الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4479
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا، جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیزروشن ہوگئی،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل پڑے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4479]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه الترمذي: 895، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3020»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4480
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ وَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
۔ عمروبن میمون کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھائی اور اس کے بعدانہوں نے وقوف کیااور کہا: مشرکین طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ طلوع سے قبل ہی وہاں سے چل پڑے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4480]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 84 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 84»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1684
حدیث نمبر: 4481
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرْ، يَعْنِي فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مشرکین اس وقت تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک سورج ثبیر پہاڑ سے طلوع نہ ہوجاتا تھا۔ عبدالرزاق نے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے: اے ثبیر! سورج کو طلوع کر کے زمین کو روشنی کر تاکہ ہم منیٰ میں جاکر قربانیاں کریں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4481]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 275»
وضاحت: فوائد: … ثبیر معروف پہاڑ ہے، بلکہ مکہ مکرمہ کا سب سے بڑا پہاڑ ہے، ہذیل قبیلے کے ثبیر نامی آدمی کو اس پہاڑ میں دفن کیا گیا تھا، اس وجہ سے اس کا نام ثبیر پڑ گیا۔مِنی کی طرف جاتے ہوئے بائیں طرف یہ پہاڑ پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 275
حدیث نمبر: 4482
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ: أَعْرَابِيٌّ هَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا؟ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: ( (لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ) )
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو تلبیہ پکارا، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا گیا: کیایہ بدّو ہے (کہ اب تلبیہ کہہ رہا ہے)؟ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہوگئے ہیں؟ جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ‘میں نے اس کو اس مقام پر لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4482]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3549»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۂ بقرہ کا خاص طور پر ذکر کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورت مناسک ِ حج کے بڑے بڑے مناسک پر مشتمل ہے، نیز سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات پر ہونے والے اعتراض کا کتنی خوبصورتی کے ساتھ جواب دیا، عالم اور مفتی لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1283
حدیث نمبر: 4483
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنَى فَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً وَكَانَ يُسَايِرُهُ قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَأَنَا لَا أَنْتَهِي فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوارتھا ‘ اسی دوران ایک اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا، اس نے سواری پراپنے ساتھ اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو سوارکیا ہوا تھا اور وہ دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو آپ نے پھر میرا چہرہ دوسری طرف کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح کیا، جبکہ میں باز نہ آ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4483]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1805»
وضاحت: فوائد: … مزدلفہ کو ”جَمْع“ اور مشعرِ حرام بھی کہتے ہیں۔ اِن دو ابواب کی احادیث میں بیان کیے گئے احکام بالکل واضح ہیں، فوائد میں حسب ِ ضرورت وضاحت ہو چکی ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے: حجاج کرام عشاء کے وقت مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی قصر نمازیں جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا کریں گے، بعد ازاں آرام کریں گے اور نماز فجر کو اس کے اول وقت میں ادا کر کے طلوع آفتاب کے قریب تک ذکر میں مصروف ہو جائیں گے، وقوف مزدلفہ کا کوئی مخصوص ذکر نہیں ہے، بہرحال تلبیہ، تکبیر اور تہلیل جیسے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، امام کو چاہیے کہ وہ مزدلفہ میں نماز فجر ادا کے قزح پہاڑ کے پاس آ جائے، پھر طلوع آفتاب سے پہلے پہلے مزدلفہ سے مِنٰی کی طرف روانہ ہو جائیں۔ یہ سفر بھی سکون اور وقار کے ساتھ ہونا چاہیے، البتہ وادیٔ محسر کو تیزی کے ساتھ عبور کرنا چاہیے۔ مزدلفہ سے روانہ ہونے کے مزید احکام اگلے ابواب میں آ رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
22. بَابُ الْأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الدَّفْعِ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنَى وَالْإِيضَاعِ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4484
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ: ( (هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ) ) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ( (السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ) ) حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ … الْحَدِيثَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی دو نمازیں جمع کر کے ادا کیں اور وہیں وقوف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزح پر وقوف کیا اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: یہ میری ٹھہرنے کی جگہ ہے، لیکن مزدلفہ سارے کا سارا ہی جائے وقوف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیئے اور کچھ تیزی سے چلنا شروع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، تو ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آرام سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آپہنچے پھر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو ہانکا، پس وہ دوڑ پڑی،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی سے باہر آگئے اور اپنی پہلی رفتار کے ساتھ چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4484]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 564»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922
حدیث نمبر: 4485
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا (وَفِي لَفْظٍ حِينَ دَفَعُوا) : ( (عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ) ) وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنَى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا (وَفِي لَفْظٍ: حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنَى) قَالَ: ( (عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ) ) وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب ہم روانہ ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سکون سے چلو۔ اور آپ اپنی اونٹنی کو بھی تیزچلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ وادیٔ محسر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چنے یا لوبیاوغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو، جن سے جمرے کو مارا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر رہے تھے، جیسے انسان اس حجم کی کنکری پھینکتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4485]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1794»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1282
حدیث نمبر: 4486
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سکینت سے جارہے تھے اور لوگوں کو بھی یہی حکم دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جمرے کو مارنے کے لیے(چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادیٔ محسر کو عبور کرتے وقت سواری کو تیز دوڑایا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1944، وابن ماجه: 3023، والترمذي: 886، والنسائي: 5/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15277»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود: 1944
حدیث نمبر: 4487
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ محسر سے دور رہو (اور وہاں سے کنکریاں مت اٹھاؤ) اور تم (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4487]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن خزيمة: 2816، والحاكم: 1/ 462، والبيھقي: 5/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1896»
وضاحت: فوائد: … تمام احکام پہلے گزر چکے ہیں اور واضح بھی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن خزيمة: 2816
23. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الدَّفْعِ لِلضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ قَبْلَ الزِّحَامِ
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 4488
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا نَزَلَتْ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَهِيَ تُصَلِّي قُلْتُ: لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قَالَ: وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
۔ مولائے اسماء عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا لوگوں کے ٹھہرنے والی جگہ کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، وہ یہ پوچھتی تھیں: چھوٹے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ یہ مزدلفہ کی رات کا واقعہ تھا اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا: جی نہیں، پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی اور پوچھا: بیٹا! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ اس وقت چاند غروب ہوچکا تھا،میں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر انھوں نے کہا: چلو چلیں، چنانچہ ہم چل پڑے اور جا کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اس کے بعد انہوں نے واپس آکر اپنی منزل پر نمازِ فجر ادا کی، میں نے عرض کیا! محترمہ ہم نے تو بہت زیادہ جلدی کی ہے، وہ بولیں: بیٹے! بالکل نہیں، اللہ کے نبی نے کمزور خواتین کو اس کی اجازت دی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4488]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1679، ومسلم: 1291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27480»
وضاحت: فوائد: … (۱۰) تاریخ کو چاند تقریباً دو تہائی رات کے تھوڑی دیر بعد غروب ہو جاتا ہے لیکن حدیث نمبر (۴۵۰۰) میں آ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن لوگوں کو رات کو مزدلفہ سے جانے کی رخصت دے دی تھی، ان کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ انھوں نے طلوع آفتاب کے بعد رمی کرنی ہے۔ اس کا جواب محولہ حدیث کے فوائد میں دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1679