🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَتَأْكِيدِ صَوْمِهِ قَبْلَ نُزُولِ رَمَضَانَ
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
عَنْ ثُوَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصِيَامِهِ
۔ ثویر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا: یہ یومِ عاشوراء ہے، تم اس دن کا روزہ رکھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 1050، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 76، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16231»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لضعف ثوير بن ابي فاخته۔ اخرجه البزار: 1050
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ، وَقَالَ: هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دس محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، اس دن کو یہودی روزہ رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14718»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2501
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ، أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کو چار چار یا دو دو فرسخ تک بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس آدمی نے کچھ کھا لیا ہو وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے تاحال کچھ نہیں کھایا وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2058»
وضاحت: فوائد: … اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرضیت ِ رمضان سے قبل یوم عاشوراء کے روزے کا خاصا اہتمام کیا تھا، ایک فرسخ تقریبا سات آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11804
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3909
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ( (مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ) )
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن بنو اسلم قبیلے کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: جس نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے اور جو کچھ کھا پی چکا ہے، وہ بھی اب کچھ نہ کھائے پئے اور اس طرح روزہ مکمل کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3909]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1924، 2007، ومسلم: 1135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16621»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1924
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3910
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ النَّصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: ( (أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟) ) فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا، قَالَ: ( (فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا) ) ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُؤْذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ أَنْ يُتِمُّوا يَوْمَهُمْ ذَلِكَ
۔ سیدنا محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یومِ عاشوراء کو ہمارے ہاں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم لوگوں نے آج روزہ رکھا ہے؟ بعض نے کہا: جی ہاں، اور بعض نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال بقیہ دن کا روزہ پورا کرو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اہلِ عَروض کو بھی اطلاع کر دیں کہ وہ بھی اس دن کا روزہ مکمل کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1735، والنسائي: 4/ 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19680»
وضاحت: فوائد: … ”عَروض“ کے تعین کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) اس کا اطلاق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کے پڑوس والے شہروں پر ہوتا ہے اور (۲) مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور یمن کو عَروض کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3911
عَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ وَجَدْتَّهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيَصُمْ آخِرَهُ) )
۔ سیدنا ہند بن اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے قبیلہ بنو اسلم کی طرف بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج یومِ عاشوراء کا روزہ رکھیں، اگر ان میں سے کوئی آدمی کھا پی چکا ہو تو وہ بھی دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3911]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16058»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 545
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ( (فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ) )
۔ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیتے ہوئے فرمایا: اپنی قوم کو آج کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دو۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو پھر آپ کی رائے کیا ہو گی؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ دن کے آخری یعنی بقیہ حصے کا روزہ رکھ لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 869، والبزار: 1048، وابن حبان: 3618، والحاكم: 3/ 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16059»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ، فَقَالَ: ( (مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ) ) ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُّهُمْ قَدْ طَعِمُوا؟ قَالَ: ( (فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھیجا اور فرمایا: اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں۔ انھوں نے کہا: اگر وہ کھانا کھا چکے ہوں تو آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16836»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسما بن حارثہ کو ان کے بیٹے سیدنا ہند کے ساتھ ان کی قوم کی طرف بھیجا ہو اور ہر ایک نے صرف اپنا اپنا تذکرہ کر دیا ہو۔
پہلے ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند بن اسماء کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ نے ہند کے باپ اسماء کو بھیجا تھا۔ فوائد میں اس ظاہری تعارض کی توجیہ پیش کی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16836
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا: ( (هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوا) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ، وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ) )
۔ بعجہ کے باپ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا: آج یومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ رکھو۔ بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف جاؤ اور ان کو کہو کہ جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھ لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه البزار: 1049، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28198»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه البزار: 1049
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَصُومُوا
۔ مزیدہ بن جابر کہتے ہیں: میری والدہ نے بیان کیا ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کوفہ کی مسجد میں تھیں، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم تھے، انھوں نے ایک دن کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس لیے تم اس دن کا روزہ رکھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2642، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19959»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2642
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں