الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. بَابُ وَقْتِ الدُّخُولِ فِي الْمُعْتَكَفِ وَاسْتِحْبَابِ قَضَاءِ الِاعْتِكَافِ أَوْقَاتٍ مَنْ اعْتَادَهُ
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3996
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: ( (آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟) ) فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو نمازِ فجر پڑھنے کے بعد جائے اعتکاف میں داخل ہوتے، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا ارادہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر ایک خیمہ نصب کر دیا گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا،پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے لیے بھی خیمہ نصب کر دیا گیا، جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ لگانے کا حکم دیا، پس ان کے لیے بھی خیمہ لگا دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حال دیکھا تو فرمایا: کیا تم نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا اور (اس کی قضائی دیتے ہوئے) شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2045، ومسلم: 1173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26422»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ خطرہ محسوس ہوا کہ امہات المؤمنین کے اعتکاف کی بنیاد فخر اور مقابلہ بازی ہے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرے سے اعتکاف ہی ترک کر دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی مصلحت کے لیے افضل کام کو بھی چھوڑا جا سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اعتکاف شروع کردینے سے یا اس کی نیت کر لینے سے واجب نہیں ہو جاتا۔ آخری عشرے کا آغازبیسویں روزے کی شام کو ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اعتکاف کرنے والے یہ روزہ افطار کرنے سے پہلے یعنی اکیسویںرات شروع ہونے سے پہلے مسجد میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن اس حدیث کے ابتدائی حصے سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہوتے تھے، اس اشکال کے درج ذیل مختلف جوابات دیئے گئے ہیں:
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری اکیسویں رات کو اپنے خیمے سے باہر مسجد میں قیام کرتے رہے، پھر نمازِ فجر پڑھ کر خیمے میں داخل ہوئے، یہی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
(۲)اعتکاف کا آغاز ہی نمازِ فجر سے ہوتا ہے، یہ امام اوزاعی اور امام ثوری وغیرہ کا خیال ہے۔
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری اکیسویں رات کو اپنے خیمے سے باہر مسجد میں قیام کرتے رہے، پھر نمازِ فجر پڑھ کر خیمے میں داخل ہوئے، یہی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
(۲)اعتکاف کا آغاز ہی نمازِ فجر سے ہوتا ہے، یہ امام اوزاعی اور امام ثوری وغیرہ کا خیال ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2045
حدیث نمبر: 3997
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ سَنَةً فَلَمْ يَعْتَكِفْ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرَيْنِ يَوْمًا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفر کرنا پڑ گیا، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف نہ کر سکے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے سال کو بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3997]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2463، وابن ماجه: 1770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21600»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2463
حدیث نمبر: 3998
عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُقِيمًا اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَإِذَا سَافَرَ اعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرَيْنَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقیم ہوتے تو ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے، لیکن اگر اس دوران سفر پر چلے جاتے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه الترمذي: 803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12040»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف رہ جائے تو اگلے رمضان میںیا اس سے پہلے کسی اور مہینے میں اس کی قضائی دی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه الترمذي: 803
حدیث نمبر: 3999
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، فَمَاتَ حِينَ مَاتَ يَعْتَكِفُ عِشْرَيْنِ يَوْمًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری اور درمیانی دو عشروں کا اعتکاف کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیس دنوں کا اعتکاف کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2044، 4998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9201»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بیس دنوں کے اعتکاف کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر کے آخری حصے میں زیادہ خیر و بھلائی جمع کرنے کے لیے اعتکاف کی مقدار میں اضافہ کیا۔
(۲)ممکن ہے کہ اس باب کی دوسرییا تیسری حدیث کے مطابق دی گئی قضائی ان ہی دنوں پیش آئی ہو۔
(۳) ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کیا کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات والے سال میں یہ دور دو دفعہ کیا تھا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس روز کا اعتکاف کیا ہو۔ جو معنی بھی کیا جائے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تسلیم شدہ ہے کہ اعتکاف کی قضائی دینا بھی درست ہے اور دس دنوں سے زیادہ اعتکاف کرنا بھی درست ہے۔
(۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر کے آخری حصے میں زیادہ خیر و بھلائی جمع کرنے کے لیے اعتکاف کی مقدار میں اضافہ کیا۔
(۲)ممکن ہے کہ اس باب کی دوسرییا تیسری حدیث کے مطابق دی گئی قضائی ان ہی دنوں پیش آئی ہو۔
(۳) ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کیا کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات والے سال میں یہ دور دو دفعہ کیا تھا، ممکن ہے کہ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس روز کا اعتکاف کیا ہو۔ جو معنی بھی کیا جائے، یہ مسئلہ اپنی جگہ پر تسلیم شدہ ہے کہ اعتکاف کی قضائی دینا بھی درست ہے اور دس دنوں سے زیادہ اعتکاف کرنا بھی درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2044
74. بَابُ مَا يَجُوزُ فِعْلُهُ لِلْمُعْتَكِفِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
حدیث نمبر: 4000
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں اعتکاف کرتے تواپنا سر مبارک میری طرف جھکاتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ میں ان دنوں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4000]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2028، ومسلم: 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24742»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2028
حدیث نمبر: 4001
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفَ فَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے میری طرف اپنا سر مبارک نکالتے، پھر میں اس کو دھوتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4001]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24542»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ حائضہ خاتون کا جسم پاک ہوتا ہے، البتہ حیض کا خون ناپاک ہوتا ہے، اس لیےیہ خون کپڑے اور جسم کے جس حصے پر لگ جائے گا، وہ بھی ناپاک ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24542
حدیث نمبر: 4002
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ، قُلْتُ: فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ عَتَبَةَ الْبَابِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانی ضرورت کے علاوہ گھر میں نہیں آتے تھے، اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک دھوتی تو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان دروازے کی دہلیز ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4002]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 295، 2028، 5925، ومسلم: 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26511»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 295
حدیث نمبر: 4003
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) :) أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ إِلَّا إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف اپنا سر کرتے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے اور انسانی ضرورت (یعنی بول و براز)کے علاوہ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے، الّا یہ کہ وضو کرنے کا ارادہ ہوتا تو آ جاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4003]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26631»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26631
حدیث نمبر: 4004
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزَّبِيرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَإِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، قَالَ يُونُسُ: إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں اعتکاف کے دوران بوجۂ ضرورت گھر جاتی اور وہاں کوئی مریض ہوتا تو میں چلتے چلتے ہی اس کا حال دریافت کر لیتی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر میری طرف کرتے اور میں کنگھی کر دیا کرتی اور ایسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف انسانی ضرورت کی خاطر گھر تشریف لاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2029، ومسلم: 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25026»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2029
حدیث نمبر: 4005
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِيَ يَقْلِبُنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ) ) ، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ( (إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا، أَوْ قَالَ: شَيْئًا) )
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کے لیے آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں، پھر جب میں اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے واپس پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے،ان کی رہائش گاہ اس مقام میں تھی، جو بعد میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا گھر بن گیا تھا، اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی سے گزرنے لگے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ (اور پہلے والی چال ہی چلو)،یہ خاتون میری اہلیہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، (بڑا تعجب ہے) اے اللہ کے رسول! (اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3281، ومسلم: 2175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27400»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ایک انتہائی اہم بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ بندے کو تہمت گاہوں سے بچنا چاہیے، دیکھیںنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ جو خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہے اور ساتھ ساتھ اس کی وجہ بھی بیان کر دی کہ ہو سکتا ہے کہ شیطان لوگوں کے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے اور جس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے ”لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی“ کا مصداق بننا پڑے۔
ان احادیث سے معتکف کے لیے درج ذیل احکام ثابت ہوتے ہیں:
اعتکاف کے دوران سر کو دھونا اور کنگھی کرنا جائز ہے، یہ خدمت بیوی سے بھی لی جا سکتی ہے، بول و براز کے لیے مسجد سے نکلا جائے گا، آخری حدیث، حدیث نمبر (۳۹۹۲) اور دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر خیر والی بات کی جا سکتی ہے، اتفاقاً کسی مریض کا حال پوچھ لینا اور تہمت سے بچنے کے لیے بات کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، میاں بیوی بھی خیر و بھلائی والی باتیں کر سکتے ہیں، ہر اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلا جا سکتا ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا: جمعہ پڑھنے کے لیے جانا، قے اور خون وغیرہ آ جانا، ضروری دوا لینا، اگر کھانے پینے کی ضروری چیزیں لانے کی صورت میں تعاون کرنے والا کوئی آدمی نہ ہو تو اس مقصد کے لیے مسجد سے نکلنا، احتلام ہو جانے کی صورت میں غسل کے لیے جانا۔ اگر آسانی کے ساتھ معالج کا مسجد میں آنا ممکن ہو تو یہی صورت اختیار کی جائے۔ معتکف کا سپیشل تیمار داری کے لیےیا جنازہ پڑھنے کے لیے جانا اس سے متعلقہ ضروریات میں سے نہیں ہے، اگر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جائے یا اتفاقا کسی مریض سے ملاقات ہو جائے تو یہ نماز بھی پڑھنی چاہیے اور رمریض کا حال بھی پوچھ لینا چاہیے۔ مزید اگر کوئی ضرورت پڑے تو معتکف حضرات کو اہل علم سے رابطہ کرنا چاہیے۔
عصرِ حاضر میں معتکف لوگوں میں پانچ ایسی بڑی مفسدیں پائی جا رہی ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اعتکاف کی روح اور غر ض و غایت سے مکمل طور پر محروم نظر آتے ہیں:
(۱) جائے اعتکاف میں ٹھہرنے کا اہتمام نہ کرنا
(۲) ایک ایک خیمے میں ایک سے زائد لوگوں کا گھس جانا
(۳) خوب باتیں کرنا، جن کی وجہ سے مسجد کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے اور دوسرے نمازی لوگ بھی بری طرح متأثر ہوتے ہیں۔
(۴) اعتکاف کے اختتام پر پھولوں کے ہار ڈالنا، مبارکباد، ملاقات اور استقبال کے لمبے چوڑے سلسلے قائم کرنا۔
(۵)غسل، مسواک، ٹوتھ برش، وضو اور برتن وغیرہ دھونے کے بہانے کافی سارا وقت مسجد کی حدود سے باہر صرف کرنا۔
اعتکاف کے بارے میں ایک اور حدیث:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سنت یہ ہے کہ معتکف مریض کی تیمارداری نہ کرے، جنازے کے لیے نہ جائے، بیوی کو نہ چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور صرف اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، اور اعتکاف صرف روزے کے ساتھ ہوتا ہے اور صرف جامع مسجد میں ہوتا ہے۔(ابوداود: ۲۴۷۳، لیکنیہ روایت امام زہری کے مدلس ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔)
ان احادیث سے معتکف کے لیے درج ذیل احکام ثابت ہوتے ہیں:
اعتکاف کے دوران سر کو دھونا اور کنگھی کرنا جائز ہے، یہ خدمت بیوی سے بھی لی جا سکتی ہے، بول و براز کے لیے مسجد سے نکلا جائے گا، آخری حدیث، حدیث نمبر (۳۹۹۲) اور دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر خیر والی بات کی جا سکتی ہے، اتفاقاً کسی مریض کا حال پوچھ لینا اور تہمت سے بچنے کے لیے بات کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے، میاں بیوی بھی خیر و بھلائی والی باتیں کر سکتے ہیں، ہر اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلا جا سکتا ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا: جمعہ پڑھنے کے لیے جانا، قے اور خون وغیرہ آ جانا، ضروری دوا لینا، اگر کھانے پینے کی ضروری چیزیں لانے کی صورت میں تعاون کرنے والا کوئی آدمی نہ ہو تو اس مقصد کے لیے مسجد سے نکلنا، احتلام ہو جانے کی صورت میں غسل کے لیے جانا۔ اگر آسانی کے ساتھ معالج کا مسجد میں آنا ممکن ہو تو یہی صورت اختیار کی جائے۔ معتکف کا سپیشل تیمار داری کے لیےیا جنازہ پڑھنے کے لیے جانا اس سے متعلقہ ضروریات میں سے نہیں ہے، اگر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جائے یا اتفاقا کسی مریض سے ملاقات ہو جائے تو یہ نماز بھی پڑھنی چاہیے اور رمریض کا حال بھی پوچھ لینا چاہیے۔ مزید اگر کوئی ضرورت پڑے تو معتکف حضرات کو اہل علم سے رابطہ کرنا چاہیے۔
عصرِ حاضر میں معتکف لوگوں میں پانچ ایسی بڑی مفسدیں پائی جا رہی ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اعتکاف کی روح اور غر ض و غایت سے مکمل طور پر محروم نظر آتے ہیں:
(۱) جائے اعتکاف میں ٹھہرنے کا اہتمام نہ کرنا
(۲) ایک ایک خیمے میں ایک سے زائد لوگوں کا گھس جانا
(۳) خوب باتیں کرنا، جن کی وجہ سے مسجد کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے اور دوسرے نمازی لوگ بھی بری طرح متأثر ہوتے ہیں۔
(۴) اعتکاف کے اختتام پر پھولوں کے ہار ڈالنا، مبارکباد، ملاقات اور استقبال کے لمبے چوڑے سلسلے قائم کرنا۔
(۵)غسل، مسواک، ٹوتھ برش، وضو اور برتن وغیرہ دھونے کے بہانے کافی سارا وقت مسجد کی حدود سے باہر صرف کرنا۔
اعتکاف کے بارے میں ایک اور حدیث:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سنت یہ ہے کہ معتکف مریض کی تیمارداری نہ کرے، جنازے کے لیے نہ جائے، بیوی کو نہ چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور صرف اس ضرورت کے لیے مسجد سے نکلے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، اور اعتکاف صرف روزے کے ساتھ ہوتا ہے اور صرف جامع مسجد میں ہوتا ہے۔(ابوداود: ۲۴۷۳، لیکنیہ روایت امام زہری کے مدلس ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔)
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3281