🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الدَّفْعِ لِلضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ قَبْلَ الزِّحَامِ
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4489
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ بَنِي هَاشِمٍ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَجَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں کو حکم دیاکہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے جلدی روانہ ہوجائیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4489]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 5/ 261، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1811»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 5/ 261
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4490
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے جن کمزور لوگوں کو مزدلفہ کی رات کو ہی وہاں سے پہلے بھیج دیا تھا، میں بھی ان میں تھا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے ضعیف لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4490]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1678، و مسلم: 1293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1920»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1678
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4491
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات کو مجھے بھی کمزور اور بھاری بھر کم لوگوں کے ساتھ (منی کے لیے) بھیج دیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4491]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1677، ومسلم: 1293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2204»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1677
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَاسِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَفِيضَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ مزدلفہ میں فجر کے بعد والے وقوف سے قبل ہی منیٰ کو روانہ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دے دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں یہ پسند کر رہی ہوں کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کر لیتی تو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی اجازت دے دیتے۔ قاسم مزدلفہ کے وقوف سے قبل منیٰ کی طرف جانے کواچھا نہیں سمجھتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1681، ومسلم: 1290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25142»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4493
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فِي الْإِفَاضَةِ قَبْلَ الصُّبْحِ مِنْ جَمْعٍ لِأَنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً
۔ (دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے نمازِ فجر سے پہلے روانہ ہو جانے کی اجازت دی تھی، کیونکہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4493]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24516»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24516
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4494
عَنِ ابْنِ شَوَّالٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
۔ ابن شوال کہتے ہیں کہ وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رات کو ہی مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کردیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27312»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4495
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِضَعَفَةِ النَّاسِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزور لوگوں کو اجازت دی تھی کہ وہ رات کو ہی مزدلفہ سے چلے جائیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4495]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4892»
وضاحت: فوائد: … حجاج کرام طلوع آفتاب سے کچھ دیر پہلے مزدلفہ سے روانہ ہوتے ہیں، لیکن معذور لوگوں کو رات کو جانے کی اجازت ہے، تاکہ وہ ہجوم کی تکلیف سے بچ جائیں۔ لیکن اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ یہ معذور افراد رات کے ابتدائی حصے میں نہیں جا سکتے۔ اس باب کی پہلی حدیث میں جو قانون بیان کیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا چاہے، یعنی جب ایک تہائی رات باقی رہ جائے تو اس وقت معذور لوگوں کو مزدلفہ سے جانا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4892
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ رَمْيِ الْجِمَارِ وَحُكْمِهَا وَعَدَدِ صِحَى الرَّمْيِ وَصِفَتِهِ وَمَنْ
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4496
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا}) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جبریل، ابرہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کی طرف لے کر چلے،تو شیطان سامنے آگیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں،سو وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابرا ہیم علیہ السلام جمرۂ وسطی کے پاس آئے تو پھر شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو پھر سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام جمرۂ قصویٰ کے پاس گئے، وہاں بھی شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو یہاں بھی سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اباجان! آپ مجھے باندھ دیں تاکہ جب آپ مجھے ذبح کریں تو میں نہ تڑپ سکوں اور اس طرح میرا خون آپ کے اوپر نہ پڑے، ابراہیم علیہ السلام نے اسے باندھ دیا اور جب انہوں نے چھری سنبھالی تو پیچھے سے آواز آئی: اے ابرا ہیم! ا ٓپ نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2794»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۴۱۳۷) دیکھیں۔جمہور محقق اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کیا گیا تھا، نہ اسحق علیہ السلام کو، قرآن مجید کے ظاہری سیاق و سباق کا بھییہی تقاضا ہے، ہم کتاب التفسیر میں سورۂ صافات میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4497
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ: ( (هَلُمَّ الْقُطْ لِي) ) فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ: ( (نَعَمْ بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مزدلفہ کی صبح کو فرمایا: ادھر آؤ، میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لایا، آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: جی ہاں! بالکل اسی قسم کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں حد سے تجاوز کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4497]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 3029، والنسائي: 5/ 269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1851»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن ماجه: 3029
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4498
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِبْ بَعْضُكُمْ (وَفِي لَفْظٍ: لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ) وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) ) فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ
۔ سلیمان بن عمرو کی ماں (سیدہ ام جندب ازدیہ) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دس ذوالحجہ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور فرمایا: لوگو!ایک دوسرے کو قتل کرونہ ایذا پہنچاؤ، جب تم جمرے کی رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات کنکریاں ماریں اور اس کے بعد آپ وہاں نہ رکے، ایک آدمی آپ کے پیچھے سوار تھا،جو (لوگوں کی کنکریوں سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کر رہا تھا،میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4498]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1966، 1967، وابن ماجه: 3028، 3031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16185»
وضاحت: فوائد: … جمروں کی رمی کرتے وقت ہجوم کر کے اور بڑے بڑے پتھر مار کر ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1966
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں