الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ رَمْيِ الْجِمَارِ وَحُكْمِهَا وَعَدَدِ صِحَى الرَّمْيِ وَصِفَتِهِ وَمَنْ
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
حدیث نمبر: 4499
عَنِ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُوسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسِتِّ حَصَيَاتٍ فَقَالَ: لِيُطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ قَالَ: فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا فَسَأَلْتُهُ وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ طَاوُوسٍ فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا بَلَغَهُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَيْنَا الْجِمَارَ أَوِ الْجَمْرَةَ فِي حَجَّتِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاكَرُ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِثَمَانٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِتِسْعٍ فَلَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا
۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے پوچھاکہ اگر کوئی آدمی جمرے کو چھ کنکریاں مارے تو اس کا کیا بنے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ایک مٹھی کھانا صدقہ کرے۔ اس کے بعد جب میری مجاہد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے طاؤس کے فتوے کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، کیا سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ قول ان تک نہیں پہنچا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے موقع پر ہم نے جمرات کی رمی کی، اس کے بعد ہم بیٹھے باتیں کررہے تھے، کسی نے کہا: میں نے چھ کنکریاں ماریں ہیں، کسی نے کہا: میں نے تو سات ماری ہیں، کسی نے کہا: میں نے آٹھ ماری ہیں اور کسی نے کہا: میں نے نوماری ہیں، پھر انھوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4499]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، مجاھد لم يسمع من سعد بن ابي وقاص۔ أخرجه النسائي: 5/275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1439»
وضاحت: فوائد: … جمہوراہل علم کا مسلک یہ ہے کہ سات کنکریاں مارنا ہی ضروری ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
25. بَابُ وَقْتِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 4500
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ قَالَ سُفْيَانُ: بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَخُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: ( (أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ) ) وَزَادَ سُفْيَانُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے لڑکوں کومزدلفہ سے رات ہی کو گدھوں پر سوار کر کے روانہ کردیا تھا، سفیان کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری رانوں پر تھپکی دیتے اور فرماتے: میرے پیارے بیٹو! سورج طلوع ہونے تک جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا۔ سفیان نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقلمند آدمی طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1940، والنسائي: 5/270، وابن ماجه: 3025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:2082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2082»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۴۸۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ خواتین نے نماز فجر سے پہلے کنکریاں مار لی تھیں، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے رہے ہیں کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہیں کی جا سکتی، ان روایات میں جمع تطبیق کی دو صورتیں ہی ہو سکتی ہیں: (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم یہی ہے کہ مزدلفہ سے وقت سے پہلے چلے جانے والے معذور لوگ طلوع آفتاب کے بعد ہی رمی کریں، لیکن جن خواتین سے فجر سے پہلے رمی کی تھی،یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا اور یہ کوئی بعید بات نہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ان کو مزدلفہ سے رات کو نکل جانے کی اجازت دی ہو، لیکن انھوں نے اس سے یہ استدلال کر لیا ہو کہ وہ مِنٰی پہنچ کر رمی بھی کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ طلوع آفتاب، بلکہ طلوع فجر سے پہلے کا وقت ہو۔ (۲) جو خواتین و حضرات زیادہ بوڑھے اور زیادہ معذور ہوں اور وہ ہجوم کو برداشت نہ کر سکتے ہوں تو وہ طلوع آفتاب سے پہلے بھی رمی کر سکتے ہیں، باقی عام معذور لوگوں کو چاہیے کہ وہ سورج کے نکلنے کے بعد ہی کنکریاں ماریں۔
”یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا“ اصل بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ فجر سے پہلے رمی کرنے والوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے پھر موقوف روایت اور مرفوع کے درمیان بنیادی طور پر تعارض نہیں ہوتا۔ تعارض مرفوع صحیح روایات کے درمیان سمجھا جاتا ہے جس کو حل کرنے کے لیے توجیہیا ترجیح وغیرہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ اس جگہ مرفوع بات یہ ہے کہ آپ
”یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا“ اصل بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ فجر سے پہلے رمی کرنے والوں نے اجتہاد سے کام لیا ہے پھر موقوف روایت اور مرفوع کے درمیان بنیادی طور پر تعارض نہیں ہوتا۔ تعارض مرفوع صحیح روایات کے درمیان سمجھا جاتا ہے جس کو حل کرنے کے لیے توجیہیا ترجیح وغیرہ کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ اس جگہ مرفوع بات یہ ہے کہ آپ
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1940
حدیث نمبر: 4501
عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنَى يَوْمَ النَّحْرِ فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس ذوالحجہ کو اپنے اہل کے ساتھ منیٰ کی طرف روانہ کیا تھا، ان حضرات نے فجر ہوتے ہی رمی کرلی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس۔ أخرجه الطيالسي: 2729، والطبراني: 12220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2936»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شعبة مولي ابن عباس۔ أخرجه الطيالسي: 2729
حدیث نمبر: 4502
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعُقْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مَا زَالَتِ الشَّمْسُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی تھی اور باقی ایام تشریق میں زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15365»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1299
حدیث نمبر: 4503
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو چاشت کے وقت جمرۂ اولی کی رمی کی تھی اور اس کے بعد (باقی دنوں میں) زوالِ آفتاب کے بعد کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14406»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14406
حدیث نمبر: 4504
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے جمرہ کو کتنی کنکریاں ماریں تھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15278»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 4505
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ دس ذوالحجہ کو صبح کی نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکہ میں آ ملیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، وقد اختلف في وصله و ارساله، وارساله اصح، ثم ان ابا معاوية اضطرب في متن۔ أخرجه ابويعلي: 7000، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 3519، والبيھقي: 5/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27025»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں واقعی کسی راوی سے کوئی خطا ہو گئی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو نمازِ فجر مزدلفہ میں ادا کی تھی۔ امام احمد نے کہا: یہ بات تو تعجب میں ڈال دینے والی ہے، بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو مکہ میں کیا کرنا تھا۔ یہ بھی احتما ہے ل کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہو اور اصل عبارت یوں ہوں: أَمَرَھَا یَوْمَ النَّحْرِ أَنْ تُوَافِیَ مَعَہُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ،یعنییوم النحر کے بعد والے دن ملاقات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءً وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ
۔ نافع بن عمر جمحی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عطا ء، ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا،یہ سب لوگ دس ذوالحجہ کو فجر سے پہلے رمی کرلیتے تھے۔امام احمدنے ان سے کہا: ابو سلیمان! آپ نے یہ بات نافع بن عمر سے کس سال سنی تھی؟ انہو ں نے کہا: ۶۹ھ میں، جس سال سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20547»
وضاحت: فوائد: … حجاج کرام سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں اور تقریباً چاشت کے وقت مِنٰی میں پہنچ جائیں گے اور اسی وقت جمرۂ عقبہ کی رمی کریں گے، جو معذور لوگ پہلے سے مِنٰی پہنچ چکے ہوں گے، وہ حجاج کرام کے بڑے ہجوم کے پہنچنے سے پہلے لیکن طلوع آفتاب کے بعد رمی کریں گے۔
الحكم على الحديث:
اثر صحيح
26. بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَكَيْفِيَّةِ الرَّمْيِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَهُ
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 4507
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَقَالَ: نَاوِلْنِي أَحْجَارًا قَالَ: فَنَاوَلْتُهُ سَبْعَةَ أَحْجَارٍ فَقَالَ لِي: خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَةِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا فَرَمَى بِهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا ثُمَّ قَالَ: هَاهُنَا كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب وہ جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچے تو کہا: مجھے پتھر لا کر دو، پس میں نے انہیں سات پتھر لا دیئے، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اونٹنی کی مہار پکڑلو، اس کے بعد وہ جمرہ کی طرف گئے اور وادی کے درمیان سے سات کنکریاں ماریں، جبکہ وہ سوار تھے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہہ رہے تھے، پھر انھوں نے یہ دعا کی: اے اللہ اس کو حج مبروربنا دے اور گناہ معاف کر دے۔اس کے بعد انھوں نے کہا: جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی،اس نے اس جگہ پر کھڑے ہو کر رمی کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ’’اللھم اجعله حجا مبرورا و ذنبا مغفورا‘‘ وھذا اسناد ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه مسلم: 1296 مختصرا ودون ذكر الدعاء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:4061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4061»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ’’اللھم اجعله حجا مبرورا و ذنبا مغفورا‘‘ وھذا اسناد ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم ۔ أخرجه مسلم: 1296 مختصرا ودون ذكر الدعاء
حدیث نمبر: 4508
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِي فَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ وَاسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ … فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ وادی کے درمیان کھڑے ہوئے اور انہوں نے جمرۂ عقبہ کو اپنی دائیں جانب رکھا اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے اس کو سات کنکریاں ماریں، …۔ (الحدیث) [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4508]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ’’واستقبل البيت‘‘۔ أخرجه الترمذي: 901، وابن ماجه: 3030، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4089»
وضاحت: فوائد: … اگلی احادیث میں بیان کردہ کیفیت مذکورہ بالا کیفیت سے مختلف ہے، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں طرح عمل کیا ہو، بہرحال درج ذیل کیفیت زیادہ مشہور اور صحیح ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ’’واستقبل البيت‘‘۔ أخرجه الترمذي: 901