🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ وَقْتِ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ وَالنُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4459
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَطْحَاءِ لَيْلَةَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4459]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 3068، وأخرجه مطولا البخاري: 1561، 1762، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24998»
وضاحت: فوائد: … ”رات کے شروع“ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی رات کے داخل ہوجانے کے بعد عرفہ سے روانہ ہوئے تھے۔ عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں چلے۔ وادی بطحاء سے (نہ کہ وادی بطحاء میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندھیرا چھا جانے کے بعد چلے ہیں حدیث میں لیلۃ النفر (کوچ کرنے کی رات) سے تیرہ ذوالحج کی بعد والی رات مراد ہے جب آپ مدینہ واپس آنے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 3068
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4460
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهْرِيقَ الْمَاءَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لیے اترے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4460]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2464»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4461
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4461]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2265»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2265
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4462
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكِبْنَا حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4462]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1800»
وضاحت: فوائد: … عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور مزدلفہ سے مِنٰی تک سیدنا فضل رضی اللہ عنہ تھے، یہ ممکن ہے کہ ”ہم پھر سوار ہوئے“ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد ان کی اپنی ذات نہ ہو۔ان احادیث سے درج ذیل احکام ثابت ہوئے: غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہونا چاہیے۔ سکون اور وقار کے ساتھ چلنا چاہیے، جلد بازی اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا چاہیے، اگر کوئی کھلی جگہ مل جائے تو قدرے تیزی سے چل لینا چاہیے۔ مزدلفہ پہنچنے تک سفر کو جاری رکھنا چاہیے اور کسی عذر کے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔نمازِ مغرب راستے میں ادا نہ کی جائے، بلکہ مزدلفہ پہنچ کر نمازِ عشاء کے ساتھ پڑھی جائے۔ ذکر و تلبیہ والا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4463
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ يَسِيرَ الْعَنَقِ وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ( (السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ) ) حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَقَالَ: ( (هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4463]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 613»

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. فَصْلٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَةَ
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4464
عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ تَسَارَعَ قَوْمٌ فَقَالَ: ( (امْتَدُّوا وَسَدُّوا لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ) ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً تَعْدُو حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4464]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1920، واخرجه البخاري: 1671 بلفظ: ((ايھا الناس عليكم بالسكينة، فان البر ليس بالايضاع۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2099»
وضاحت: فوائد: … کھل کھل کر چلو تاکہ کسی کو تکلیف بھی نہ ہو اور وادی بھی بھری ہوئی نظرآئے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1920
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4465
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَسَارَ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، اونٹنی دوڑ پڑی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تا ہم ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے بلند نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ پہنچنے تک آرام سے چلتے رہے، پھر اگلے دن جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4465]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1543، 1686، ومسلم: 1286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1986»
وضاحت: فوائد: … یعنی آپ عرفہ کے وقوف کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے تھے یہ مفہوم اگلی حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4466
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ الْفَضْلِ (بْنِ عَبَّاسٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ (وَفِيهِ:) ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ قَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے اور وہاں سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ آپ کی اونٹنی دوڑ پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ اوپر کو اٹھائے ہوئے تھے، تاہم وہ آپ کے سر سے بلند نہیں تھے اس روایت میں ہے: پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ آپ جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4466]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1816»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اس سفر کے دوران جلد بازی کا مظاہرہ نہیںکرنا چاہیے اور سواریوں کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہیے، بلکہ سکون اور آرام سے چلنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1816
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَالْمَبِيتِ بِهَا
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4467
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4467]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1674، ومسلم: 1287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23945»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4468
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4468]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23970»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں