135
حدیث نمبر: 3471
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعِفُّ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے:(۱)اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، (۲) پاکدامنی کے مقصد سے نکاح کرنے والا اور (۳) وہ مکاتَب غلام جو اپنی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه ابن ماجه: 2518، والترمذي: 1655، والنسائي: 6/ 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7410»
وضاحت: فوائد: … مکاتَب: وہ غلام جس نے اپنے آقا سے رقم مقرر کر کے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہو۔ دونوں احادیث اس موضوع پر واضح نہیں ہیں کہ زکوۃ کے مال سے غلاموں کو آزاد کیا جائے، بہرحال یہ مسئلہ اپنی جگہ درست ہے کہ زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف غلاموں کی آزادی ہے، وہ مکاتَب ہوں یا غیر مکاتَب۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه ابن ماجه: 2518
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَارِمِينَ
قرض داروں کو زکوۃ دینا
حدیث نمبر: 3472
عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ (الْهِلَالِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلْتُ حَمَالَةً، (وَفِي رِوَايَةٍ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ) فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فِيهَا، فَقَالَ: ( (أَقِمْ حَتَّى تَأْتِينَا الصَّدَقَةُ، فَإِمَّا أَنْ نَحْمِلَهَا وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ فِيهَا) ) ، وَقَالَ: ( (إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ، لِرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةَ قَوْمٍ فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْمَسَائِلِ سُحْتًا يَا قَبِيصَةَ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا) )
۔ سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے (لوگوں میں اصلاح کی غرض سے) ایک مالی ضمانت قبول کر لی اور اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر تعاون کی گزارش کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس زکوۃ آنے تک انتظار کرو، یا تو ہم مکمل ادائیگی کر دیں گے یا اس سلسلہ میں کچھ تعاون کر دیں گے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا اور مانگنا حلال نہیں ہے، مگر تین قسم کے آدمیوں کے لئے: (۱)وہ آدمی جو لوگوں (کے درمیان اصلاح) کی خاطر مالی ضمانت دے دیتا ہے، وہ اس سلسلے میں سوال کرسکتا ہے، لیکن جب وہ ضمانت ادا کر دے تو مانگنے سے باز آ جائے، (۲)وہ آدمی کہ اس پر ایسی آفت آ پڑے کہ اس کے مال کو تباہ کر دے، تو وہ ضرورت پوری ہونے تک سوال کر لے اور پھرایسا کرنے سے رک جائے اور (۳)وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو، ایسا آدمی بھی حاجت پوری ہونے تک سوال کر سکتا ہے، لیکن پھر ایسا کرنے سے باز آ جائے۔ قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، ایسا کرنے والا حرام کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1044، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20877»
وضاحت: فوائد: … ”مالی ضمانت قبول کرنا“ اس کی صورت یہ ہے کہ دو قبیلوںیا دو آدمیوں کے درمیان کسی مالی معاملے پر ہونے والی کسی جھگڑے کو رفع دفع کرنے کے لیے ایک آدمی قرض لے کر معاملے کو سنوار کر صلح کروا دیتا ہے، چونکہ اس آدمی نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے قرضہ نہیں لیا، اس لیے اس کی ادائیگی کے لیے وہ دوسروں سے سوال کر سکتا ہے یا زکوۃ لے سکتاہے۔ فاقہ میں مبتلا ہونے سے مراد یہ ہے کہ سیلاب، آگ، آسمانی آفت یا آندھی وغیرہ کی وجہ سے کسی آدمی کا مال اس طرح تباہ ہو جائے کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑاہونے کے قابل نہ رہے، ایسی صورت میں جائز حد تک حالات درست ہو جانے تک وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1044