الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِكْثَارِهِ الصَّوْمَ فِي شَعْبَانَ وَفَضْلِ الصِّيَامِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 3936
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہ چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2920، 3405، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25420»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2920
حدیث نمبر: 3937
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نفلی روزے رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ شعبان کا مہینہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں روزے رکھ کر اسے ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2431، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26064»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2431
حدیث نمبر: 3938
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَيَتَحَرَّى الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
۔ خالد بن معدان کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 745، والنسائي: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25013»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الترمذي: 745
حدیث نمبر: 3939
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان اور رمضان کے مہینوں میں روزے رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1648، والنسائي: 4/200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27052»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1648
حدیث نمبر: 3940
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ہوں، ماسوائے اس صورت کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 736، والنسائي: 4/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27097»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 736
حدیث نمبر: 3941
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ، وَكَانَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغیر ناغہ کیے اس انداز میں نفلی روزے رکھنا شروع کر دیتے، کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کوئی روزہ ترک نہ کرنے کا ہے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس تسلسل کے ساتھ) روزے چھوڑنا شروع کر دیتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی روزہ نہیں رکھنا۔ ماہِ شعبان کے روزے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عثمان بن رشيد ضعّفه يحيي بن معين۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13436»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3942
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ( (ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ) )
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه النسائي: 4/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں شعبان میں روزے رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع بھی کیا ہے، جیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے معلوم ہو گا۔ جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه النسائي: 4/ 201
60. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّوْمِ فِي النِّصْفِ الثَّانِي مِنْ شَعْبَانَ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3943
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ، فَامْسَكُوا عَنِ الصِّيَامِ حَتَّى يَكُونَ رَمَضَانُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کا مہینہ آدھا گزر جائے تو روزہ رکھنے سے رک جایا کرو، یہاں تک کہ ماہِ رمضان آ جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2337، وابن ماجه: 6151، والترمذي: 738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9705»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان کے اکثر ایام میں روزے رکھتے تھے، جبکہ اس حدیث میں اس مہینے کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع کیا جا رہا ہے، جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2337
حدیث نمبر: 3944
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: ( (هَلْ صُمْتَ سَرَارَ هَذَا الشَّهْرِ (وَفِي لَفْظٍ: هَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟) ) يَعْنِي شَعْبَانَ، قَالَ: لَا، قَالَ: ( (فَإِذَا أَفْطَرْتَ أَوْ أَفْطَرَ النَّاسُ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ) )
۔ سیدنا عمران بن حصین سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سےیا کسی اور سے پوچھا: کیا تم نے ماہِ شعبان کے وسط کے روزے رکھے تھے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ (رمضان کے روزوں سے) فارغ ہو جاؤ تو اس وقت دو دن کے روزے رکھ لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20123»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ”سَرَارَ“ کے معانی میں اختلاف ہے، ایک معنی ترجمہ میں بیان کیا گیاہے کہ اس سے مراد مہینے کا وسط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ”سَرَر“، ”سرۃ“ کی جمع ہے، اور ”سرۃ الشیئ“ چیز کے وسط کو ہی کہتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے وسط یعنی ایام بیض کے روزوں کی فضیلت بیان کی گئی، تیسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے آخری ایام میں روزوں کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ہے، بلکہ شعبان کے آخر میں تو روزے رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔
دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 821
61. بَابُ صَوْمِ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ غَيْرِ مُعَيَّنَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3945
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوا الطَّعَامَ وَكَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا جَاءَ، فَقَالُوا: هَلُمَّ فَكُلْ فَأَكَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّسُولِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ) ) ، فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ، صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ
۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه الطيالسي: 2393، والبيھقي: 4/293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10673»
وضاحت: فوائد: … چونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے، اس طرح ایک ماہ میں رکھے گئے تین روزوں کا ثواب ایک ماہ کے روزوں کی صورت میں ملے گا، اگر کوئی آدمی ایک ماہ میں تین روزوں کی عادت سے زندگی گزارتا ہے، تو اس کو ساری زندگی کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ یہ تین روزے مہینے میں کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے لیے سوموار اور جمعرات یا ایام بیضیا دوسرے مسنون معین دنوں کو تلاش کرکے تین روزے پورے کر لیے جائیں تو فضیلت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسا کہ اگلے باب کی بعض احادیث سے پتہ چلے گا۔ لیکن جن دنوں کے روزوں سے منع کیا گیا، وہ پابندی برقرار رہے گی،مثلا صرف جمعہ کا روزہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه الطيالسي: 2393