🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَالْمَبِيتِ بِهَا
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4469
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو، جمع کرکے مغرب کی تین اورعشاء کی دو رکعتیں، ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کیاتھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4469]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4894»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4470
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِجَمْعٍ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ: فَسَأَلَهُ خَالِدُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ
۔ عبد اللہ بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں نماز ادا کی، انہوں نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں، جب خالد بن مالک نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6400»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6400
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4471
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَمَضَى ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ كَمَا فَعَلْتُ
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب وہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی اور کوئی وقفہ کیے بغیر پھر کہہ دیا کہ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں، پھرانھوں نے دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر کہا: جس طرح میں نے کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر اسی طرح کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4471]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4452»
وضاحت: فوائد: … درج بالا بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کی گئیں، لیکن درج ذیل احادیث میں دو اقامتوں کا ذکر ہے:سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلّٰی بِھَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِاَذَانٍ وَاحِدٍ وَاِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَھُمَا شَیْئًا، ثُمْ اضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلّٰی الْفَجْرَ حِیْنَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِاَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوںکے ساتھ نماز فجر ادا کی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی اور طلوع فجر کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی۔ (صحیح مسلم)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا او رہر ایک نماز اقامت کے ساتھ پڑھی اور نہ ان دو نمازوں سے پہلے کوئی نفلی نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (سنن بیہقی: ۵/ ۱۲۰)
ذہن نشین کر لیں کہ جس صحابی نے دو اقامتوں کا ذکر کیا، اس کے پاس زائد علم ہے، نیز اس کی روایت سے ایک اقامت والی روایات کی نفی بھی نہیں ہو رہی، کیونکہ ان احادیث سے جو اقامت ثابت ہو رہی ہے، اس کا ذکر تو دو اقامتوں والی حدیث میں بھی ہے۔ لہٰذا زائد علم کو کم علم پر اور مثبت کو منفی پر ترجیح دیتے ہوئے دو اقامتوں والی احادیث پر عمل کریں گے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہی صورت ممکن ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ حج نبوی کو بیان کیا ہے، وہ اس سلسلے میں دو اقامتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس آدمی کی تصدیق نہ کی جائے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ کو دوسری حدیث کا علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ جو صحابہ کرام اس مقام پر ایک اقامت کا ذکر کرتے ہیں، انھوں نے دوسری اقامت نہ سنی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4452
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4472
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةَ) )
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3969»
وضاحت: فوائد: … مغرب و عشاء کے لیے دو اذانوں کا اہتمام کرنا، یہ عمل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، اس لیے ایک اذان والی مرفوع روایات کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے گی۔ نماز مغرب کا معتاد وقت غروبِ آفتاب کے بعد ہے، لیکن اس مقام پر اس نماز کو عشاء کے وقت میںادا کیا جاتا ہے، اسی طرح نماز فجر کا معتاد وقت وہ ہے، جب فجر واضح طور پر ظاہر ہو جائے، لیکن مزدلفہ میں اِس کو طلوع فجر کے فوراً بعد ادا کر لیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4473
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْعِشَاءَيْنِ فَإِنَّهُ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ جَمِيعًا
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، ما سوائے (مغرب اور فجر کی) ان دو نمازوں کے، کہ آپ (مغرب کی نماز کو لیٹ کر کے) مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے تھے اور دوسرے دن نمازِ فجر عام معمول کے وقت سے جلدی پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1682، ومسلم: 1289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4046»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1682
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4474
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ فِي قِصَّةِ حَجِّهِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري:1683، ومسلم: 1289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3893»

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري :1683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4475
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا)
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی تھیں اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه تاما ومقطعا البخاري: 1543، 1544، 1669، 1686، ومسلم: 1280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22108»
وضاحت: فوائد: … ابھی تک مزدلفہ میں وقوف کے مسائل جاری ہیں، اگلے باب کامطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه تاما ومقطعا البخاري: 1543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ الْوُقُوفِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَآدَابِهِ وَوَقْتِ الدَّفْعِ مِنْهُ إِلَى مِنَى) وَسَبَبِ
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمِ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ فَقَالَ: ( (هَذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ) ) ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِي ثُمَّ حَبَسَهَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ( (هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنَى كُلُّهَا مَنْحَرٌ …) ) الْحَدِيثَ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے، آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،پھر وہیں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قزح پر گئے اور وہاں وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تا ہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آئے، وہاں آکر رک گئے اور پھر اپنی اونٹنی کو ہانکا، وہ دوڑ پڑی اور دوڑتی گئی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی کو عبور کرگئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو روک کر سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا اور چلتے چلتے جمرہ عقبہ پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رمی کی اور اس کے بعد قربان گاہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے (جہاں میں نے قربانیاں کی ہیں) اور منی سارے کا سارا ہی قربانی کی جگہ ہے، …۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1922، 1935، والترمذي: 885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 562»
وضاحت: فوائد: … قُزَح ایک پہاڑ کا نام ہے، اسی کو مشعرِ حرام کہتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب فجر طلوع ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی، پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئی اور مشعرِ حرام کے پاس آ گئے، وہاں آ کر قبلہ رخ ہوئے اور دعا، تکبیراور تہلیل اور ایسے اذکار میں مصروف ہو گئے، جن میں اللہ تعالی کے ایک ہونے کا اقرار کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے رہے، یہاں تک کہ بہت زیادہ روشنی ہو گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے اور سیدنا فضل کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
(صحیح مسلم)
ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ} … ”جب تم عرفات سے لوٹ تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔ “ (سورۂ بقرہ: ۱۹۸)اگرچہ مزدلفہ میں مشعرِ حرام ایک پہاڑ کا نام ہے، لیکن اس آیت میں پورے مزدلفہ کو ہی مشعرحرام کہا جا رہا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کے وقوف کے دوران ذکر ِ کثیر کا اہتمام کیا جائے۔وادیٔ محسر وہ جگہ ہے، جہاں ہاتھی والوں کو ہلاک کیا گیا تھا، سورۂ فیل میں اسی لشکر کا ذکر ہے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وادی سے تیزی کے ساتھ گزر گئے تھے اور ایسا کرنا ہی مسنون ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1922
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4477
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ: فَرَأَى النَّاسَ يُوْضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ فَنَادَى: لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے، تم آرام آرام سے چلو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4477]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1803»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کے ”مِنْ عَرَفَۃَ“ کے الفاظ کسی راوی کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل میں یہ الفاظ یوں تھے: ”مِنْ جَمْعٍ“ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ کی محفوظ روایات کے مطابق عرفہ سے مزدلفہ تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تھے اور مزدلفہ سے آگے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے، جبکہ مسند احمد کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں مزدلفہ سے آگے کا سفر بیان کیا جا رہا ہے، اس لیے ہم نے ”مِنْ جَمْعٍ“ کے الفاظ کو درست قرار دیا، مزدلفہ کو ”جَمْعٍ“ کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4478
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَي النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُونَ الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ: وَلَقَدْ رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَي نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سواریوں کو تیز دوڑانے کی ابتدا دیہاتی لوگوں نے کی تھی، وہ دوسرے لوگوں کی گزرگاہ کے دونوں طرف کھڑے ہو جاتے اور انھوں نے اپنی سواریوں کے ساتھ لاٹھیاں، ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوتے، پھر جب وہ چلتے تو ان اشیاء سے آوازیں پیداہوتیں اور جانور ان آوازوں کو سن کر تیز دوڑنا شروع کر دیتے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس موقع پر یوں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی کو روکنے کے لئے اس کی مہار کو اپنی طرف کھینچے ہوئے تھے اور اونٹنی کے کان اس کے کندھے کی ہڈی کو لگ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جاتے تھے: لوگو! آرام سے چلو، لوگو! سکینت کو لازم پکڑو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن خزيمة: 2863، والبيھقي: 5/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2193»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن خزيمة: 2863
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں