🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ فِي أَنَّ صَوْمَ التَّطَوُّعِ لَا يَلْزَمُ بِالشُّرُوعِ فِيهِ
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3897
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ حَتَّى قَعَدَتْ عَنْ يَسَارِهِ، وَجَاءَتْ أُمُّ هَانِئٍ فَقَعَدَتْ عَنْ يَمِينِهِ وَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِشَرَابٍ فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: ( (أَشَيْءٌ تَقْضِينَهُ عَلَيْكِ؟) ) قَالَتْ: لَا، قَالَ: ( (لَا يَضُرُّكِ إِذًا) )
۔ (دوسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آکر دائیں جانب بیٹھ گئیں، اتنے میں ایک لونڈی کوئی مشروب لائی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پیا اور پھر سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا، اس نے (پینے کے بعد) کہا: میرا تو روزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیایہ قضاء کا روزہ تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تجھے نقصان نہیں دے گا (یعنی کوئی حرج نہیں ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27436»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3898
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي) )
۔ (تیسری سند) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن میرے ہاں تشریف لائے، آپ کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پھر مجھے دے دیا، میں نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی عبادت کرنے والا اپنا امیر خود ہوتا ہے، اس لیے اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو افطار کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27448»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27448
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3899
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ، فَفَطَّرَتْنِي فَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک بکری کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا گیا، جبکہ ہم دونوں روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ افطار کرادیا، آخر وہ اپنے (عظیم باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) ہی کی بیٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے عوض ایک ایک روزہ رکھ لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سفيان بن حسين الواسطي ضعيف في الزھري، وقد اختلف علي الزھري في وصله وارساله، وارساله ھو الصواب۔ اخرجه ابوداود: 2457، والترمذي: 735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26535»
وضاحت: فوائد: … اس مسئلہ سے متعلقہ مزید احادیث: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور چند صحابہ کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا لگا دیا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میرا تو روزہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ذَالِکُمْ اَخُوْکُمْ وَتَکَلَّفَ لَکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ لَہٗ: ((اَفْطِرْ،وَصُمْمَکَانَہٗیَوْمًا اِنْ شِئْتَ۔)) یہ تمہارا بھائی ہے اور اس نے تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی فرمایا: ”تو اب روزہ توڑ دے اور اگر تیری چاہت ہو تو اس کی جگہ پر ایک دن روزہ رکھ لینا۔“ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۷۹)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَاْتِیَہَا وَہُوَ صَائِمٌ، فَیَقُوْلُ: ((اَصْبَحَ عِنْدَکُمْ شَیْئٌ تُطْعِمُوْنِیْہِ؟)) فَتَقُوْلُ: لاَ، مَا اَصْبَحَ عِنْدَنَا شَیْئٌ کَذَاکَ، فَیَقُوْلُ: ((إِنِّی صَائْمٌ۔)) ثُمَّ جَاَء َہَا بَعْدَ ذَلِکَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ جاَئَ یَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: اُہْدِیَتْ لَنَا ہَدِیَّۃٌ فَخَبَأْ نَاہَا لَکَ، قَالَ: ((مَا ہِیَ؟)) قَالَتْ: حَیْسٌ، قَالَ: ((قَدْ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔)) فَاَکَلَ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: ”تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ”تو پھر میں روزے دار ہوں۔“پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھا لیا۔ (مسلم: ۱۱۵۴،مسند احمد: ۲۴۷۲۴)
سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھا لیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بڑا تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میرے پاس روزے کی حالت میں تشریف لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حَیْس کھا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، یَا عَائِشَۃُ! اِنَّمَا مَنْزِلَۃُ مَنْ صَامَ فِیْ غَیْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَیْرِ قَضَائِ رَمَضَانَ اَوْ فِیْ التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ اَخْرَجَ صَدَقَۃَ مَالِہٖفَجَادَمِنْھَابِمَاشَائَفَاَمْضَاہُوَبَخِلَمِنْھَابِمَابَقِیَ فَاَمْسَکَہٗ۔)) ”جی ہاں، عائشہ! جس آدمی نے رمضان اور قضائے رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ رکھا ہوا ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال میں سے صدقہ کے لیے (کچھ رقم) نکالے، لیکن پھر اس میں سے جتنی مقدار چاہے صدقہ کر دے اور جتنی مقدار چاہے روک لے۔“
نسائی کی ایک اور روایت میں ہے: فَاَکَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّمَا مِثْلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مِثْلُ الرَّجُلِ یُخْرِجُ مِنْ مَالِہٖالصَّدَقَۃَ فَاِنْ شَائَ اَمْضَاھَا وَاِنْ شَائَ حَبَسَھَا۔)) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا کھایا اور فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے مال سے صدقہ کے لیے کچھ مال نکالتا ہے، لیکن پھر چاہے تو اسے صدقہ کر دے اور چاہے تو روک لے۔“
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی صدقہ کی نیت سے اپنے مال میں سے کچھ مال علیحدہ کرتا ہے، لیکن ابھی تک اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سارے معین مال کا صدقہ کر دے یا سارے کو روک لے، یا کچھ روک لے اور کچھ صدقہ کر دے۔ بالکل اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ روزہ توڑ بھی سکتا ہے اور پورا بھی کر سکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی نیت طلوع فجر کے بعد بھی کسی جا سکتی ہے، لیکنیہ اس صورت میں ہو گا کہ متعلقہ آدمی نے سحری سے لے کر اس وقت تک کھایا پیا نہ ہو۔ اس باب سے ثابت ہوا کہ نفلی روزہ بلا عذر توڑا جا سکتا ہے اور اس کی قضاء بھی لازم نہیں ہے، مستحبّ ہے، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدناعبد اللہ بن مسعود، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبدا للہ بن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ اور امام سفیان ثوری، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ البتہ امام ابو حنیفہیہ کہتے ہیں کہ نفلی روزے کو پورا کرنا ضروری ہے اور بلا عذر اس کو افطار نہیں کر سکتا اور اس نے کسی عذر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا تو اس کی قضائی لازم ہو گی۔ لیکنیہ مسلک مرجوح ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ وَفَضْلِهِ
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3900
عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمِ الْمُحَرَّمَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ) )
۔ نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! آپ مجھے رمضان کے بعد کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ انہوں نے کہا: میں نے کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، ما سوائے ایک آدمی کے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ماہِ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہِ محرم کے روزے رکھو، یہ اللہ کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی ماہ میں ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق الواسطي وجھالة النعمان بن سعد۔ اخرجه الترمذي: 741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1322»
وضاحت: فوائد: … تعظیم کے لیے ماہِ محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔
جیسے بیت اللہ (اللہ کا گھر) کعبہ کے لیے ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے لیے اور روح اللہ (اللہ کی روح) عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بولتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق الواسطي وجھالة النعمان بن سعد۔ اخرجه الترمذي: 741
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3901
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ) ) ، قِيلَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ: ( (شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے کسی بھی وقت میں نماز۔ پھر کسی نے کہا: رمضان کے بعد کونسے روزے افضل ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس مہینے کے، جسے تم محرم کہتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8013»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَفْضَلَ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْمَفْرُوْضَۃِ الصَّلَاۃُ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ، وَاَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ اللّٰہِ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہٗالْمُحَرَّمَ۔)) ”بیشک فرضی نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کے کسی بھی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے اللہ تعالیٰ کے اس ماہ کے روزے ہیں، جس کو تم محرم کہتے ہیں۔“ (معجم کبیر: ۲/ ۱۶۹)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ رمضان کے بعد ماہِ محرم کے روزے افضل ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم کی بہ نسبت ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے کیوں رکھتے تھے؟ اس سوال کا جواب اس درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے کہا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ مِثْلَ مَاتَصُوْمُ فِیْہِ؟ قَالَ: ((أَیُّ شَھْرٍ؟)) قُلْتُ: شَعْبَانَ۔قَالَ: ((شَعْبَانُ بَیْنَ َرَجَبَ وَرَمَضَانَ، یَغْفِلُ النَّاسُ عَنْہُ، تُرْفَعُ فِیْہِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لاَّیُرْفَعَ عَمَلِی إِلاَّ وَأَنَا صَائِمٌ۔)) اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے کسی بھی ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کون سا مہینہ؟“ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے کئی لوگ غافل ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔“ (صحیحہ:۱۸۹۸، نسائی:۱/۳۲۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سلسلے میں شعبان اور ذوالحجہ کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، یعنی اپنی جگہ پر ہر ایک کی فضیلت مسلّم ہے، لیکن مطلق طور پر ذوالحجہ کی فضیلت زیادہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ میں کسی عذر کی بنا پر روزے نہ رکھتے ہوں۔
بنیادی طور پر اس حدیث میں دن کے مقابلہ میں رات کی نفلی نماز کی فضیلت بیان ہو رہی ہے یہ بات الگ ہے کہ رات کے کون سے حصہ میں نفلی نماز پڑھنا زیادہ فضیلت والا عمل ہے۔ وہ احادیث سے ثابت ہے کہ رات کا آخری تہائی حصہ اس حوالہ سے زیادہ اہمیت وفضیلت والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1163
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب
یوم عاشوراء
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: Q3902]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ، سَنَةٍ مَاضِيَةٍ وَسَنَةٍ مُسْتَقْبَلَةٍ، وَيَوْمُ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ) )
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کا کفارہ ہے اور عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22958»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ) )
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: عرفہ کے روزہ کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنائے گا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! عاشوراء کے روزے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے امیدہے کہ وہ اس روزے کو گزشتہ ایک سال کا کفارہ بنائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22997»
وضاحت: فوائد: … یوم عاشورا سے مراد محرم کا دسواں دن ہے، ابتدائے اسلام میں یہ روزہ فرض تھا اور صرف ایک سال یعنی دو سن ہجری کی ابتداء میں اس کی فرضیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، کیونکہ اسی سن کے رمضان میں روزے فرض ہو گئے تھے اور رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورا کا روزہ مستحب قرار دیا گیا تھا، اس کی مزید وضاحت اگلی احادیث میں آرہی ہے۔ عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22997
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3904
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا مِنَ الصِّيَامِ؟) ) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ) ) ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصِّيَامِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہودی لوگوں کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون کو غرق کر دیا اور اسی دن کو نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پر آ کر ٹھہری تھی، اس لیے نوح اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام اور اس دن کے روزے کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الصمد بن حبيب وجھالة ابيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8702»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الصمد بن حبيب وجھالة ابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟) ) قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ) ) ، قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور دیکھا کہ یہودی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: یہ دن کون سا ہے، جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا مبارک دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری بہ نسبت موسی علیہ السلام کا زیادہ حقدار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی صادر فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2004، ومسلم: 1130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2831»
وضاحت: فوائد: … رسالت، دینی بھائی چارے اور ظاہری قرابت کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخالفت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری سال میں اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہے تو (۹) ذوالحجہ کو روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، پھر جب محرم کا مہینہ آیا تو یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں