الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الْوُقُوفِ عَلَى الدَّابَّةِ بِعَرَفَةَ وَالْخُطْبَةِ بِهَا وَالدُّعَاءِ
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4449
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْهَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیا، مزدلفہ آنے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک زمین کو نہ لگے تھے،(یعنی آپ سواری پر سوار تھے)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19694»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود
حدیث نمبر: 4450
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ (وَفِي لَفْظٍ:) رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ
۔ سیدنا نبیط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاتھا، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن بعد از زوال ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4450]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد مضطرب۔ أخرجه ابن ماجه: 1286، والنسائي: 5/ 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18928»
وضاحت: فوائد: … ”عَشِیَّۃ“ کا اطلاق زوال سے غروب آفتاب کے وقت تک ہوتا ہے۔ سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خطبہ (ظہر کی) نماز سے پہلے دیا تھا، صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4451
عَنْ أَبِي مَالِكِ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي نُبَيْطُ بْنُ شُرَيْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى عَاتِقِ أَبِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمْتُ؟) ) قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ، قَالَ: ( (فَأَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمْتُ؟) ) قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ، قَالَ: ( (فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمْتُ؟) ) قَالُوا: هَذَا الشَّهْرُ، قَالَ: ( (فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ( (اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ) )
۔ سیدنا نبیط بن شریط کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ سواری پر سوار تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا،میں سواری کے پچھلے حصہ پر کھڑا ہوگیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے والد کے کندھے پر رکھ لیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کون سادن زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگو ں نے کہا: یہ شہر۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اسی طرح احترام اور حرمت ہیں، جیسے آج کے دن کی،اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے،لوگو!کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ، اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4451]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18929»
وضاحت: فوائد: … ”اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔“ یعنی اس بات پر گواہ ہو جاؤ کہ لوگ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِن تک تیرا پیغام پہنچا دیا اور تیرا گواہ ہو جانا ہی کافی ہے۔
قارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا یہ سب سے پہلا اور آخری بڑا اجتماع تھا، اس اجتماع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا مقصد پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا، جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت والی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا، غورکریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ حرمت والے دن میں، سب سے زیادہ حرمت والے شہر میں اور
سب سے زیادہ حرمت والے مہینے میں خطاب کر رہے ہیں، حرمتوں پر حرمتیں سوار ہو رہی ہیں، لیکن تعلیم کس چیز کی دی جا رہی ہے کہ دوسرے انسان کی جان، مال اور عزت کا خیال رکھنا۔ کاش! امت ِ مسلمہ اس راز کو سمجھ جاتی اور انسانیت کی قدر ومنزلت کے تقاضے پورے کرنا شروع کر دیتی۔ حضرات! وہ تقاضے کیا ہیں؟یقینایہ اتنا طویل موضوع تو نہیں ہے، لیکن اس کو سمجھنے کے لیے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جس بہت بڑے شرعی مزاج کی ضرورت ہے، اس کا اِس زمانے میں شدید فقدان ہے۔ اپنی ذاتوں سمیت جتنے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑا، ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو احترامِ مسلمان کے تقاضے پورے کر رہا ہو، ہر شخص نے اپنی زندگی کے لیے چند ایک ناقص سی عبادات کا تعین کر رکھا ہے، جن کی بنا پر وہ اتنا کامل مسلمان بن گیا ہے کہ دوسرے ہر مسلمان کو ناقص سمجھتا ہے۔ برائے مہربانی! ان گزارشات کو مفروضہ جات مت سمجھیں،یہ حقائق ہیں، لیکن مصیبتیہ ہے کہ ہمارے مزاجوں کے اندر ان کو تسلیم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اس موقع ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نماز، روزے، حج، زکوۃ اور دوسرے واجباتِ اسلام پر عمل کرنا آسان ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی بہت مشکل ہے، الا یہ کہ مزاج کو شریعت کی روشنی سے منوّر کر لیا جائے۔ سیاسی دھڑوں، مذہبی متعصب اور غیرمنصف گروہوں، خاندانی رقابتوں، ذاتیات کے بھوتوں اور قدیم دشمنیوں اور کِینوں کی وجہ ہم نے اسلام کی ٹنڈ منڈ سی شکل کو کامل اسلام سمجھ لیا ہے، آپ خود غور کریں کہ ایک آدمی والدین کا بھی نافرمان ہو، اپنی اولاد کے اسلامی حقوق بھی ادا نہ کر رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بے نماز بھی ہو، انصاف سے بتائیں کہ ایسے بندے سے اسلام کی کون سی شِق پورے کرنے کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ محتاط اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے کے (۹۳) فی صد لوگ ان جرائم میں مبتلا ہیں۔ آس مقام پر ہم صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ایک آدمی اپنے خاندان کے ایک بزرگ کے ساتھ نمازِ عید ادا کر کے واپس آ رہا تھا، راستے میں رشتہ دار سیاسی مخالفوں کی عید گاہ پڑتی تھی، اللہ تعالی کاکرنا کہ جب وہ لوگ اپنے مخالفوں کی عید گاہ کے قریب پہنچے تو وہ بھی فارغ ہو کر باہر آنا شروع ہو گئے، اس آدمی نے اپنے بزرگ سے کہا کہ اِن لوگوں سے اب ٹاکرا تو ہو گیا ہے، اس لیے عید کی مناسبت سے ان کو مل لینا چاہیے، لیکن وہ جھٹ سے بولا: ہم کوئی بے غیرت ہیں؟ جبکہ وہ بزرگ حاجی صاحب بھی، حفظِ قرآن کی صفت سے بھی متصف تھے اور نمازوں کے بھی بڑے پابند تھے اور ان کو کافی سارا مذہبی بھی سمجھا جاتا تھا، لیکن خوشی کے موقع پر کسی مسلمان سے ملاقات کر لینا ان کے نزدیک بے غیرتی تھا۔ کئی آیات اور اَن گنت احادیث، جو ان لوگوں سے ملاقات کر لینے کا تقاضا کرتی تھیں، ان کا کیا بنے گا۔ لوگو! اپنی اصلاح کی طرف آؤ اور بزعم خود اپنے آپ کو بہت کچھ نہ سمجھ بیٹھو۔
قارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا یہ سب سے پہلا اور آخری بڑا اجتماع تھا، اس اجتماع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا مقصد پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا، جبکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت والی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا، غورکریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ حرمت والے دن میں، سب سے زیادہ حرمت والے شہر میں اور
سب سے زیادہ حرمت والے مہینے میں خطاب کر رہے ہیں، حرمتوں پر حرمتیں سوار ہو رہی ہیں، لیکن تعلیم کس چیز کی دی جا رہی ہے کہ دوسرے انسان کی جان، مال اور عزت کا خیال رکھنا۔ کاش! امت ِ مسلمہ اس راز کو سمجھ جاتی اور انسانیت کی قدر ومنزلت کے تقاضے پورے کرنا شروع کر دیتی۔ حضرات! وہ تقاضے کیا ہیں؟یقینایہ اتنا طویل موضوع تو نہیں ہے، لیکن اس کو سمجھنے کے لیے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جس بہت بڑے شرعی مزاج کی ضرورت ہے، اس کا اِس زمانے میں شدید فقدان ہے۔ اپنی ذاتوں سمیت جتنے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑا، ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو احترامِ مسلمان کے تقاضے پورے کر رہا ہو، ہر شخص نے اپنی زندگی کے لیے چند ایک ناقص سی عبادات کا تعین کر رکھا ہے، جن کی بنا پر وہ اتنا کامل مسلمان بن گیا ہے کہ دوسرے ہر مسلمان کو ناقص سمجھتا ہے۔ برائے مہربانی! ان گزارشات کو مفروضہ جات مت سمجھیں،یہ حقائق ہیں، لیکن مصیبتیہ ہے کہ ہمارے مزاجوں کے اندر ان کو تسلیم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اس موقع ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نماز، روزے، حج، زکوۃ اور دوسرے واجباتِ اسلام پر عمل کرنا آسان ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی بہت مشکل ہے، الا یہ کہ مزاج کو شریعت کی روشنی سے منوّر کر لیا جائے۔ سیاسی دھڑوں، مذہبی متعصب اور غیرمنصف گروہوں، خاندانی رقابتوں، ذاتیات کے بھوتوں اور قدیم دشمنیوں اور کِینوں کی وجہ ہم نے اسلام کی ٹنڈ منڈ سی شکل کو کامل اسلام سمجھ لیا ہے، آپ خود غور کریں کہ ایک آدمی والدین کا بھی نافرمان ہو، اپنی اولاد کے اسلامی حقوق بھی ادا نہ کر رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بے نماز بھی ہو، انصاف سے بتائیں کہ ایسے بندے سے اسلام کی کون سی شِق پورے کرنے کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ محتاط اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے کے (۹۳) فی صد لوگ ان جرائم میں مبتلا ہیں۔ آس مقام پر ہم صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ایک آدمی اپنے خاندان کے ایک بزرگ کے ساتھ نمازِ عید ادا کر کے واپس آ رہا تھا، راستے میں رشتہ دار سیاسی مخالفوں کی عید گاہ پڑتی تھی، اللہ تعالی کاکرنا کہ جب وہ لوگ اپنے مخالفوں کی عید گاہ کے قریب پہنچے تو وہ بھی فارغ ہو کر باہر آنا شروع ہو گئے، اس آدمی نے اپنے بزرگ سے کہا کہ اِن لوگوں سے اب ٹاکرا تو ہو گیا ہے، اس لیے عید کی مناسبت سے ان کو مل لینا چاہیے، لیکن وہ جھٹ سے بولا: ہم کوئی بے غیرت ہیں؟ جبکہ وہ بزرگ حاجی صاحب بھی، حفظِ قرآن کی صفت سے بھی متصف تھے اور نمازوں کے بھی بڑے پابند تھے اور ان کو کافی سارا مذہبی بھی سمجھا جاتا تھا، لیکن خوشی کے موقع پر کسی مسلمان سے ملاقات کر لینا ان کے نزدیک بے غیرتی تھا۔ کئی آیات اور اَن گنت احادیث، جو ان لوگوں سے ملاقات کر لینے کا تقاضا کرتی تھیں، ان کا کیا بنے گا۔ لوگو! اپنی اصلاح کی طرف آؤ اور بزعم خود اپنے آپ کو بہت کچھ نہ سمجھ بیٹھو۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4452
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِي يُؤْمِئُ بِيَدِهِ فِي يَدِهِ الْقَضِيبُ
۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4452]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الدارمي: 1608وانظر الحديث السابق وقبله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18931»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 4453
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَجَعَلَ يَدْعُو هَكَذَا وَجَعَلَ ظَهْرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَرَفَعَهُمَا فَوْقَ ثُنْدُوَتِهِ وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْكِبَيْهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعاکی کہ آپ کی ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھوں کو یوں بلند کیا ہوا تھا کہ وہ پستان والی جگہ سے ذرا اوپر اور کندھوں سے ذرا نیچے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4453]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11828»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب الازدي ۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 177
حدیث نمبر: 4454
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4454]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 3585 بلفظ: خير الدعاء دعاء يوم عرفة، وخير ما قلت انا والنبيون من قبلي: لا اله الا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وھو علي كل شيء قدير۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6961»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَفْضَلُ مَا قُلْتُ اَنَا وَالنَّبِیُّوْنَ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ: لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) … ”سب سے افضل کلمہ‘ جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے عرفہ کی شام کو پڑھا‘ یہ ہے: ”لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔“ (نہیں کوئی معبود برحق مگر اللہ‘ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‘ ساری بادشاہی اور ساری تعریف اسی کی ہے‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔)
(الطبرانی: ۱۳/۲)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ
عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗلَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … ”عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالی زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔“ (صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث میں ہے: (ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور جائے وقوف میں پہنچ گئے اور وہاں اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کی قصواء اونٹنی کا پیٹ (جبل رحمت کے نیچے پڑئی ہوئی) چٹانوں کی طرف تھا اور لوگوں کا مجمع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قبلہ رخ ہوئے اور غروبِ آفتاب تک اسی طرح کھڑے رہے۔ احادیث نمبر (۴۴۶۵، ۴۴۶۶) سے ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقوفِ عرفہ کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتوں کا پاس ولحاظ رکھیں، مثلا: امام کا خطبہ سننا اور اس کے ساتھ باجماعت ظہر وعصر ادا کرنا، اگر مرکزی جماعت نہ مل سکے تو اپنے اپنے خیموں میں ان دو نمازوں کو اسی طریقے کے مطابق ادا کرنا، قبلہ رخ ہو کر وقوف کرنا، کثرت سے مخصوص اذکار کرنا، دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں، گفتگو اور لمبا چوڑا کھانے پینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر سے فارغ ہو کر غروب آفتاب تک مسلسل قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے۔
تنبیہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ والے دن جمعہ تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر ادا کی تھی۔
(الطبرانی: ۱۳/۲)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ
عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗلَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … ”عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالی زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔“ (صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث میں ہے: (ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور جائے وقوف میں پہنچ گئے اور وہاں اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کی قصواء اونٹنی کا پیٹ (جبل رحمت کے نیچے پڑئی ہوئی) چٹانوں کی طرف تھا اور لوگوں کا مجمع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قبلہ رخ ہوئے اور غروبِ آفتاب تک اسی طرح کھڑے رہے۔ احادیث نمبر (۴۴۶۵، ۴۴۶۶) سے ثابت ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقوفِ عرفہ کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتوں کا پاس ولحاظ رکھیں، مثلا: امام کا خطبہ سننا اور اس کے ساتھ باجماعت ظہر وعصر ادا کرنا، اگر مرکزی جماعت نہ مل سکے تو اپنے اپنے خیموں میں ان دو نمازوں کو اسی طریقے کے مطابق ادا کرنا، قبلہ رخ ہو کر وقوف کرنا، کثرت سے مخصوص اذکار کرنا، دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں، گفتگو اور لمبا چوڑا کھانے پینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر سے فارغ ہو کر غروب آفتاب تک مسلسل قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے۔
تنبیہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ والے دن جمعہ تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر ادا کی تھی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 3585 بلفظ: خير الدعاء دعاء يوم عرفة
18. بَابُ وَقْتِ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ وَالنُّزُولِ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعٍ
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
حدیث نمبر: 4455
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ قَالَ: ( (رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ) ) قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً نَصَّ (وَفِي لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ) (وَفِي لَفْظٍ: فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ) فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ مَا يَقُولُ أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَهُ ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَقَالَ: ( (الصَّلَاةُ أَمَامَكَ) ) قَالَ: فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، (عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4455]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1666، ومسلم: 1286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22103»
وضاحت: فوائد: … یہ گھاٹی مزدلفہ کے قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اونٹ بٹھا کر پیشاب کیا۔ اس حدیث کے بعض طرق میں ہے کہ خلفاء اس گھاٹی میں نماز مغرب پڑھتے تھے۔ اس سے مراد بنو امیہ کے خلفاء اور امراء ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے موافقت نہیں کی تھی اور جنابِ عکرمہ نے ان پر انکار کیا تھا اور حافظ ابن حجر نے ان خلفاء کے اس عمل کو خلافِ سنت قرار دیا، سنت یہ ہے کہ دو نمازوںکو جمع کر کے مزدلفہ میں ادا کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1666
حدیث نمبر: 4456
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنْيَخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ مَاءً وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءً لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ أَمَامَكَ) ) قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ
۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوں نے سواریوں سے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوں نے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوں کے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4456]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه تاما ومقطعا البخاري: 1543، 1544، 1669، 1686، ومسلم: 1280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22085»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری میں اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ((فَجَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَنَاخَ کُلُّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ مَنْزِلَہٗثُمَّاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَھُمَا)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور اچھی طرح وضو کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب ادا کی، پھر ہر آدمی نے اپنی جگہ پر اپنا اونٹ بٹھایا، اتنے میں پھر اقامت کہہ دی گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشا کی نماز پڑھی اور ان دو نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه تاما ومقطعا البخاري: 1543
حدیث نمبر: 4457
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ، أَتَى الْإِمَامُ فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ ثُمَّ وَقَفَ مَعَهُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَازِمَيْنِ فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ: إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ
۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی یہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4457]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6151»
وضاحت: فوائد: … عرفات اور مزدلفہ کے درمیان دو پہاڑ ہیں، ہر ایک کو ”مَأْزِم“کہتے ہیں، ان کے درمیان ایک تنگ راستہ ہے، یہ فقہاء اور محدثین کا خیال ہے، اہل لغت کہتے ہیں کہ دو پہاڑو ں کے درمیان تنگ جگہ کو ”مَأْزِم“کہتے ہیں، جبکہ جوہری نے یہ قول نقل کیا ہے کہ لڑائی کی جگہ کو ”مَأْزِم“کہتے ہیں، اسی سے اس جگہ کا نام ہی ”مَأْزِمَیْن“ رکھ دیا گیا جو عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 4458
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قَالَ: فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَكَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَأَوْضَعَ النَّاسُ وَلَمْ يَزِدِ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات پہلے ہوئی یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوں نے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه بنحوه البخاري: 1683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3893»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه بنحوه البخاري: 1683