الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَنْ قَالَ إِنَّ عَاشُورَاءَ الْيَوْمُ التَّاسِعُ وَمَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
محرم کی (۹)تاریخ کو یوم عاشوراء قرار دینے والوں اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3926
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنْ صَوْمِهِ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَأَصْبِحْ مِنْهُ صَائِمًا، قُلْتُ: أَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ
۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2135»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1133
حدیث نمبر: 3927
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) إِذَا أَنْتَ أَهَلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، الْحَدِيثَ كَمَا تَقَدَّمَ
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2214»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ نہیں ہے کہ (۹) محرم یوم عاشوراء ہے، وہ درج ذیل حدیث اور اس کی تشریح میں مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محرم کی (۹) اور (۱۰) تاریخوں کا روزہ رکھا جائے۔ امام شوکانی نے کہا: زیادہ مناسب یہی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے اس دن کی طرف سائل کی رہنمائی کی ہے، جس میں روزہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لیےیوم عاشوراء کا تعین نہیں کیا کہ وہ محرم کا دسواں دن ہے، کیونکہ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہیں کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سائل کا مقصود یہ ہے کہ اس دن کا تعین کیا جائے جس کو روزہ رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے (۹) محرم کی بات کی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہنا کہ ”جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہتے تو اسی طرح روزے رکھنے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی حدیث میں اسی چیز کی وضاحت کی تھی۔ (نیل الاوطار: ۴/ ۳۲۶)
درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2214
حدیث نمبر: 3928
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1971»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عزم کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں: (۱) آئند دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو۔ (۲) آئندہ صرف نو محرم کا روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس لیے سلف صالحین کے ہاں بھییہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے، اگرچہ جمہور علماء و فقہاء کی رائے یہی ہے کہ یوم عاشورا دس محرم ہی ہے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یوم عاشورا نو محرم ہے۔ جمہور کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا یہ معنی ہو گاکہ ہم دس محرم کے ساتھ ساتھ نومحرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہفتہ والے دن روزہ رکھنے سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہودیوں کی مشابہت سے بچنا تھا، جیسا کہ شارح ابوداؤد علامہ عظیم آبادی نے کہا، لیکن پھر اس صورت میں اجازت دے دی کہ اگر اس کے ساتھ جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے تو ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور مثال سے اسی مؤقف کی تائیدہوتی ہے: سیدنابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: … صحابہ نے کہا: اے اللہ رسول! بیشک اہل کتاب چمڑے کے موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنْتَعِلُوْا وَتَخَفَّفُوْا وَخَالِفُوْا أَھْلَ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب کی مخالفت کے لیے موزوں کو ترک کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ان کے ساتھ جوتوں کے استعمال کا اضافہ کردیا۔ مخالفت کی صورت یہ ہو گئی کہ وہ صرف موزے پہنتے ہیں اور ہم موزے بھی پہنتے ہیں اور جوتے بھیاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا بھی اہل کتاب کے ساتھ مخالفت کرنے کی ایک صورت ہے۔ واللہ اعلم
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا پہلا معنی ہی راجح ہے، درج ذیل روایات سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی اور عیسائی بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا التَّاسِعَ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جب اگلا سال ہو گا، ہم نو کا روزہ رکھیں گے۔“ لیکن ہوا یوں کہ ابھی تک اگلا سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے۔
معجم کبیر طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ إِلٰی قَابِلٍ صُمْتُ التَّاسِعَ، مَخَافَۃَ أَن یَّفُوْتَنِییَوْمُ عَاشُوْرَائَ)) ”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔“ (صحیحہ:۳۵۰) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الْیَھُوْدَ۔ نو اور دس کو روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۸۷)
ہفتہ کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا اور جوتے اور موزے اکٹھے پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیےیہ تو ٹھیک ہے اور مخالفت کییہ بھی ایک صورت ہے اسی طرح نو اور دس محرم کے اکٹھے روزے اگر آپ سے ثابت ہوتے تو ہم کہتے یہ بھی مخالفت کی ایک شکل ہے۔ یہ چونکہ ثابت نہیں اس لیے اس جگہ اصل مخالفت یہ ہے کہ جس دن (دس محرم) کا یہودی روزہ رکھتے ہیں، اس کا روزہ نہ رکھا جائے اور مسلم کی حدیث کا مطلب یہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی مطلب سمجھا ہے، اس لیے وہ یہ عاشورہ کے بارے سوال کرنے والے کو بتا رہے ہیں کہ نو محرم صبح کوتمہارا روزہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر دس کا روزہ رکھیں،یہود کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر نو کا روزہ بھی نہ رکھا جائے تو یوم عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جانے کے خوف سے میں نو کا روزہ رکھوں گا تاکہ مخالفت بھی ہو جائے اور روزہ بھی رکھ لیا جائے۔(عبداللہ رفیق)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا پہلا معنی ہی راجح ہے، درج ذیل روایات سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی اور عیسائی بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا التَّاسِعَ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جب اگلا سال ہو گا، ہم نو کا روزہ رکھیں گے۔“ لیکن ہوا یوں کہ ابھی تک اگلا سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے۔
معجم کبیر طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ إِلٰی قَابِلٍ صُمْتُ التَّاسِعَ، مَخَافَۃَ أَن یَّفُوْتَنِییَوْمُ عَاشُوْرَائَ)) ”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔“ (صحیحہ:۳۵۰) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الْیَھُوْدَ۔ نو اور دس کو روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۸۷)
ہفتہ کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا اور جوتے اور موزے اکٹھے پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیےیہ تو ٹھیک ہے اور مخالفت کییہ بھی ایک صورت ہے اسی طرح نو اور دس محرم کے اکٹھے روزے اگر آپ سے ثابت ہوتے تو ہم کہتے یہ بھی مخالفت کی ایک شکل ہے۔ یہ چونکہ ثابت نہیں اس لیے اس جگہ اصل مخالفت یہ ہے کہ جس دن (دس محرم) کا یہودی روزہ رکھتے ہیں، اس کا روزہ نہ رکھا جائے اور مسلم کی حدیث کا مطلب یہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی مطلب سمجھا ہے، اس لیے وہ یہ عاشورہ کے بارے سوال کرنے والے کو بتا رہے ہیں کہ نو محرم صبح کوتمہارا روزہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر دس کا روزہ رکھیں،یہود کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر نو کا روزہ بھی نہ رکھا جائے تو یوم عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جانے کے خوف سے میں نو کا روزہ رکھوں گا تاکہ مخالفت بھی ہو جائے اور روزہ بھی رکھ لیا جائے۔(عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1134
حدیث نمبر: 3929
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي، سييء الحفظ وداود بن علي الھاشمي، قال الامام الذھبي: وليس حديثه بحجة، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ اخرجه ابن خزيمة: 2095، والبيھقي: 4/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2154»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درست معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلے ایک روزہ رکھ کر مشابہت کو ختم کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بعدمیں بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے جمعہ کے دن کے روزے کا مسئلہ ہے۔
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
58. بَابُ الصَّوْمِ فِي رَجَبٍ وَالْأَشْهُرِ الْحُرُمِ
رجب اور حرمت والے باقی مہینوں کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3930
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ
۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1971، ومسلم: 1157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3009»
وضاحت: فوائد: … سعید بن جبیریہ کہنا چاہتے ہیں کہ نہ تو رجب میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا اور نہ اس اعتبار سے اس کی کوئی فضیلت اور خصوصیت بیان کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کا معین اور مقرر اوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی روزے رکھ لیتے اور بسا اوقات یہ سلسلہ ترک کر دیتے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1971
حدیث نمبر: 3931
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا (وَفِي لَفْظٍ مُتَتَابِعًا) مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات تو اس قدر کثرت سے روزے رکھتے کہ ہم یہ کہنے لگ جاتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا طویل عرصہ روزہ نہ رکھتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1998»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1998
حدیث نمبر: 3932
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُجِيبَةُ، عَجُوزٌ مِنْ بَاهِلَةَ عَنْ أَبِيهَا، أَوْ عَمِّهَا، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ مَرَّةً، فَقَالَ: ( (مَنْ أَنْتَ؟) ) قَالَ: أَوَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: ( (وَمَنْ أَنْتَ) ) قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ أَوَّلٍ، قَالَ: ( (فَإِنَّكَ أَتَيْتَنِي وَجِسْمُكَ وَلَوْنُكَ وَهَيْئَتُكَ حَسَنَةٌ فَمَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى) ) فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَفْطَرْتُ بَعْدَكَ إِلَّا لَيْلًا، قَالَ: ( (مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، رَمَضَانَ) ) ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، فَقَالَ: ( (فَصُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ) ) ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ( (فَيَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ) ) ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ( (وَمَا تَبْتَغِي عَنْ شَهْرِ الصَّبْرِ وَيَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ( (فَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ) ) ، قَالَ: وَالْحَمَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ فَمَا كَادَ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَزِيدَنِي، قَالَ: ( (فَمِنَ الْحُرُمِ وَأَفْطِرْ) )
۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیں یہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: ضعيف (سنن ابي داود: 2428)۔ اخرجه ابوداود: 2428، وابن ماجه: 1741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20589»
وضاحت: فوائد: … حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم۔ اس باب میں ان کے روزے خصوصیت کے ساتھ ثابت نہیں ہوئے، البتہ محرم کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور (۹) ذوالحجہ کی فضیلت پر مشتمل احادیث آگے آئیں گی۔ بنا ساعاتی نے کہا: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ رجب میں روزے رکھنا دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح مستحب ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: ضعيف (سنن ابي داود: 2428)۔ اخرجه ابوداود: 2428
59. بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِكْثَارِهِ الصَّوْمَ فِي شَعْبَانَ وَفَضْلِ الصِّيَامِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 3933
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا اسْتَكْمَلَ شَهْرًا قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر اس قدر طویل عرصہ تک روزہ چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفلی روزے نہیں رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کی بہ نسبت کسی دوسرے مہینے میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3933]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1969،ومسلم: 1156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25710»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1969
حدیث نمبر: 3934
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِهِ) وَزَادَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كَلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كَلَّهُ
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں شاذو نادر ہی کسی دن کا روزہ چھوڑتے تھے، بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25614»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25614
حدیث نمبر: 3935
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سال کے کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25049»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں ”کُلٌّ“ اور اس کے معانی پر دلالت کرنے والے دوسرے الفاظ مجازی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، ان سے مراد اکثر دنوں کے روزے رکھنا ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25049