الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَكَيْفِيَّةِ الرَّمْيِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَهُ
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 4509
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَرَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنَى عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، اس وقت بیت اللہ ان کی بائیں جانب اور منیٰ دائیں جانب تھا، پھر انھوں نے کہا: جس شخصیت پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی، انہوں نے اسی مقام پر کھڑے ہوکر رمی کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1748، 1749، ومسلم: 1296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4150»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1748
حدیث نمبر: 4510
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعٍ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے درمیان کھڑے ہوکر جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، کسی نے ان سے کہا: لوگ تو اوپر والی جگہ کی طرف سے رمی کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! یہ اس ہستی کا مقام ہے، جس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4359»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4359
حدیث نمبر: 4511
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أُمِّي أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) ) الْحَدِيثَ
۔ سلیمان بن عمرو بن الاحوص ازدی کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک انسان تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی کنکریوں سے بچا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! کوئی کسی کو قتل نہ کر دے اور جب تم رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) کنکری مارو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3028، 3031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27672»
وضاحت: فوائد: … یعنی ایسا نہ ہو کہ ہجوم کی وجہ سے یا بڑے پتھر پھینکنے کی وجہ سے کوئی مسلمان قتل ہو جائے۔ ان احادیث میں رمی کی کیفیت کا بیان ہے، آج کل آسانی کے ساتھ اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی کو تکلیف نہیں ہو نی چاہیے، بہرحال ہر طرف سے رمی کرنا جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 3028
27. بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّكُوبِ لِرَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَالْمَشْيِ لِغَيْرِهَا
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4512
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ عَلَى دَابَّتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَكَانَ لَا يَأْتِي سَائِرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَأْتِيهَا إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر آتے تھے اور باقی دنوں میں پیدل آتے جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پیدل آتے جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4512]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 900، وأخرجه بنحوه ابوداود: 1969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6222»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ نحر والے دن رمی کرنے کے لیے سوار ہو کر جایا جائے اور باقی دنوں میں پیدل۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 900
حدیث نمبر: 4513
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو سوار ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 899، وابن ماجه: 3034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2056»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الترمذي: 899
حدیث نمبر: 4514
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ: ( (لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ذوالحجہ کو سواری پر رمی کرتے اور فرماتے تھے: اپنے مناسک سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15107»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر توجہ دیں اور اس ضمن میں کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں اور ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے بقیہ دن اور محرم اور صفر کے بعد ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1297
حدیث نمبر: 4515
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے امتی مناسک کی تعلیم حاصل کر لے اور (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4515]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14268»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14268
حدیث نمبر: 4516
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
۔ سیدنا قدامہ بن عبد اللہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو اپنی صہباء نامی اونٹنی پر سوار ہو کر وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اس وقت نہ تو مارنا تھا، نہ دھتکارنا تھا اور نہ یہ کہنا تھا کہ پرے ہٹ جاؤ، پرے ہٹ جاؤ۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4516]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 5/ 270، وابن ماجه: 3035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15489»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه النسائي: 5/ 270
حدیث نمبر: 4517
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ (الْأَحْمَسِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی اور دوسرا کپڑا اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گرمی سے بچا رہا تھا، اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27801»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں، آج کل سواری پر رمی کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1298
28. بَابُ مَا يَحِلُّ لِلْحَاجِّ وَمَا يَفْعَلُهُ بَعْدَ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
حدیث نمبر: 4518
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی،پھر جانور ذبح کیے اور پھر سر منڈوایا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 2568،و الطبراني: 12088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2253 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2253»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابويعلي: 2568