الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ صَوْمِ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ غَيْرِ مُعَيَّنَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3946
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِينَا أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ، وَيُذْهِبُ مَغَلَّةَ الصَّدْرِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّةُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ( (رِجْسُ الشَّيْطَانِ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21691»
وضاحت: فوائد: … اجر و ثواب کے علاوہ نیک عمل کی وجہ سے عامل کی روح اور جسم میں بھی برکت آتی ہے اور آدمی کئی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔روزے دار کو سوچنا چاہیے کہ جہاں وہ بڑا صبر کر کے روزے جیسا عظیم عمل کرتا ہے، وہاں اسے ایسی نیکیوں کو سر انجام دینے کے لیے اور ایسی برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ہمت کرنی چاہیے کہ جن کے لیے روزے سے کم صبر درکار ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 482
حدیث نمبر: 3947
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ) )
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1074، والدارمي: 2/ 19، وابن حبان: 3653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15679»
وضاحت: فوائد: … سال بھر کا افطار اس طرح ہے کہ ایک ماہ میں ستائیس دنوں کو روزہ نہیں رکھا جاتا اور سال بھر کے روزے اس طرح کہ ثواب پورے سال کے روزوں کا مل جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1074
حدیث نمبر: 3948
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صِيَامٌ حَسَنٌ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ) )
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16388»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 219
حدیث نمبر: 3949
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ماجه: 1708، والترمذي: 762، والنسائي: 4/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21626»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ماجه: 1708
حدیث نمبر: 3950
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1979، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6766»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1979
حدیث نمبر: 3951
عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ( (صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي أَقْوَى، إِنِّي أَقْوَى، صُمْ يَوْمَيْنِ كُلِّ شَهْرٍ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (زِدْنِي، زِدْنِي، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ) )
۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19261»
وضاحت: فوائد: … آخر ِ حدیث میں آپ کا دو دفعہ کہنا ”مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں۔“ یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی پر طنز کر رہے ہیں اور اس کو ڈانٹ رہے ہیں۔
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 225
حدیث نمبر: 3952
عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ كَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ
۔ سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3952]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25640»
وضاحت: فوائد: … ہم اس باب کی پہلی حدیث کے بعد اس باب کی تمام احادیث کا خلاصہ پیش کر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1160
62. بَابُ صَوْمِ أَيَّامِ الْبِيضِ
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3953
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأُدَمُهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ؟) ) قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْأَيَّامَ الْغُرَّ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش بھون کر لایا اور اس کے ساتھ رائی اور کشمش کی چٹنی اور سالن بھی تھا، اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود تو نہ کھایا، البتہ اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کھائیں، بدّو نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا: میں ہر ماہ تین دن روزے رکھتا ہوں، (ایک روزہ آج رکھا ہوا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو ایامِ بیض کے روزے رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3953]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8415»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 222
حدیث نمبر: 3954
عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِطَعَامٍ فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلًا، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيْنَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ، فَلَمَّا جَاءَهُ عَمَّارٌ، قَالَ: أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَقَالَ: ( (كُلُوهَا) ) ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ( (وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ؟) ) قَالَ: أَوَّلَ الشَّهْرِ وَآخِرَهُ، قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ) )
۔ ابن حو تکیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، انھوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم کن دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا،جس کے مطابق ایک بدّو آپ کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہواتھا، البتہ تم سیدناعمار رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس روز موجود تھے، جس دن ایک بدّو ایک خرگوش لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس بدّو نے کہا تھا: میں نے دیکھا کہ اسے خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو کھالو۔ اس بدّو نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مہینے کے شروع اور آخر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو چاند کی۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کا رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3954]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 4823، وعبد الرزاق: 7874، وابن خزيمة: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 210»
وضاحت: فوائد: … شرعی قواعد کے مطابق خرگوش حلال ہے، بدّو یہ کہنا چاہتا تھا کہ جیسے خاتون کو حیض کا خون آتا ہے، اس طرح اِس کو بھی خون آتا ہے، لیکن اس سے اس جانور کے حلال ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده۔ اخرجه الطيالسي: 44
حدیث نمبر: 3955
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَيَّامِ الْبِيضِ فَهُوَ صَوْمُ الشَّهْرِ
۔ سیدنا منہال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایامِ بِیض کے روزے رکھنے کا حکم دیا،یہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3955]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2449، وابن ماجه: 1707، والنسائي: 4/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17654»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2449