🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ شَوَّالٍ وَالْأَرْبِعَاءِ وَالْخَمِيسِ وَالْجُمُعَةِ
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3966
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَرِيفٌ مِنْ عُرَفَاءِ قُرَيْشٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ فَلْقٍ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالًا وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ وَالْجُمُعَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3966]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف، فيه راو لم يسم، وھو شيخ عكرمة بن خالد۔ اخرجه البھيقي في ’’الشعب‘‘: 3870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15513»
وضاحت: فوائد: … ”فَلْقِ فِیْ“ میں ”فَلْق“ کے معانی پھٹن اور شگاف کے اور ”فِیْ“ کے معانی منہ کے ہیں، صحابی کا مقصود یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔

الحكم على الحديث:
سناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3967
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: حَدَّثَنِي عَرِيفُ مِنْ عُرْفَاءِ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْ فَلْقٍ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالًا وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
۔ (دوسری سند) ایک قریشی سردار کے باپ نے بیان کیا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے یہ حدیث سنی: جس نے ماہِ رمضان اور ماہِ شوال اور پھر بدھ اورجمعرات کے روزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3967]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16834»
وضاحت: فوائد: … شوال کے روزوں کی فضیلت پچھلے باب میں گزر چکی ہے، جمعرات کے روزے کے مستحبّ ہونے کا بیان دوسرے نمبر پر اگلے باب میں آ رہا ہے، بدھ کے روزے کی خاص فضیلت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، بہرحال اس دن کو روزہ رکھا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16834
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3968
عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ (زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ: ( (إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے روزے والے دوسرے دنوں کی بہ نسبت ہفتہ اور اتوار کا بکثرت روزہ رکھتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ مشرکوں یعنی یہود و نصاریٰ کی عیدوں کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2776، وابن حبان: 3646، وابن خزيمة: 2167،، والحاكم: 1/ 436، والبيھقي: 4/ 303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27286»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی سختی کے ساتھ صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، پہلے یہ احادیث گزر چکی ہیں، اس حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِن دو دنوں کا اکٹھا روزہ رکھتے ہوں گے، حدیث نمبر (۳۸۶۹) کے باب میں اس موضوع سے متعلقہ احادیث گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2776
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3969
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ، حَتَّى يُقَالَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ حَتَّى لَا يَكَادَ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ، وَإِلَّا صَامَهُمَا، وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ، إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ: ( (أَيُّ يَوْمَيْنِ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ: ( (ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ( (ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ) )
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت اور تسلسل کے ساتھ اس قدر روزے رکھتے کہ کہا جاتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی روزے کا ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناغے شروع کرتے تو اس قدر کثرت سے کرتے کہ ایسے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے ہفتہ کے دو دنوں کے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل روزوں میں ان کے روزے رکھ چکے ہوتے تو ٹھیک، وگرنہ افطاری والے دنوں میں ان کا روزہ رکھ لیتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان کے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات آپ اس انداز میں لگاتار روزے شروع کر دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر آپ یوں روزے ترک کرنا شروع کر تے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے دو دنوں کے کہ اگر وہ آپ کے روزے میں داخل ہو چکے ہوں تو ٹھیک، وگرنہ صرف ان کے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: کونسے دو دن؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات کے دن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں میں لوگوں کے اعمال جہاں کے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، لوگ اس سے غافل ہیں، حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال ربّ العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں اس وقت روزے کی حالت میں ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3969]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود بذكر يوم الاثنين والخميس فقط: 2436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود بذكر يوم الاثنين والخميس فقط: 2436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3970
عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى وَادِي الْقُرَى، يَطْلُبُ مَالًا لَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، قَدْ رَقَقْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: ( (إِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ) )
۔ مولائے اسامہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کے روزے کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3970]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مولي قدامة، وجھالة مولي اسامة، لٰكن المرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده۔ اخرجه ابوداود: 2436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22087»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة مولي قدامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3971
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: ( (إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ أَوْ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ، فَيَقُولُ: أَخِّرْهُمَا) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار اور جمعرات کو کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسانوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان یا ہر مومن کو بخش دیتا ہے، ما سوائے ان دو آدمیوں کے کہ جن کے درمیان قطع تعلقی ہوتی ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ان کے معاملے کو مؤخر کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8343»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی کتنی کرم نوازی ہے کہ وہ بن مانگے بخش رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو ان کی قبیح صفات کی وجہ سے نہیں بخشا جاتا، ان کو فکر کرنی چاہیے، جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قطع رحمی، دشمنی اور عداوت جیسے مذموم امور مسلمانوں میں عام ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3972
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَيَتَحَرَّى الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ
۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان کے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ سوموار اورجمعرات کے روزے رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3972]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 203، والترمذي: 745، وابن ماجه: 1649، 1739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25013»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَیَغْفَرُلَہٗ، وَمِنْ تَائِبٍ فَیُتَابُ عَلَیْہِ، وَیُرَدُّ اَھْلُ الضَّغَائِنِ بِضَغَائِنِھِمْ حَتّٰییَتُوْبُوْا۔)) ”سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس بخشش طلب کرنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کی جاتی ہے، البتہ کینہ والوں کو ان کے کینہ سمیت اس وقت تک ردّ کر دیا جاتا ہے، جب تک وہ توبہ نہیں کر لیتے۔“ (طبرانی وقال المنذری: رواتہ ثقات)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کے نامۂ اعمال میں استغفار اور توبہ کا وجود بھی ہونا چاہیے، تاکہ اسے بخش دیا جائے۔ ان احادیث سے سوموار اور جمعرات کے روزوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، حدیث نمبر (۳۸۸۶) کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کو روزہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے: ”ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیْہِ، وَاُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ۔“ ”یہ ایسا دن ہے، جس میں میں پیدا ہوا اور اس میں مجھ پر قرآن مجید اتارا گیا۔“

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 203
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ صِيَامِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3973
عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا) )
۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الفرج بن فضالة ضعيف، وابوھرم مجھول، وصدقة الدمشقي لايعرف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2876»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3974
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1131، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6491»
وضاحت: فوائد: … داود علیہ السلام ایک تہائی رات قیام کرتے تھے، اگر چھ گھنٹے کی رات ہو تو وہ تین گھنٹے سوتے تھے، دو گھنٹے قیام کرتے تھے اور پھر ایک گھنٹہ سو جاتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1131
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3975
عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَعَمْ، قَالَ: ( (فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ) ) ، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ( (فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ) ) ، قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: ( (صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ) ) ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ (عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ) قَالَ: ( (كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! داود علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1975، 5199، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6867»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں